وفاقی وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید کی طرح مجھے بھی یقین ہے کہ آف شور کمپنیوں کے نام پر بات کا بتنگڑ بنایا جا رہا ہے اور وزیر اعظم یا ان کے صاحبزادوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ کے بعد میں تیسرا شخص ہوں جسے یقین ہے کہ یہ پانامہ لیکس نہیں پاجامہ لیکس ہیں جن کا مقصد جمہوریت کی چڈی اتارنا ہے۔سچ پوچھیں تو مجھے آئس لینڈ کا وزیر اعظم سیگمندر گنلائو گسن بھی اس شطرنج کے اس کھیل کا مہرہ محسوس ہوتا ہے جس نے آئو دیکھا نہ تائو ،جھٹ سے استعفیٰ دیدیا اور ہمارے قائد میاں محمد نواز شریف کی مشکلات بڑھا دیں ۔آف شور کمپنیوں کی معلومات افشاء کرنے والی پانامہ کی فرم موساک فونیسکا کے بانی Jurgen Mossack جرمنی میں پیدا ہوئے اور یہودی النسل ہیں لہٰذا قوی امکان ہے کہ جمہوریت کے خلاف حالیہ سازش یہودیوں نے تیار کی ہو۔ اس بات میں بھی بہت وزن ہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے برطانیہ میں مقیم ہیں ،ان کا کاروبار پاکستان سے باہر ہے اور آف شورکمپنیاں وہاں کے قوانین کے مطابق کام کر ہی ہیں تو ناقدین خواہ مخواہ شور کیوں کر رہے ہیں ؟یہ دلیل بھی معقول ہے کہ پاکستان میں کاروبار کریں تو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بیرون ملک سرمایہ کاری کریں تو بھی سیاسی مخالفین چین سے نہیں جینے دیتے۔وزیر اعظم نے اپنے تاریخی خطاب میں ان مشکلات اور انتقامی کاروائیوں کا بھی ذکر کیا جو گزشتہ چند دہائیوں میں ان کے راستے کا پتھر بنیں اورشاید وہ کہنا یہی چاہ رہے تھے کہ ان مشکلات کے باعث ہی ان کے بچے بیرون ملک کاروبار کرنے پر مجبور ہوئے۔سوال یہ ہے کہ جس طرح سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کے خاندان کو ابتلاء و آزمائش میں مبتلاء کیا گیا ،اسی طرح سیاسی زندگی میں بھی بیشمار رکاوٹیں آئیں ،ان کی منتخب حکومت بر طرف ہوئی ،جیل کی ہوا کھانا پڑی ،جلاوطنی کا عذاب سہنا پڑامگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی سیاست کو سمندر پار منتقل نہیں کیا اور تمام خطرات کے باوجود واپس لوٹ کر آئے کیونکہ انہیں اس دھرتی سے اور اس کے لوگوں سے پیار ہے ۔اگر وہ اس وطن سے محبت کی خاطر سیاست کو ’’ آف شور‘‘ کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تو سرمایہ کیوں بیرون ملک منتقل کر دیا؟قانونی سوالات تو عدالتوں میں ہی زیر بحث لائے جائیں گے مگر ایک عام آدمی کی حیثیت سے میرا سوال محض یہ ہے کہ فرض کیا میں مشروبات تیار کرنے والی ایک کمپنی کا سربراہ ہوں ،میں دنیا بھر میں تشہیری مہم چلاتا ہوں کہ میری کمپنی کے بنائے ہوئے مشروبات صحت بخش اور مفید ہیں لیکن اک دن پتہ چلتا ہے کہ میں جو مشروبات استعمال کرنے کی ترغیب پوری دنیا کو دے رہا ہوں ،وہ میرے اپنے بچے نہیں پیتے تو اس انکشاف کا میری کمپنی کی ساکھ پر کیا اثر ہو گا؟سموسے ،برگر،شوارما،جلیبی ، بریانی ،سری پائے ،فالودہ ،آئس کریم سمیت کسی بھی قسم کا کاروبارکرنے والے شخص کے بارے میں اس طرح کا انکشاف ہو توکیا اس کا کاروبار ٹھپ نہیںہو جائے گا؟حضور والا!آپ تو ایک ملک چلا رہے ہیں ،پوری دنیا میں کہتے پھرتے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے ایک مثالی ملک ہے ۔تکلف بر طرف ،جب ان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو معلوم ہو گا کہ اس ملک کا اپنا وزیر اعظم اور اس کے صاحبزادے ہی اپنے ملک میں کاروبار نہیں کرتے تو وہ کیوں سرمایہ کاری پر آمادہ ہونگے؟
