میرا ایک دوست امریکہ میں رہتا ہے۔ خاصا پڑھا لکھا ہے، پاکستانی ہونے کے ناتے پاکستان کا غم بہت کھاتا ہے۔ اُس نے کل مجھ سے امریکہ اور یورپی ممالک کے ہنگاموں کے حوالے سے ایک سوال پوچھا۔ ارادہ تھا آج اس کو بذریعہ کالم جواب دوں گا لیکن صبح ہی صبح برادرم عطاء الحق قاسمی کا کالم پڑھ لیا۔ کالم پڑھتے ہی خیال آیا کہ آج کا کالم جناب عطاء الحق قاسمی کے نام...
اسلامی سوشلزم پاکستان میں خاصا گھسا پٹا موضوع ہے اور اسے اس انجام تک پہنچانے کا سہرا پی پی پی کے سر ہے۔ جس طرح پی پی پی نے روٹی، کپڑا اور مکان اور انسانی مساوات کے دعوئوں کو منافقت کے ’’کورونا‘‘ کا شکار کرکے تابوت میں دفن کیا اسی طرح اُس نے اپنی عملی کارکردگی سے اسلامی سوشلزم کا بیڑہ بھی غرق کیا۔ ریاستِ مدینہ کا آج جو حشر پاکستان میں ہو رہا ہے اس کے آپ سب عینی شاہد ہیں۔ مطلب یہ کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بڑے بڑے حسین نعرے، انقلابی منشور اور انتخابی خواب سیاست دانوں کے ہتھے چڑھ کر پیوندِ خاک ہوتے رہے، اس لئے آپ وطنِ عزیز کو قیادتوں کے دلکش وعدوں کا قبرستان بھی کہہ سکتے ہیں۔ جہاں تک قائداعظم کا تعلق ہے وہ پاکستان کے واحد سیاستدان اور حکمران تھے جن کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا۔ کوئی ایک سال گورنر جنرل رہے اور قدم قدم پر ذاتی مثالوں کی شمعیں جلا گئے۔ قاسمی صاحب نے درست لکھا کہ قائداعظم نے بھی اپنی ایک تقریر میں اسلامی سوشلزم کا ذکر کیا تھا۔ یہ تقریر چٹاگانگ کے جلسۂ عام میں 26مارچ 1948کو کی گئی۔ قائداعظم کی تقاریر گواہ ہیں کہ وہ تصورِ پاکستان کے ضمن میں تواتر سے یہ کہتے رہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہوگی، سماجی اور معاشی عدل ہوگا، قانون و دستور کی بنیاد اسلامی اور قرآنی اصولوں اور قوانین پر استوار کی جائے گی۔ وہ ایک طرف جاگیرداروں اور وڈیروں کو وارننگ دیتے تھے کہ وہ غریبوں کا خون چوسنا بند کردیں تو دوسری طرف ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اسمگلنگ اور عوامی استحصال کے خاتمے کی تلقین کرتے رہے۔ چٹاگانگ والی تقریر خطبہ استقبالیہ کا جواب تھی جس میں ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے پاکستان میں اسلامی سوشلزم یعنی انسانی مساوات اور معاشی عدل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں قائداعظم نے جو تصور پیش کیا وہ ساڑھے سات دہائیوں سے تشنہ تکمیل ہے۔ اُس وقت پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی آٹھ ماہ گزرے تھے اِس لئے جذبے بھی جوان تھے اور حب الوطًنی بھی عروج پر تھی۔ قائداعظم کی طویل تقریر میں سے صرف وہ پیرا پیشِ خدمت ہے جس میں اسلامی سوشلزم کا ذکر ہے۔ انہی سطور میں آپ کو مطالبہ پاکستان کا جواز اور محرکات کا نقشہ ملے گا تاکہ آپ 73برس بعد ان عوامل کا ادراک کر سکیں جو مطالبہ پاکستان کی بنیاد تھے۔ گزارش ہے کہ قائداعظم کے الفاظ کے آئینے میں ہندوستان کے منظرنامے پر نظر ڈالیں پھر آپ کو ان الفاظ کی حقانیت اور سچائی سمجھ آئے گی۔
