آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عید سے دو روز قبل کراچی میں پی آئی اے طیارے کی ہولناک تباہی کے نتیجے میں 99افراد کی موت نے عید کی خوشیاں جو کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے باعث پہلے ہی ماند پڑ چکی تھیں، سوگ میں بدل دیں اور مجھ سمیت ہر پاکستانی کو دکھی کردیا۔ میرے دکھی ہونے کی ایک وجہ کچھ جاننے والوں اور دوستوں کا مجھ سے جدا ہونا تھا جو اِس بدقسمت طیارے میں سوار تھے جن میں معروف بزنس مین شبیر احمد، ممتاز بینکر زین پولانی اور اُن کی فیملی بھی شامل تھی۔ گزشتہ دنوں زین پولانی اور اُن کی اہلیہ کی نماز جنازہ میں، میں بھی شریک ہوا۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی کیونکہ زین پولانی کی پوری فیملی فضائی حادثے کی نذر ہو گئی تھی۔ قبرستان میں ایک دوسرے سے ملی پانچ قبریں تیار کروائی گئیں جس میں سے دو میتوں کی تدفین ہوئی جبکہ باقی 3قبروں میں بچوں کی میتیں ملنے کے بعد تدفین کی جائے گی۔ زین پولانی میرے قریبی دوست، معروف بزنس مین یحییٰ پولانی کے بھتیجے تھے اور ایک نجی بینک میں سینئر عہدے پر فائز تھے۔ اُن کی اہلیہ سارہ لندن میں پی ایچ ڈی کررہی تھیں جو لندن کے اسکول میں زیر تعلیم اپنے تین بیٹوں کے ہمراہ عید منانے پی آئی اے کی خصوصی فلائٹ سے لاہور آئی تھیں جبکہ اُن کے شوہر زین پولانی اپنی اہلیہ اور بچوں کو لینے کراچی سے لاہور گئے تھے مگر بدقسمتی سے پوری فیملی کراچی واپسی پر فضائی حادثے کا شکار ہو گئی۔ اِسی طرح میرے ایک اور قریبی دوست، معروف بزنس مین شبیر احمد بھی اِسی طیارے میں لاہور سے کراچی آرہے تھے اور فضائی حادثے کا شکار ہو گئے۔ شبیر احمد، پاکستان بیڈ ویئر ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے طویل عرصے تک چیئرمین رہے اور اُن کا شمار ہوم ٹیکسٹائل کے بڑے ایکسپورٹرز میں ہوتا تھا۔ اُن سے اکثر میری ملاقات رہتی تھی اور وہ پاکستان کی گرتی ہوئی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کے بارے میں فکر مند رہتے تھے۔

کہتے ہیں کہ موت کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ایسا ہی کچھ طیارے میں سوار مسافروں اور جائے حادثہ پر گھروں میں بیٹھے افراد کے ساتھ ہوا لیکن طیارے میں دو ایسے خوش نصیب مسافر بھی سوار تھے جو معجزانہ طور پر بچ گئے جن میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی تھے جو معروف اداکار منور سعید کے بیٹے ہیں۔ ظفر مسعود کے بقول جب طیارہ کریش ہوا تو وہ جہاز کی سیٹ سمیت نیچے کھڑی ایک گاڑی پر جاگرے جس میں ایک وکیل اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیٹھے تھے جنہوں نے انہیں ریسکیو کرکے اسپتال پہنچایا۔ ظفر مسعود کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اُن کی والدہ کی دعائوں کی بدولت ممکن ہوا کیونکہ وہ جب بھی سفر پر جاتے تو والدہ سفر کی دعا پڑھ کر اُن پر پھونکتی تھیں اور حادثے کے روز بھی والدہ نے سفر کی دعا پڑھ کر اُن پر پھونکی تھی۔

قیامِ پاکستان سے اب تک مسافر طیاروں کے 12حادثات پیش آچکے ہیں جن میں سے 10حادثے پی آئی اے اور 2نجی ایئرلائن کے شامل ہیں مگر آج تک کسی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔ حادثے کی تحقیقات کیلئے ایئربس کمپنی کے 11ماہرین فرانس سے پاکستان تشریف لائے اور 5دن تحقیقات کرکے واپس لوٹ گئے جو طیارہ حادثے کی حتمی رپورٹ تیار کریں گے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ طیارے کے ملبے سے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر بھی دستیاب ہو گیا ہے جسے فرانس بھیج دیا گیا ہے جہاں پاکستانی ماہرین کی نگرانی میں ڈی کوڈنگ کی جائے گی۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایسے میں جب ہر گلی اور محلے میں CCTVکیمرے نصب ہیں، پائلٹ کی جہاز کو رن وے پر لینڈ کرنے کی پہلی کوشش کی CCTVاب تک منظر عام پر کیوں نہیں آئی؟ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی حادثے کے بعد معاوضے کا اعلان کرکے حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ حالیہ سانحہ کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کراچی آکر طیارے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے معاوضے کا اعلان کرکے واپس لوٹ گئے۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ وزیراعظم عمران خان کراچی تشریف لاتے اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کرتے۔ عام طور پر اس طرح کے سانحہ پر قومی سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے مگر حکومت نے اس کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔

حالیہ سانحہ میں ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ طیارے میں کوئی فنی خرابی تھی یا پائلٹ کی غلطی تھی تاہم جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ جنم لیتا ہے تو کوئی ادارہ اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر پائلٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے تو پائلٹ ایسوسی ایشن اسے ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم طیارے کی Worthinessیا مینٹی نینس کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرائیں تو متعلقہ ادارہ بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے جبکہ سول ایوی ایشن (CAA) کا رویہ بھی ان سے مختلف نہیں کیونکہ ان اداروں میں کام کرنے والوں کی یونینز سیاسی اثر و رسوخ رکھتی ہیں اور ایسی صورتحال میں حکومت یا تو انکوائری رپورٹ جاری نہیں کرتی یا پھر کسی کو قربانی کا بکرا بناکر سانحہ کو فراموش کردیا جاتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وزیراعظم کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر حادثے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف رپورٹ منظر عام پر لائیں گے تاکہ آئندہ ایسے سانحات کا تدارک کیا جاسکے۔