• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آیئے ایک نیا پاکستان بنائیں‘ آیئے پاکستان کی ایک نئی‘ عوام دوست اور ایماندار سیاسی قیادت پیدا کریں‘ آیئے ایک حقیقی جمہوریت قائم کریں‘ آیئے ایک حقیقی وفاق بنائیں‘ مگر یہ سارے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہمیں آئین میں اور بھی کچھ مزید عوام دوست‘ جمہوریت دوست اور وفاق دوست ترامیم کرنا پڑیں گی‘ اس کے بعد اس آئین کی حفاظت کرنا پڑے گی‘ آیئے عہد کریں کہ آئندہ کسی کو بھی آئین توڑنے کی کوشش نہیںکرنے دینگے‘ مجھے احساس ہے کہ میرے یہ سارے جذبات انتہائی شدید ہیں‘ مگر کیا کریں؟ پاکستان کا جو حشر کیا گیا ہے اس کے بعد بھی جذبات مشتعل نہ ہوں؟ ابھی تو ایک بین الاقوامی ادارے ’’پاناما لیکس‘‘ نے پنڈورا بکس کیا کھولا ہے تو بشمول پاکستان دنیا کے کئی ممالک کے سیاسی قائدین کا اصل سامنے آگیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے ان انکشافات کے بعد ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب میں ان الزامات کے حوالے سے اپنی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی مگر یہ وضاحت کتنی ’’بودی‘‘ تھی اس کا اندازہ اس ملک کے عوام بخوبی لگا چکے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ شریف فیملی ملک کے اندر اور ملک سے باہر اسٹیل مل اور اسٹیل کے بیوپار کی ایک بہت بڑی بین الاقوامی پارٹی کیسے بنی؟ لوگ تو سوال کرتے ہیں کہ کراچی اسٹیل مل جو ذوالفقار علی بھٹو کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا‘ وہ تباہ کیسے ہوئی اور اسے نجی ہاتھوں میں دیا گیا مگر یہ کوشش عدلیہ نے ناکام بنادی‘ مگر اب ایک بار پھر اس اسٹیل مل کو نجی ہاتھوں میں دینے کی کوشش کی جارہی ہے‘ لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ بلوچستان کی شپنگ انڈسٹریز کیسے تباہ ہوئی اور اس کی تباہی میں کون کون ذمہ دار تھا اور بلوچستان کی شپنگ انڈسٹری کو تباہ کرنے سے پنجاب میں حکمراں فیملی کی اسٹیل انڈسٹری کو کیا تقویت حاصل ہوئی؟ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی اس تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو کو بھی مورد الزام قرار دیا ہے کہ ان کی حکومت نے ان کے باپ کی اسٹیل مل کو قومی ملکیت میں لیا تھا‘ نواز شریف صاحب بھٹو صاحب نے تو ساری نجی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لیکر ایوب خان کی کوششوں سے وجود میں آنے والے 22 خاندانوں کی کمر توڑ دی تھی جن کے ہاتھوں میں سارے ملک کی دولت اکٹھی ہوگئی تھی جب بھٹو نے یہ قدم اٹھایا تو سارے ملک کے عوام نے اس کی حمایت کی تھی۔ جہاں تک نواز شریف کی طرف سے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا تعلق ہے تو ملک میں کسی کو بھی اس سے کوئی مثبت توقعات اور انصاف کی توقع نہیں‘ شاید خود ہمارے اعلیٰ ترین جج بھی کسی حد تک اس رائے کے ہوں۔ اس سلسلے میں فی الحال عدلیہ کی فقط ایک رپورٹ کا یہاں حوالہ دے سکتے ہیں‘ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق کچھ دن پہلے سپریم کورٹ کے ایک سینئر ترین جج جسٹس ثاقب نثار نے ایک تقریب سے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’انصاف کے ناکام نظام کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کررہا ہے‘ اس کے ذمہ دار جج ہیں۔‘‘ جج کی ذمہ داری ہے کہ انصاف کے نظام کو ٹھیک کریں اور انصاف فراہم کریں‘ آپ کرمنل جسٹس کی ناکامی کی بات کرتے ہیں‘ میں تو انصاف کے سارے نظام سے ناامید ہوں‘ لوگوں کو بروقت انصاف نہیں مل رہا ہے جس کی وجہ سے مایوسی پیدا ہوئی ہے‘ لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے جسٹس سسٹم کو بہتر بنانا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاناما لیکس کی طرف سے جو انکشافات کئے گئے ہیں ان میں بشمول محترمہ بے نظیر بھٹو کے دیگر کئی ممتاز سیاستدانوں کے بارے میں بھی انکشافات کئے گئے ہیں کہ ان کی بیرون ملک آف شور کمپنیاں ہیں‘ اس فہرست میں محترمہ کا نام دیکھ کر میاں نواز شریف کی طرف سے ان کو مورد الزام قرار دینے پر شدید افسوس ہوا‘ کیا یہ غلط ہے کہ نواز شریف جب بھی اقتدار میں آئے انہوں نے محترمہ پر اس قسم کے مقدمات قائم کئے جن میں خاص طور پر سوئٹزرلینڈ میں ان کی رقوم اور سونے کے ہار کا ذکر کیا گیا مگر ان کی ہر بار کی حکومت کیا یہ بات ثابت کرسکی؟ ایک رپورٹر کی حیثیت میں‘ میں نے شہید بے نظیر بھٹو کو وزیر اعظم کی حیثیت میں کیا لیڈر آف اپوزیشن کی حیثیت میں بہت قریب سے رپورٹ کیا ہے۔
