آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’عیدُ الفطر‘ مسلمانوں کی اخوت و اجتماعیت اتحاد و یگانگت کا عظیم مظہر

قاری حامد محمود

صحابی رسول ؐحضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ سرکار دوجہاںﷺ نے ’’عید الفطر‘‘ کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے ارشادفرمایا: ’’جب عید الفطر ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر ’’لیلۃُ الجائزہ‘‘ انعام کی رات سے لیا جاتا ہے، اور جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ ملائکہ کو تمام شہروں میں بھیج دیتے ہیں۔ وہ زمین پر اُتر کر تمام گلیوں اور راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اورا یسی آواز سے جسے جنّات اور انسانوں کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے، پکارتے ہیں کہ اے محمدؐ کی اُمّت، اس بزرگ و برتر پروردگار کی بارگاہ کی طرف چلو جوبہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے، چناں چہ جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں، کیا بدلہ ہے اس مزدور کا، جو اپنا کام پورا کر چکا ہو، فرشتے عرض کرتے ہیں، ہمارے معبود اور ہمارے مالک، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے، تو حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے ان بندوں کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی۔ اور بندوں سے خطاب فرماکر ارشاد ہوتاہے کہ میرے بندو، مجھ سے مانگو، میری عزّت کی قسم، میرے جلال کی قسم، آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطاکروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا، میری عزّت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے، میں تمہاری تمام لغزشوں پر ستّاری کرتا رہوں گا اور انہیں چھپاتا رہوں گا، میری عزّت کی قسم اور میرے جلال کی قسم، میں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رسوا نہ کروں گا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو، تم نے مجھے راضی کر دیا اورمیں تم سے راضی ہوگیا۔ پس فرشتے اس اجر و ثو اب کو دیکھ کر جو اس اُمّت کو عیدالفطر کے دن ملتا ہے، خوشیاں مناتے اور کھل جاتے ہیں۔(التر غیب، والترہیب)

عیدالفطر امّتِ مسلمہ کے لیے جشن کا ایک مخصوص دن ہے۔ یہ دن اس ماہِ مبارک، رمضان کے اختتام پر طلوع ہوا ہے، جو روحانی بہار کا مہینہ تھا، اس مہینے کے آخری عشرے میں نور وہدایت کی کتابِ مبین (قرآن مجید) عطا کی گئی۔ عالمِ انسانیت کے لیے آخری مینارۂ نور اورسلامتی والی یہ کتاب ماہِ رمضان کی جس رات کو نازل ہوئی، وہ رات بھی اپنی شان وشوکت کے اعتبار سے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی۔ بے شمارخصوصیتوں اور برکات کے باعث پرودگارِ عالم نے رمضان المبارک کو تمام مہینوں سے افضل قرار دیا اور ہر مسلمان پر پورے مہینے کے روزے فرض قرار دیے گئے۔ اس لحاظ سے وہ لوگ بڑے خوش نصیب قرار پاتے ہیں، جو رمضان المبارک کو اس کے پورے آداب کے ساتھ عبادت و ریاضت کے ساتھ گزار تے ہیں۔عید مسلمانوں کے لیے اس اعتبار سے جشنِ مسرّت کا دن ہے کہ اس سے ایک ہی دن قبل وہ ماہِ مبارک تھا، جس میں قرآنِ حکیم نازل ہوا۔ اس اعتبار سے یہ یومِ تشکّر ہے کہ اُس پروردگارِ عالم نے ہم مسلمانوں کو اس ماہِ مبارک میں روزے رکھنے اور عبادت و اطاعت کی توفیق دی۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب مکے سے ہجرت فرما کر مدینۂ منوّرہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ( جن کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر چکی تھی) وہ جشن و مسرّت کے دو تہوار منایا کرتے تھے۔ رسول اکرمﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی کیا حقیقت ہے؟ انہوں نے کہا ہم جاہلیت میں (اسلام سے قبل)یہ دو تہوار منایا کرتے تھے( بس وہی رواج اب تک چلا آ رہاہے) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان دو تہواروں کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر فرمائے ہیں، یوم عید الاضحیٰ اور یوم عید الفطر۔

دنیا کی ہر قوم اورہر ملّت کے کچھ خاص تہوار اور خوشی منانے کے دن ہوتے ہیں، جن میں وہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ لباس پہنتے، اچھے کھانے پکاتے اور دوسرے طریقوں سے خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ عید کے معنیٰ خوشی کے ہیں، اس عید کو ’’عیدالفطر‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ نماز عید سے قبل غربا و مساکین میں فطرہ تقسیم کیا جاتا ہے۔

عیدالفطر کے بارے میں رحمت عالم ﷺ کا فرمان ہے کہ جب عیدالفطر کی رات آتی ہے تو ملائکہ خوشیاں مناتے ہیں۔ عیدالفطر و عیدالاضحیٰ اس امّت کے توحیدی مزاج اور نظریۂ حیات کے عین مطابق ہیں۔درحقیقت عیدالفطر کی سب سے زیادہ خوشی روزے دار کو ہوتی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس قدر حوصلے اور کرم سے نوازا کہ اس نے اس ماہِ مبارک کے روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کی۔’’عیدالفطر‘‘ مسلمانوں کے لیے اللہ بزرگ و برتر کا انعام ہے کہ آج مسلمانان عالم چودہ سو برس گزرنے کے باوجود اپنے حقیقی معبود کی بارگاہ میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں۔نماز عید کا یہ روح پروراجتماع اہل ایمان کے اتحاد ویک جہتی کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی مذہب اورملت میں نہیں ملتی۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید