• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ سے میرے اس پاکستانی دوست کا سوال بظاہر سادہ سا تھا لیکن اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ تھی جو سوال کے الفاظ میں سمٹ آئی تھی، اس کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ان دنوں ایک بلیک امریکی جارج فلائیڈ کے ظالمانہ قتل کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ دراصل یہ احتجاج پولیس مظالم اور ہر سال تقریباً تین چار سو شہریوں کا پولیس کے ہاتھوں قتل کے خلاف ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ احتجاج امریکہ سے شروع ہوا اور انگلستان، فرانس سے ہوتا ہوا جرمنی بلکہ سارے یورپ میں پھیل گیا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ احتجاج اب تک 140انسانی زندگیوں کے چراغ گل کر چکا ہے۔ احتجاج کے باوجود آج پھر امریکہ میں پولیس نے کار میں سوتے بلیک امریکی کو گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کار میں وہی سوتے ہیں جن کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ اس دوست کا سوال تھا کہ امریکہ میں تو پولیس کی قتل و غارت کے خلاف اس قدر شدید احتجاج کی آگ پھیلی ہے کہ ایک موقع پر وائٹ ہائوس کے سامنے کورونا کے موسم کے باوجود لوگوں کا سیلاب دیکھ کر صدر ٹرمپ کو تہہ خانے میں چھپنے کا مشورہ دیا گیا۔ یہ تہہ خانے ایٹمی جنگوں سے پناہ لینے کیلئے بنائے گئے ہیں لیکن وائٹ ہائوس کے سامنے یہ احتجاج کسی جنگ سے کم نہ تھا۔ کیا پاکستانی قوم خوفزدہ ہے یا ڈرپوک ہے یا بے حس کہ پاکستان میں بے پناہ پولیس مظالم کے خلاف احتجاج نہیں کرتی۔ ہر سال سینکڑوں بے گناہ لوگ پولیس کے ہاتھوں حوالات میں تشدد یا جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار کوئی فیملی میت لیکر گورنر ہائوس کے سامنے احتجاج کرنے پہنچ جاتی ہے لیکن خود ہی دو چار گھنٹوں بعد ’’طفل تسلی‘‘ لیکر واپس لوٹ آتی ہے، نہ کوئی ان کے ساتھ شامل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ان ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف شہر، صوبے یا ملک میں احتجاجی تحریک چلاتا ہے۔ ہر حکمران تھانہ کلچر بدلنے کا وعدہ کرتا ہے اور حالات کو بدتر بنا کر رخصت ہو جاتا ہے۔ پھر میرے دوست کے سوال نے پینترا بدلا اور کہا کہ ماڈل ٹائون میں ڈاکٹر طاہر القادری کے چاہنے والوں کا قتل عام کئی گھنٹوں تک ٹی وی چینلوں پر ساری قوم نے دیکھا۔ بزرگوں کا بہتا ہوا خون، خاک آلود داڑھیاں، عزت مآب خواتین کی طرف بڑھتی ہوئی رائفلیں اور گلو بٹ کی ’’فتوحات‘‘ کے مناظر دل فگار تھے لیکن ہماری قوم کی سرد مہری کو پگھلا نہ سکے۔ ساہیوال سے شادی میں شرکت کیلئے کار میں سفر کرتی فیملی کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ خاوند، بیوی اور بچی کا قتل عام اور بچ جانے والے بچوں کی پولیس کار میں منتقلی کے مناظر ساری قوم نے دیکھے لیکن قوم ٹس سے مس نہ ہوئی۔ نہ کہیں موثر احتجاج ہوا نہ کوئی پولیس کی چیرہ دستیوں کے خلاف تحریک چلی۔ امریکہ میں تحریک چلنے کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سینیٹ میں قوانین بنانے اور موجودہ قوانین میں تبدیلیوں کیلئے کئی بل زیر غور آ گئے ہیں جن کے نتیجے کے طور پر پولیس کے اختیارات کم ہوں گے اور قتل عام کا سلسلہ ’’بند‘‘ کرنے کی سعی کی جائے گی لیکن پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