آج کل پرائیوٹ چینلوں کا دور ہے اور یوٹیوب نے ہر قسم کے مواد کے لئے راستے کھول دیے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے دو چینلوں پر ایک پروفیسر صاحب کے خیالات سننے کا اتفاق ہوا۔ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہمیں ویسے بھی زیادہ عالم اور فاضل لگتے ہیں لیکن ان کے علم و فضل سے برآمد ہونے والے نظریات سنیں تو صدمہ بھی ہوتا ہے اور ان چینلوں کے مالکان پر بھی ترس آتا ہے جو بڑی معصومیت سے ایسے نظریات پھیلاتے ہیں جن کا مقصد اکھنڈ بھارت کا قیام یعنی متحدہ ہندوستان کی وکالت اور قائداعظم سے غلط بیانات منسوب کرکے اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ مثلاً ایک معروف اینکر پرسن کے پرائیویٹ چینل پر پروفیسر فرما رہے تھے کہ مئی 1947میں قائداعظم نے کہا کہ پنجابی پہلے پنجابی پھر مسلمان، بنگالی پہلے بنگالی پھر مسلمان... میں اُن کا لیکچر سن کر چکرا گیا کہ مسلمان قومیت اور اسلام کے نام پر پاکستان کا مطالبہ اور جدوجہد کرنے والا لیڈر ایسی بات کیسے کر سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے قائداعظم کی ساری تقاریر چھان ماریں مجھے اس جھوٹ کا نام ونشان بھی نہ ملا۔ یہی صاحب فرما رہے تھے کہ ریڈکلف ایوارڈ کے مطابق پنجاب کی تقسیم مسلم لیگ کے مطالبے کے عین مطابق تھی۔ یہ نہ صرف بہتان ہے بلکہ قائداعظم کے بارے میں بدگمانیاں پھیلانے کی سازش بھی ہے۔ قائداعظم نے 31اگست 1947کی نشری تقریر میں ریڈکلف ایوارڈ کو ناقابلِ فہم، نامنصفانہ اور بےایمانی پر مبنی فیصلہ قرار دیا۔ اگر یہ ایوارڈ مسلم لیگ کے مطالبے کے مطابق تھا تو پھر قائداعظم نے اسے عظیم دھوکا کیوں قرار دیا؟ موضوع تفصیل طلب ہے ان شاء اللہ پھر کبھی۔ فی الحال آپ قائداعظم کی اس تقریر کے چند فقرے ملاحظہ فرمائیں جن میں اسلامی سوشلزم کا ذکر ہوا۔ غور کریں کہ کس حوالے سے ہوا اور اس کا مفہوم کیا ہے۔
You are only voicing my sentiments and the sentiments of millions of Musalmans when you say that Pakistan should be based on sure foundations of social justice and Islamic socialism, which, emphazies equality and brotherhood of man. Similarly you are voicing my thoughts in asking and in aspiring for equal opportunities for all. These targets of progress are not controversial in Pakistan, for we demanded Pakistan, we struggled for it, and we achieved it so that physically as well as spiritually we are free to conduct our affairs according to our traditions and genius. Brotherhood, equality and fraternity of man -these are all the basic points of our religion, culture and civilization. And we fought for Pakistan because there was a danger of denial of these human rights in this sub-continent. We aspired for these great ideals because of centuries of dual domination by the foreign rulers and by a caste-ridden social system. This domination continued for over two hundred years until we realized that it would ultimately mean complete extinction of Musalmans individually as human beings and collectively as a nation. After all, the story of Pakistan, its struggle and its achievement is the story of great human ideals struggling to survive in the face of odds and difficulties. This biggest Muslim State came into being on 15th August 1947.