آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انگلینڈ اور ویلز میں ٹیسٹ اینڈ ٹریس سسٹم کا اجرا کردیا گیا

لندن (وجاہت علی خان) انگلینڈ اور ویلز میں ’’نیشنل ہیلتھ سروسز‘‘ کے ’ٹیسٹ اینڈ ٹریس‘ سسٹم کا اجراء کردیا گیا ہے اس سسٹم کا مقصد لاک ڈائون کی پابندیوں کو ختم کرنا اور حکومت کے اہداف کیطرف بڑھنا ہے، ’’این ایچ ایس‘‘ کی ٹیسٹ اینڈ ٹریس ٹیم کیلئے کام کرنے والے 25,000ورکر دو ہزار سے زیادہ ان افراد سے رابطہ کریں گے جنہیں گزشتہ بدھ کو چیک کیا گیا اور ان کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے تھے، انہیں بتایا جائے گا کہ انہیں خود کو دوسروں سے کس طرح الگ رکھنا ہے ان سے یہ بھی پوچھا جائیگا کہ وہ کس سے ملے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاپ ہوچکے ہیں ان سے رابطہ رکھنے والوں میں سے کسی کو بھی انفیکشن کا خطرہ ہوا تو انہیں 14روز کیلئے الگ تھلگ رکھا جاسکتا ہے چاہے وہ کورونا وائرس میں مبتلا نہ بھی ہوں، سیکرٹری صحت میٹ ہنکوک نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے لوگوں کی اکثریت اس رضا کارانہ نظام میں حصہ لے گی کیونکہ وائرس کے خلاف اس جنگ میں ہم سب اکھٹے ہیں اور ہمیں یکمشت ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہے، شمالی آئرلینڈ پہلے ہی یہ پروگرام شروع کرچکا ہے جبکہ ویلز میں بھی جون کے پہلے ہفتے یہ پروگرام شروع ہوجائے گا۔ اس ضمن میں یہ اصول پہلے سے موجود ہے کہ کورونا وائرسے متاثرہ شخص کو 14روز کیلئے دوسروں سے الگ رہنا ہے لیکن اب اس نئے رول کے مطابق مثبت علامات ہر فرد کو 119پر فون کرکے اپنے لئے ٹیسٹ کی تاریخ لینا پڑے گی اگر اس کا ٹیسٹ منفی ہے تو ٹھیک لیکن اگر یہ مثبت ہوا تو ’’این ایچ ایس ٹیسٹ اینڈ ٹریس ٹیم‘‘ یا مقامی پبلک ہیلتھ ٹیم متاثرہ فرد سے فون، ٹیکسٹ یا ای میل کے ذریعہ ابتدائی رابطہ کرے گی اور انہیں مناسب ہدایات دے گی۔ سیکرٹری صحت کے مطابق جو لوگ اس وائرس سے صحت یاب بھی ہوچکے انہیں بھی خود کو الگ تھلگ رکھنا چاہئے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ وہ پھر بھی وائرس دوسروں کو منتقل کرسکتے ہیں یا نہیں، رائل سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سکیم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رابطے کس قدر جلد ممکن ہوں گے اور کیا عوام اس پر عمل کرتے ہیں۔
یورپ سے سے مزید