جارج فلائیڈ کی وہ وڈیو میں نے بھی دیکھی تھی اور یہی سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ منٹوں میں خبر ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ جارج کے بہیمانہ قتل کے منظر نے میری رات کی نیند اڑا دی تھی۔ الزام یہ تھا کہ اس نے 20ڈالر کے جعلی نوٹ سے ایک فلسطینی کی دکان سے سگریٹ خریدے، دکاندار نے پولیس کو کال کر دی۔ پولیس کا افسر اسے زمین پر گرا کر اپنے گھٹنے سے اس کی گردن دبا رہا ہے، وہ نیچے سے زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ چمکدار چہرے والا پولیس افسر مسکرا رہا ہے، اس سارے واقعے سے ایک اور عالمگیر انسانی حقیقت آشکار ہوئی جس نے کروڑوں لوگوں کی روحوں کو تڑپا دیا، ہمدردی کے جذبات کو انگیخت دی اور پولیس کے خلاف نفرت کی آگ کو بھڑکایا۔ اس سانحے کی یہ حقیقت پاکستانی سوشل میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔ جارج فلائیڈ جب زندگی سے مایوس ہوگیا تو مرنے سے قبل اس نے آخری لمحوں میں دوبار اپنی ماں کو پکارا۔ اس کی ماں دو سال قبل وفات پا چکی تھی، یہی عالمگیر سچائی ہے کہ انسان زندگی کے ہولناک، قابل رحم اور مایوس کن لمحوں میں ماں کو یاد کرتا ہے، ماں کو مدد کیلئے بلاتا ہے اور کبھی کبھی اسے یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اس کی ماں اسے لینے کیلئے یا اس کی مدد کے لئے آگئی ہے۔ ایک خبر کے مطابق جارج کی ماں کا انتقال دو سال قبل اسی دن کو ہوا تھا۔ سانحے کا درد ناک ترین پہلو یہ تھا کہ وہ بیس ڈالر کا نوٹ اصلی نکل آیا، وہ جعلی نہیں تھا چنانچہ احتجاج کرنے والوں نے وہ دکان ہی جلا دی۔ آخری سانسوں میں ماں کو پکارنے کی آواز نے امریکہ اور یورپی ممالک میں ظلم کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا دی۔ دس برس قبل تیونس میں 26سالہ محمد بو عزیزی ریڑھی پر پھل فروخت کرکے اپنی بیوہ ماں اور چھ بچوں کا پیٹ پالتا تھا، پولیس نے لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے ریڑھی چھین لی اور اسے طمانچے مارے، بو عزیزی نے حکومتی عمارت کے سامنے جاکر اپنے آپ کو آگ لگا دی کہ کمزور کا آخری چارہ یہی ہوتا ہے۔ اس واقعے نے عرب بہار (اسپرنگ) کی احتجاجی تحریک کو ابھارا جس نے تیونس کے زین العابدین، مصر کے حسنی مبارک، لیبیا کے معمر قذافی، یمن کے علی عبداللہ صالح کی حکومتوں کے تخت الٹ دیے۔ شام کے علاوہ کئی عرب ممالک کی بادشاہتیں لرزنے لگیں، کسی نے قوت کا استعمال کرکے اور کسی نے خزانے کا منہ کھول کر رعایا کو کنٹرول کیا لیکن پاکستان کے عوام مظالم کے خلاف منظم احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان میں عوامی تحریک نے بھٹو جیسی مضبوط حکومت گرا دی لیکن دن دہاڑے ہونے والے مظالم انہیں متاثر نہیں کرتے، کیا لوگ خوفزدہ نہیں؟ کیا حوصلہ ہار چکے ہیں؟ کیا غربت کے مارے نفسانفسی کا شکار ہیں، یا مایوس ہو کر بے حس ہو چکے ہیں؟

تازہ ترین