ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر ایسکی شہر کے ضلع میحال غازی کی میئر زینب گونیش آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس میں شریک ہوئیں، جہاں وہ صدر کے ہمراہ نشست پر براجمان ہوئیں۔
ان کی آمد پر ایوان تالیوں سے گونج اٹھا جبکہ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایسکی شہر سے تعلق رکھنے والی سو خواتین بھی سفید دوپٹے اوڑھے اجلاس میں شریک ہوئیں۔
صدر اردوان نے اپنے خطاب میں زینب گونیش کو اناطولیہ کی روایتی وقار کی نمائندہ قرار دیتے ہوئے 28 فروری کے دور کی "فاشسٹ اور متکبر ذہنیت" کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں باحجاب خواتین کے حقوق سلب کرنے والی پابندیوں کو کبھی قبول نہیں کیا گیا اور نہ آئندہ کیا جائے گا۔ صدر نے واضح کیا کہ خواتین کو نشانہ بنانے یا ماضی کی قدغنوں کو زندہ کرنے کی کسی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران میئر زینب گونیش صدر کے خطاب کے وقت آبدیدہ ہو گئیں۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اپنے لباس کے باعث تنقید کی زد میں آنے کے بعد صدر اردوان نے انہیں ٹیلیفون کر کے حمایت کا یقین دلایا تھا اور گروپ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
یہ اجلاس ترکیہ میں خواتین کی سماجی و سیاسی نمائندگی اور ماضی کی پابندیوں کے خلاف حکومتی مؤقف کی تجدید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