آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تمباکو کمپنیوں کی ودہولڈنگ ٹیکس 10سے بڑھا کر 500 روپے فی کلو کرنیکی تجویز

اسلام آباد ( مہتاب حیدر) تمباکو کی بڑی کمپنیوں نے جی ایل ٹی ( گرین لیف تھریشنگ) میں غیر تیار شدہ تمباکو پر قابل توازن ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس کو 10 روپے فی کلو سے بڑھا کر 500 روپے فی کلو کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے خصوصی زرعی مصنوعات کا اجلاس آج ہوگا۔ یہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی لابنگ کا نتیجہ ہے کیوں کہ گزشتہ بجٹ کے موقع پر مذکورہ ودہولڈنگ ٹیکس 300 روپے فی کلو سے کم کرکے 10 روپے فی کلو کردیا گیا تھا۔ اس ضمن میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس سے متعلق نوٹس جاری کردیا ہے۔ اکتوبر 2018 سے جولائی 2019 میں آٹھ ماہ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ( ایف ای ڈی) میں 93 فیصد اضافے کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے تمباکو صنعت سے حاصل کیا گیا ٹیکس مالی سال 2019-20 میں کم رہا۔ ٹیکس میں اس اضافے سے امید کی جاسکتی ہے کہ حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا لیکن ملک میں ٹیکس چور طبقہ بھی موجود ہے جو ٹیکس اضافے کو اپنے مفاد میں استعمال کرسکتا ہے۔ گزشتہ وفاقی بجٹ میں اس وقت کے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا تھا کہ حکومت کے تخمینے کے مطابق تمباکو صنعت سے حاصل کیا جانے والا ٹیکس 124 ارب روپے سے بڑھ کر 147 ارب روپے ہوجائے گا۔ ٹیکس میں اضافے کی ہر کوشش کے نتیجے میں ٹیکس چوری والی مصنوعات کے استعمال میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ فی الوقت بھی ٹیکس ادا کی گئی سگریٹ اور ٹیکس چوری والی سگریٹ کی قیمتوں میں 40 روپے کا فرق ہے۔ لہذا اس حوالے سے حکومتی آمدنی تخمینے سے کم رہنے کا امکان ہے۔ ایف بی آر ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دو بڑی کمپنیاں جو کہ مجموعی تمباکو ٹیکس آمدنی کا 98 فیصد فراہم کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے ایف بی آر کو تجویز دی ہے، جس سے حکومت کی رواں مالی سال کی آمدنی 116 ارب روپے سے بڑھ کر آئندہ مالی سال میں 140 ارب روپے ہوجائے گی۔ اگر بغیر ڈیوٹی ادا کی گئی سگریٹ کا مکمل خاتمہ کردیا جائے تو ایک تخمینے کے مطابق حکومت کو ہر سال 77 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومتی آمدنی کا 98 فیصد ٹیکس ادا کرنے والی صنعت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جب کہ ٹیکس ادا نا کرنے والی صنعت کا مارکیٹ میں 38 فیصد حصہ ہے جو کہ حکومت کی مجموعی آمدنی کا صرف 2 فیصد بنتا ہے۔ گزشتہ برس قابل توازن ایڈوانس ایف ای ڈی کے حوالے سے جو اقدام کیا گیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ سینیئر ایف بی آر عہدیدار نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹیکس چوری میں ملوث سگریٹوں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے ایف بی آر ستمبر 2019 میں دوبارہ متحرک ہوا اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک قائم کیا، جس کے ذریعے غیرقانونی مشروبات، شکر، کھاد، سیمنٹ اور تمباکو کو کنٹرول کیا جائے۔ تاہم یہ کوششیں سودمند ثابت نا ہوئیں ماسوائے گزشتہ ماہ کچھ پابندیوں کے، لہذا اس حوالے سے مستقل مزاجی اور منصوبہ بندی کے ذریعے اقدامات کی ضرورت ہے۔

ملک بھر سے سے مزید