آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال:میں اسکریپ کا کاروبار کرتاہوں، ملازمین کی اکثر تعداد مسلمان ہے، کچھ قادیانی بھی ملازم ہیں ،جن کا کھانا پینا اور رہائش سب مسلمان ملازمین کے ساتھ ہے ،کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟(رضوان شاہد ، کراچی)

جواب:قادیانی شرعی اور آئینی طورپر دائرۂ اسلام سے خارج ہیں،کیونکہ نبی کریم ﷺ کو آخری نبی ماننا اُمت مسلمہ کا متفقہ ،قطعی حتمی اورلازمی عقیدہ ہے ، ایمان کی اساس ہے ، قادیانی اِس عقیدے سے منحرف ہیں ۔قادیانیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا کاروباری لین دین کرنا حرام ہے ۔

مفتی وقارالدین رحمہ اللہ تعالیٰ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:’’ حکومتِ اسلامی میں کافر اورمرتد کے احکام میں فرق ہے ۔کافر سے معاملات جائز ہیں، جبکہ مرتد سے معاملات بھی جائز نہیں ہیں اور مرتد کسی مال کا مالک ہی نہیں رہتا ، (وقارالفتاویٰ ،ص :273)‘‘ ۔

اس اصول کی روشنی میں جو شخص پہلے مسلمان تھا،پھر اُس نے قادیانی مذہب اختیار کرلیا،تووہ مرتَد ہے اور اُس سے کسی قسم کا معاملہ رکھنا اور کاروباری لین دین جائز نہیں ہے ۔لیکن جو پیدائش کے بعد قادیانی عقیدے پرپلابڑھا ،وہ کافر ہے ،کیونکہ مرتد کی اولادکافر ہوتی ہے اورکافر کے ساتھ کاروبار اورلین دین جائز ہے ۔ہمارے ملک میں کافی ملکی اور غیر ملکی کاروباری کمپنیاں ہیں،جن کے مالکان کافر ہیں ،لیکن اُن کے ساتھ مسلمان کاروبار کرتے ہیں ،اُن کے اداروں میں ملازمت بھی کرتے ہیں،رسول اللہ ﷺ سے بھی غیر مسلموںکے ساتھ لین دین ثابت ہے :ترجمہ:’’ نبی ﷺ نے ایک یہودی سے ایک مدت کے لیے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنے لوہے کی زرہ رہن رکھی ،(صحیح بخاری:2068)‘‘۔

قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں کومعاملات رکھنے میں تردُّد اورتحفظات اس لیے ہیں کہ وہ مسلمان ہونے کے مُدّعی ہیں اوراسی بناپر وہ دستورِ پاکستان کے بھی منکر ہیں ، کیونکہ دستورِ پاکستان کی مُتفقہ طورپر منظور کی گئی دوسری آئینی ترمیم کی رُوسے قادیانی کافر ہیں ۔جس دن یہ لوگ دستورِ پاکستان کولفظاً اور معنیً تسلیم کرلیں گے اوراپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرلیں گے ،توپھر اُن کے ساتھ کاروباری معاملات میں مسلمانوں کوکوئی تحفظ نہیں رہے گا۔نیز آپ کے پاس جو مسلمان ملازم ہیں ، ان کا قادیانیوں کے ساتھ رہن سہن ،اس لیے جائز نہیں کہ کہیں وہ مسلمانوں کو گمراہ نہ کردیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ:’’اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو ،(سورۂ انعام:68)‘‘۔البتہ انسان کا جوٹھا پاک ہے ۔

غرض اتفاقات کا مسئلہ الگ ہے ، کسی انسان کا جوٹھا ،خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ،ناپاک نہیں ہوتا ،ماسوا اس کے کہ اس نے تازہ شراب پی ہو یا خنزیر کا گوشت کھایا ہو اور اس کے اجزاء بدستور اس کے منہ میں باقی ہوں ۔تاہم قادیانیوں سے میل جول سے اجتناب کرنا چاہیے ،لیکن وہ اس درجے میں نہ ہوکہ لوگ اسے انسانیت سے نفرت پر محمول کریں ۔

اقراء سے مزید