آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شوگر کمیشن کی 347صفحاتی تفصیلی رپورٹ، ویسے تو آپ جیرے بلیڈوں، بنارسی ٹھگوں کی لُٹ مار، دس نمبری داستانیں ملاحظہ کرچکے، مگر کچھ چتر چالاکیاں اتنی مزیدار، جی چاہ رہا، انہیں پھر سے دہراؤں، 5منٹ کی توجہ چاہئے، مزا نہ آیا تو پیسے واپس، رپورٹ بتائے۔

5برسوں میں شوگر ملوں نے ٹیکس دیا 22ارب، 12ارب ریفنڈ کلیم کر لیا، مطلب 12ارب واپس لے لئے، یہی نہیں، 5برسوں میں 29ارب کی سبسڈی لے لی، مطلب ٹیکس دیا 22ارب، اس میں سے 12ارب واپس لے کر 29ارب سبسڈی بھی لے لی، مطلب 19ارب یہاں سے کمالئے، آگے آجائیے، پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 6ارب کلو، اب اگر ایک روپیہ فی کلو قیمت بڑھے تو شوگر مافیا کو 6ارب کا فائدہ، شوگر مافیا نے کیاکیا، رپورٹ بتائے، 2017-18میں شوگر ملوں نے چینی لاگت رکھی 51 روپے فی کلو حالانکہ اصل لاگت تھی 38روپے فی کلو، مطلب 13روپے فی کلو زیادہ رکھی، 2018تا 19میں شوگر ملوں نے چینی لاگت رکھی 52.6روپے فی کلو حالانکہ اصل لاگت 40.6روپے فی کلو، 2019-20میں شوگر ملوں نے چینی لاگت رکھی 62روپے فی کلو حالانکہ اصل لاگت 46.4روپے فی کلو، مطلب 15.6روپے فی کلو زیادہ رکھی۔

بات یہیں نہیں رکتی، اگر ہم شوگر مافیا کی یہ بات مان لیں کہ 2019-20ءمیں چینی کی فی کلو لاگت 62روپے، تو بھی اس وقت مارکیٹ میں چینی بک رہی 85روپے فی کلو، مطلب شوگر مافیا کی اپنی بتائی لاگت سے 23روپے فی کلو زیادہ، اب ہماری چینی کھپت 6ارب کلو جبکہ ایک کلو پر 23روپے اضافی وصول کیے جارہے، شوگر مافیا عوام کی جیبوں سے کتنا نکال رہا۔

یہ حساب کتاب خود ہی کر لیں، آگے آجائیے، شوگر کمیشن رپورٹ بتائے، اکتوبر 2017سے فروری 2020تک 723ارب کی چینی بیچی گئی، جس میں سے 517ارب کی چینی بے نامی بیچی گئی، مطلب 70فیصد چینی کاروبار ٹرک ڈرائیوروں، نائب قاصدوں، گن مینوں، سیکورٹی گارڈوں، مل ملازموں کے شناختی کارڈوں پر ہوا۔

اسی طرح 6ملوں نے 5ماہ میں 21ارب کا بے نامی چینی کاروبار کیا، جس میں جہانگیر ترین ملوں نے 15ارب، خسرو فیملی اینڈ پارٹنر مل نے ڈیڑھ ارب، حمزہ شوگر مل نے ڈیڑھ ارب،ہنزہ اور المعزشوگر ملوںنے 87ستاسی کروڑ جبکہ شریفوں کی العریبیہ شوگر مل نے 80کروڑ بےنامی چینی کا کاروبار کیا۔

آگے آجائیے، رپورٹ بتائے، جہانگیر ترین کے مل کھاتوں میں 6ارب سے زائد پڑے ملے، شوگرکمیشن نے پوچھا، یہ رقم کہاں سے آئی، بتایا گیا یہ ان 20 اکیس لوگوں کے پیسے، جنہوں نے چینی خریدنے کیلئے ایڈوانس پیسے دے رکھے، شوگر کمیشن نے ان 20اکیس لوگوںکی فہرست لی۔

ان سے رابطہ کیا، سب کا ایک ہی جواب، ہم نے ایک روپیہ بھی ایڈوانس نہیں دیا ہوا، ہمیں نہیں پتا یہ پیسے کس کے، آگے آجائیے، دسمبر 2017میں بحیثیت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 10روپے 70پیسے فی کلو کے حساب سے 20ارب کی سبسڈی دی،وفاق سے یہ سبسڈی لے کر مراد علی شاہ نے مبینہ طور پر مزید 9روپے 30پیسے فی کلو کے حساب سے ساڑھے چار ارب کی مزید سبسڈی دیدی وہ بھی صرف اپنی سندھ ملوں کواور یہ سبسڈی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے نہیں بلکہ سندھ بینک کے ذریعے دی گئی۔