میں اس سلسلے میں کئی مثالیں پیش کرسکتا ہوں جن سے ثابت ہوگا کہ ان کے ہاتھ بھی اپنے والد کی طرح ہر گندگی سے صاف تھے۔ فی الحال میں فقط ایک مثال دیتا ہوں کہ جب سید عبداللہ شاہ سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے تو وہ اکثر مجھے مدعو کرتے تھے اور مختلف ایشوز پر صلاح و مشورے کرتے تھے‘ ایک بار جب میں کراچی میں اپنے اخبار کے آفس میں بیٹھا تھا تو سی ایم ہائوس سے ٹیلی فون آیا دوسری طرف سی ایم صاحب تھے‘ انہوں نے مجھے انتہائی اپنائیت سے کہا کہ آپ ہوسکے تو فوری طور پر سی ایم ہائوس آجائیں‘ میں نے اندازہ کیا کہ کوئی انتہائی اہم ایشو ہے لہٰذا میں فوری طور پر ان کے آفس پہنچا‘ وہ اکیلے تھے‘ اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے مگر بہت پریشان لگ رہے تھے‘ ان کے دونوں ہاتھ ان کے سر پر تھے‘ مجھے اندر آتے دیکھ کر ٹیبل پر پڑے ہوئے کچھ کاغذات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ تو دیکھیں یہ خود تو سزا کھائیں گے مگر مجھے بھی سزا دلوائیں گے‘ انہوں نے اشارتاً کہا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کاغذات ’’کس‘‘ نے بھیجے ہوں گے۔ یہ بات تو میں بھی سمجھ گیا‘ اسی دوران انہیں کچھ خیال آیا اور کہا کہ میں اپنے دوست وزیر دفاع آفتاب شعبان میرانی سے مشورہ کرتا ہوں‘ میری موجودگی میں انہوں نے میرانی صاحب سے مشورہ کیا‘ میرانی صاحب نے کہا کہ محترمہ نے تو اس سلسلے میں آپ سے کچھ نہیں کہا! جب عبداللہ شاہ نے کہا کہ نہیں محترمہ کے فرشتوں کو بھی اس بات کا پتہ نہیں‘ اس پر میرانی نے سید عبداللہ شاہ کو مشورہ دیا کہ فوری طور پر محترمہ سے بات کرکے ان سے ملاقات کا وقت لیں‘ شاہ صاحب نے میری موجودگی میں محترمہ کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ انہیں ایک اہم ایشو پر ان سے ملاقات کرنی ہے‘ محترمہ نے ان کو ایک دن بعد اسلام آباد آنے کا کہا‘ بعد میں شاہ صاحب اسلام آباد گئے اور محترمہ سے ملاقات کی‘ واپسی پر ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور بتایا کہ جب انہوں نے یہ کاغذات محترمہ کے سامنے رکھے اور سارے قصے سے آگاہ کیا تو محترمہ نے ان سے کاغذ لیکر اپنے پاس رکھ لئے اور کہا کہ یہ کام کرنے کی ضرورت نہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ محترمہ کی شہادت کے بعد پی پی کی قیادت کے دور میں سندھ کو لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنایا گیا اور ابھی تک بنایا جاتا رہا ہے‘ رینجرز‘ ایف آئی اے اور نیب سندھ میں کرپشن کے خاتمے کے لئے کئی چھاپے مار چکے ہیں‘ مگر پنجاب میں یہ ادارے خاموش رہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میں ان اداروں کو ایسی کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں‘ مگر اب فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی ہدایات پر فوج اور رینجرز نے پنجاب اور خاص طور پر سدرن پنجاب میں انتہا پسند دہشت گردوں کے خلاف محدود آپریشن شروع کیا ہے مگر اب بھی وہاں نیب اور ایف آئی اے کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں‘ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ برائے نام ’’عدالتی کمیشن‘‘ قائم کرنے کی بجائے وزیر اعظم اور ان کی ساری کابینہ مستعفی ہوجائے اور چونکہ قومی اسمبلی میں اکثریت پی ایم ایل(ن) کی ہے لہٰذا وہ ایک ’’وقتی‘‘ منی کابینہ بنائے جو حلف لیکر ملک کا نظام چلائے‘ یہی کچھ سندھ میں بھی کیا جائے‘ میرا تو خیال ہے کہ کے پی ،کے وزیر اعلیٰ بھی یہی کریں جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو یہاں کچھ دنوں تک وزیر اعلیٰ کا تعلق مڈل کلاس سے رہا ہے‘ ان کے دور حکومت میں کرپشن کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا مگر اب پھر ایک سردار بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت جوسرداروں‘ میروں‘ چوہدریوں اور وڈیروں پر مشتمل ہے اس کو گھر بٹھایا جائے اور سیاست میں ان کی شمولیت پر پابندی عائد کی جائے‘ آئین میں ترمیم کرکے امیر طبقوں کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی اور ان کی بجائے مڈل کلاس کے لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے اگر یہ کیا جاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ ایک ایسا نیا پاکستان وجود میں آئے جس کا اعلان قائد اعظم نے کیا تھا۔
تازہ ترین