وزیر اعظم کی اس بات سے بھی مجھے سو فیصد اتفاق ہے کہ جو لوگ کرپشن یا ناجائز ذرائع سے دولت کماتے ہیں وہ اپنے نام پر کمپنیاں اور اثاثے نہیں بناتے ۔30جون 2014ء تک کے اثاثہ جات کا گوشوارہ جو وزیر اعظم نے گزشتہ برس الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمع کروایا،اس وقت میرے سامنے موجود ہے۔4صفحات پر مشتمل اس گوشوارے میں کسی آف شور کمپنی کا ذکر نہیں حالانکہ اس کے ساتھ یہ حلف نامہ بھی لف ہے کہ بیان کیئے گئے اثاثہ جات کے علاوہ میرے یا میرے Spouse اور Dependents کے نام کوئی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد نہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گوشوارے کے مطابق میاں نواز شریف کے اپنے نام کچھ بھی نہیں ،نہ کوئی گھر نہ گاڑی،نہ کوئی کاروبار۔سب کچھ ان کی اولاد یا ان کی اہلیہ کے نام پر ہے۔ان کے اپنے نام پر جو جائیداد ہے ،وہ یا تو وراثت میں ملی ہے یا کسی چاہنے والے نے تحفتاً دی ہے۔پاکستان میں عباس اینڈ کمپنی کے نام سے ایک کاروبار کا ذکر ہے اس گوشوارے میں جس کی مالیت صرف دس ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے۔مری میں مال روڈ پر واقع 24-A,B بنگلہ ہو یا ایبٹ آباد کا شاندار محل ،یہ سب ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی ملکیت ہے۔35اپر مال پر 25کروڑ کی کوٹھی بھی کلثوم نواز کی ہے۔شوگر ملز،ٹیکسٹائل ملز اور ویونگ ملز میں شیئرز بھی کلثوم نواز کے نام سے ہیں۔نواز شریف خود تو ’’بے کار ‘‘ ہیں مگر انکی اہلیہ کے پاس تین گاڑیاں ہیں۔ایک لینڈ کروزر اور مرسیڈیز کی مالیت ظاہر نہیں کی گئی کیونکہ یہ کلثوم نواز کو تحفتاً دی گئی ہیں۔تیسری گاڑی بھی مرسیڈیز ہے جسکی قیمت 35لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔اسی طرح رائیونڈ میں جو وسیع و عریض گھر ہے ،وہ ان کی والدہ کی ملکیت ہے۔اپنے دوست پرویز رشید کی طرح مجھے بھی یقین ہے کہ میاں نواز شریف انتہائی دیانتدار اور ایماندار سیاستدان ہیں ،جنہوں نے کبھی ایک پائی کی کرپشن بھی نہیں کی۔ان کے صاحبزادوں نے بھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیامگر انہوں نے اپنے نام پر کمپنیاں اور اثاثہ جات کیوں نہیں بنائے ،بیوی اور بیٹوں کے نام کیوں ظاہر کر رکھے ہیں ،اس کا جواب انہوں نے قوم سے خطاب کے دوران خود ہی دیدیا ۔
وزیر اعظم نے اچھا کیا کہ مخالفین کا منہ بند کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے ریٹائر جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا ۔قبلہ افتخار چوہدری نے تو ارسلان افتخار کا پنڈورا بکس کھلنے پر یہ تکلف بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔ویسے ہمارے ایک دوست جو بزنس مین ہیں ،ان پر بھی مخالفین ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کا الزام عائد کرتے ہیں ۔میں تو سوچ رہا ہوں کہ انہیں بھی مشورہ دوں کہ نیب ،ایف آئی اے یا احتساب عدالتوں کے چکر میں پڑنے کے بجائے اپنے ماتحت کام کرنے والے کسی شخص کی سربراہی میں آزاد اور خود مختار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کردیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔جب سے پانامہ لیکس کا دھماکہ ہوا ہے ،لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں ،یار یہ آف شور کمپنیاں کیا ہوتی ہیں ؟کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ آف شور کمپنیاں وہ ہوتی ہیں جن کا کوئی شور نہ ہو ۔اور باقی رہ گیا یہ سوال کہ وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے پاس آف شورکمپنیوں کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا تو وزیر اعظم کاقوم سے حالیہ خطاب سن لیں یاان کا گوشوارہ پڑھ کر دیکھ لیں ،معلوم ہو جائے گا کہ ’’اتفاق ‘‘ میں برکت ہے.