آگے آجائیے، شوگر کمیشن رپورٹ میں عثمان بزدار، اسد عمر، رزاق داؤد پیش ہوئے، کمیشن رپورٹ کے مطابق تینوں کمیشن کو مطمئن نہ کر سکے، مطلب عثمان بزدار اپنی دی سبسڈی کو جسٹیفائی نہ کر سکے، رزاق داؤد اور اسد عمر ایکسپورٹ کو جسٹیفائی نہ کرسکے، عثمان بزدار سے شوگر کمیشن نے کہا، 4دسمبر کو ای سی سی شوگر ملوں سے کہے، سبسڈی صوبوں سے لے لیں۔

6دسمبر کو آپ شوگر کمیٹی پنجاب کا اجلاس بلاکر صدارت فرما لیں، یہ فیصلہ کر لیں کہ 6روپے 35پیسے فی کلو کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، حالانکہ تب تک تو آپ کو ای سی سی کا تحریری فیصلہ ہی نہیں ملا تھا، اتنی جلدی کیا تھی۔

عثمان بزدار بولے ’’کونسا اجلاس، میں نے تو کوئی اجلاس نہیں بلایا تھا‘‘ یہ جواب سن کر شوگر کمیشن نے 6دسمبر اجلاس کے منٹس سائیں بزدار کے سامنے رکھ دیے، جسے دیکھ کر وہ بولے، ’’اچھا مجھے کچھ یاد نہیں‘‘۔

اسی طرح اسد عمر سے شوگر کمیشن نے پوچھا، دو مہینے پہلے آپ سبسڈی، ایکسپورٹ کی اجازت دینے سے انکار کر دیں، مگردومہینے بعد آپ 10لاکھ ٹن کے بجائے 11لاکھ ٹن ایکسپورٹ کی اجازت دے کر نہ صرف یہ بھی فرمادیں کہ سبسڈی صوبوں سے لے لیں بلکہ شوگر ملوں کو نواز دور کی رکی 2ارب سبسڈی بھی دلوا دیں، ایسا کیوں، اسدعمر کا جواب تھا،اس وقت ملک کو ڈالروں کی ضرورت تھی، اس لئے ایکسپورٹ کی اجازت دی، شوگر کمیشن نے کہا کہ ملک کو ڈالروں کی ضرورت تو دوماہ پہلے بھی تھی، مگر تب آپ نے ایکسپورٹ کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

کیوں،اس پر اسد عمر کمیشن کو مطمئن نہ کر سکے۔یہی حال رزاق داؤد کا، وہ بھی شوگر کمیشن کو مطمئن نہ کر سکے،اب صورتحال یہ، اگر جہانگیر ترین، خسرو فیملی اور باقی شوگر مافیا ملزم تو سبسڈی اور ایکسپورٹ کی اجازت دینے والے بھی ملزم، ای سی سی نے بھی ایکسپورٹ فیصلے کی منظوری دی، لہٰذا اگر کوئی جرم ہوا تو وفاقی کابینہ، ای سی سی بھی اس میں شریک، مطلب اگر ایکسپورٹ، سبسڈی جسٹیفائی نہیں، یہ غلط تو جہاں یہ سب کرنے والے قصور وار وہاں کروانے والے مطلب اجازت دینے والے بھی قصوروار۔

باقی ابھی10 شوگر ملوں کا آڈٹ ہوا، کیا ہی اچھا ہو باقی 70شوگر ملوں کا بھی آڈٹ ہو جائے، کیا ہی اچھا ہو پاکستان میں گنے کی سپورٹ پرائس فکس کرنا ختم ہو جائے، شوگر ملیں مارکیٹ ریٹ پر گنا خریدیں، کسان مارکیٹ ریٹ پر گنابیچیں، کیا ہی اچھا ہو سبسڈی دینے پر پابندی لگ جائے۔

حکومت وہاں سے چینی خریدے جہاں سے اسے سستی ملے، شوگر ملیں وہاں چینی بیچیں، جہاں انہیں منافع ہو، شوگر ملوں سے کہہ دیا جائے وہ ایکسپورٹ کرنا چاہیں کریں نہ کرنا چاہیں نہ کریں، سبسڈی نہیں ملے گی۔