آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وفاقی بجٹ میں برآمدی صنعتوں کو ریلیف ملنا چاہئے‘ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹری

اسلام آباد (حنیف خالد) سنگین معاشی بحران کے پیش نظر ایس آ ر او 1125بحال کیا جائے۔ وفاقی بجٹ میں برآمدی صنعتوں کو ریلیف ملنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے سرپرست اعلیٰ کیپٹن اے معیز خان اور صدرنسیم اختر نے کہا ہے کہ کورونا کے باعث دنیا بھرمیں باالخصوص پاکستان میں جاری سنگین معاشی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدی صنعتوں پرسیلز ٹیکس سمیت دیگر اضافی ٹیکسوں کو ختم کیا جائے تاکہ برآمدی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں بلاکسی مالی مشکلات کے دوبارہ بحال ہوسکیں اور ملکی برآمدات میں اضافے کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل میں کہا کہ ملک کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کیلئے برآمدی صنعتوں کو ریلیف دینے کا یہی مناسب وقت ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے پیدا ہونے والے موجودہ حالات میں ملکی صنعتوں خاص طور پر برآمدی صنعتوں کو بہت زیادہ مالی بحران کا سامنا ہے لہٰذا برآمدی صنعتوں کو ٹیکسوں میں ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ 5زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کیلئے ایس آر او 1125بحال کر کے ”نوٹیکس نوریفنڈ“ کی سہولت دی جائے تاکہ برآمدی صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم کیا جاسکے اور برآمد کنندگان بین الاقوامی مارکیٹوں میں مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پاکستان کو معاشی طور پر فائدہ اٹھانا چاہئے۔ پاکستان برآمدی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور ٹیکسوں میں ریلیف دے کر عالمی سطح پر اپنا نمایاں شیئر بڑھا سکتا ہے لہٰذا برآمدی صنعتوں پر 17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ کسی صورت دانشمندانہ اقدام نہیں۔ حکومت پہلے ٹیکس لیتی ہے اور پھر واپس کرتی ہے اور ساری مشنری ٹیکس ریفنڈ کے اضافی کاموں میں لگ جاتی ہے اس سے بہتر ہے کہ ایف بی آر عملے کو ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر مامور کیا جائے۔ انہوں نے درخواست کی کہ برآمدی صنعتوں کیلئے سیلز ٹیکس فری حکمت پالیسی اختیار کیا جائے اور 17فیصد سیلز ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس لے کر ”نوٹیکس نوریفنڈ“ کی پالیسی کا اعلان کیا جائے تاکہ صنعتوں کو برآمدات کو فروغ دینے کی ترغیب دی جاسکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمدی صنعتوں سے سیلز ٹیکس کی وصولی کے بعد اگر فاسٹ ٹریک پر بھی سیلز ٹیکس ریفنڈ دیا جائے تب بھی ریفنڈ میں 3سے4ماہ لگ جاتے ہیں جس کا مطلب برآمدی صنعتوں کی 64فیصد سرمایہ کاری4 ماہ تک پھنس کر رہ جاتی ہے اور برآمد کنندگان کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا رہتا ہے لہٰذا وزیراعظم عمران خان برآمدات کو فروغ دینے کیلئے 5زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کیلئے ایس آر او 1125بحال کریں تاکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم کی جاسکے اور برآمدات کو فروغ دے کر ملک کو برق رفتاری سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکے۔
ملک بھر سے سے مزید