آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ذیقعد 1441ھ9؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر:نعیم نقشبندی۔۔لندن
چند ہفتوں سے ایک منظم سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قومی ائر لائن پی آئی اے کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مہم جاری ہے، میں یہ بھی
نہیں کہتا کہ قومی ائرلائن پی آئی اے کے حوالے سے عوام کو کوئی بھی شکایات نہیں،سفارش کلچر ،کرپشن، پُرانے جہاز، سیٹس کی ٹی وی سکرینوں کا کام نہ کرنا ،ورکرز یونینزاور پائلٹس یونینز کی بلیک میلنگ ،گراؤنڈ اسٹاف ، جہاز عملہ کا رویہ ، سیلز ڈیارٹمنٹ و ٹکٹس قیمتیں ، فلائٹس میں کھانے کے معیار سمیت دیگر ایشوز کے حوالے سے مسافروں کی بے شمار شکایات موجود ہوں گی اور اوورسیز کمیونٹی ، میڈیا اور بالخصوص راقم نے کئی بار ان مسائل کو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ، سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر اجاگر کرنے کیساتھ ساتھ او پی ڈبلیو سی تنظیم کے پلیٹ فارم سے ارباب اختیار کو عوامی شکایات کےازالے کے حوالے سے بے شمار خطوط بھی لکھے مگر ان سب چیزوں کے باوجود اگر سوچا جائے تو یہ واحد قومی ائر لائن ہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے برطانیہ ، یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت دیگر ممالک سے مسافروں کو براہ راست سروس مہیا کر رہی ہے۔ بے شک ایک ایسا وقت بھی تھا جب پی آئی اے دنیا کی بہترین ائر لائن تھی اور پی آئی اے کی تقلید اور ٹریننگ سے بعض ممالک نے اپنی ائرلائنز کو سڑیم لائن کر کے ترقی کی۔ اوورسیز پاکستانیز کی برطانیہ و یورپ اور دیگر ممالک میں فوتگی کی صورت میں میتوں کو پاکستان لے جانے کیلئے پی آئی اے واحد ایک ایسی ائر لائن ہے جو گزشتہ 14 سال سے میت کی فری سروس مہیا کر رہی ہے اور میت کو پاکستان بھجوانے کیلئے صرف ایک سو پونڈز چارجز، کارگو ہینڈ لنگ ایجنٹ کو ادا کئے جاتے ہیں۔ پڑوسی ممالک بنگلہ دیش ، افغانستان، بھارت، نیپال، ترکی، ایران سمیت کسی بھی ملک کی اوورسیز کمیونٹی کو اپنے ملک میں میت بھیجوانے کے لئے ہزاروں پونڈز ائر لائنز کو ادا کرنے پڑتے ہیں اور فری سہولت میسر نہ ہے جب کہ حکومت پاکستان اور پی آئی اے نے اوورسیز پاکستانیوں کو گزشتہ کئی سال سے یہ سہولت فری آف چارج مہیا کی ہوئی ہے۔ کورونا وائرس وباء کے دورانیہ میں جب باقی ممالک کی ائر لائنز نے میتیں تو درکنار ، مسافروں کیلئے بھی ائر لائنز کی بندش جاری رکھی،وہاں برطانیہ میں پاکستانی طلباء، سیاح ، علاج معالجہ اور کاروبار کی غرض سے پھنسے افراد اور وہ تمام مرحومین جنہوں نے اپنی ذندگیوں میں فوتگی کی صورت میں پاکستان تدفین کی وصیتیں کیں تھیں تقریباً ان دو درجن میتوں سمیت پچھلے تین ماہ میں پی آئی اے عملہ نے اپنی زندگیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے تقریباً دو ہزار سے ذائد مسافر جو پاکستان ہائی کمیشن کی مسافروں کی مجبوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مرتب کردہ لسٹوں میں شامل تھے انہیں ہفتہ کے ساتوں دن میتوں کے این او سیز اور ویزا سمیت دیگر سہولیات فراہم کر کے بخیریت اپنے پیاروں سے ملانے کیلئے وطن عزیز پہنچایا جب کہ اس دوران راقم کے پاس شواہد موجود ہیں کہ مڈل ایسٹ کی ایک ائر لائن نے برطانیہ سے پاکستان ون وے ٹکٹس کے پندرہ سو پونڈز سے زیادہ چارجز وصول کئے کورونا وباء کے دورانیہ میں برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا، کی قیادت و رہنمائی میں انچارج قونصلرز اینڈ کمیونٹی افیئرز ، قونصلرزسمیت ہائی کمیشن کے دیگر افسران اور پی آئی اے کے کنٹری مینیجر اور دیگر پی آئی اے عملہ کی انتھک محنت و کاوشیں لائق تحسین ہیں۔جنہیں برطانیہ میں مقیم اوورسیز کمیونٹی عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے کورونا وائرس وباء سے وفات پانے والے افراد کی کوئی بھی میت ابھی تک پاکستان نہیں بھیجی گئی اور اس حوالے سے ہائی کمیشن اور پی آئی اے کو بھی لواحقین سے تعاون پر کوئی اعتراض نہیں ہےچونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت پاکستان اور سول ایوی ایشن کے نئے ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میت کو پاکستان لانے کیلئے متعلقہ سفارتخانے کے زریعے 48گھنٹے قبل سول ایوی ایشن اتھارٹی سےاجازت لینا لازم قرار دیا گیا ہے تاکہ پاکستان میں متعلقہ ائر پورٹس پر کارگو عملہ (پرسنل پروٹیکشن ایکوئیپمنٹ ) پی پی ای کٹس اور دیگر حفاظتی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میتوں کی ہینڈلنگ میں سہولیات فراہم کر سکے۔ دوسرا قابل زکر اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ برطانیہ میں پی آئی اے کی (سب کنٹریکٹر ) برٹش کارگو ہینڈلنگ کمپنی،سوئس پورٹنے کرونا وباء سے وفات پانے والی میتوں کے تابوت کی ہینڈلنگ کا یہ موقف دیتے ہوئے صاف انکار کر دیا کہ سوئس پورٹ نے اس دورانیہ میں کسی بھی ملک کیلئے کورونا وائرس سے متاثرہ میت کی ہینڈلنگ نہیں کی چونکہ ان کے سٹاف نے پی پی ای لیٹس اور دوسری حفاظتی تدابیر کی ٹریننگ حاصل نہیں کی لٰہذا سوئس پورٹ ان میتوں کو اس وقت تک پاکستان بھیجوانے سے قاصر ہے۔ جب تک پی پی ای کٹس اور اسٹاف کی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ٹریننگ مکمل نہیں ہوتی۔ اوورسیز پاکستانیز کمیونٹی میں اس حوالے سے پائی جانے والی تشویش کے تسلسل میں ہائی کمیشن اور پی آئی اے افسران کی سوئس پورٹ کمپنی سے بات چیت جاری ہے اور بہت جلد ایس او پیز اور معاملات طے پاجائیں گے اور آئندہ چند دنوں میں کورونا وائرس پازیٹیو میتوں کو پاکستان بھیجنے میں در پیش مسائل و دشواری ختم ہو جائے گی۔
یورپ سے سے مزید