ظاہر معلوم اور باطن نامعلوم ہوتا ہے چنانچہ انسان ساری زندگی ظاہر پر توجہ رکھتا ہے اور اسے سنوارنے کی لگن میں مگن رہتا ہے۔ یہ دنیا ظاہر کی دنیا ہے اس لئے یہاں پہلا تاثر یا امپریشن بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تاثر کی دنیا بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اگر آپ نے ریش مبارک چہرے پہ سجا رکھی ہے تو دیکھتے ہی پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ نیک، مذہبی اور نمازی قسم کا انسان ہے۔ مجھے لاہور کے ایک وکیل صاحب یاد آتے ہیں۔ نہایت لچھے دار گفتگو کرتے تھے، پریکٹس بھی چلتی تھی۔ خیالات کے حوالے سے نہایت ماڈرن، دین بیزار اور ترقی پسند تھے ، کبھی کبھی تو وہ الحاد کی سرحدوں کو چھونے لگتے تھے۔ میرا ان سے کئی برس تعلق رہا، یہ ان کی مہربانی تھی۔ ایک بار میں ان سے کئی برس کے وقفے کے بعد ملنے گیا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ انہوں نے چہرے پر ماشاء اللہ طویل ریش مبارک سجا رکھتی تھی۔ ظاہری تاثر یہ تھا کہ شاید بڑھاپے اور قبر کے خوف نے ان کے باطن میں کوئی انقلاب برپا کر دیا ہے اور اسی تبدیلی کا اظہار پُرنور داڑھی ہے۔ گفتگو چلی تو وہ حسبِ معمول طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے ’’صفدر صاحب میری داڑھی دیکھ کر پریشان نہ ہوں اور نہ ہی اندازوں کے مغالطوں کا شکار ہوں، میرے گالوں پر چھوٹی سی گلٹیاں نکل آئی تھیں جو نہایت بری لگتی تھیں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق انہیں چھپانے کے لئے داڑھی بڑھا لی ہے ۔ میں ان کی بات سن کر مسکرا دیا۔ دراصل ہم چہرے کی گلٹیوں کو چھپانے کے لئے تو سارے اقدامات کرتے ہیں کیونکہ ہمارا سارا زور ظاہر پر ہوتا ہے لیکن باطن کی گلٹیوں کو صاف کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے کیونکہ وہ دوسروں کو نظر نہیں آتیں۔ ہم جسمانی خوبصورتی، بنائو سنگار اور چہرے کی خوشنمائی پر تو پوری توجہ دیتے ہیں لیکن باطن کی تاریکی کو دور کرنے اور صفائی کے لئے وقت نہیں نکالتے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر اوقات انسان کا باطن ہی اس کے چہرے پر جھلکنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی اللہ سبحانہُ وتعالیٰ انسان کو وارننگ دینے کے لئے باطن کی تاریکی اور نحوست کو چہرے پر معمولی سا ظاہر کر دیتا ہے۔
ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارا سارا فوکس ظاہر کو سنوارنے پر ہوتا ہے تاکہ دوسروں پر تاثر اچھا پڑے، جاذبِ نظر لگیں۔ ہمیں لوگ معزز، پڑھا لکھا، خوشحال اور قابلِ احترام سمجھیں حالانکہ یہ تاثر اور امپریشن بھی نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔ نہ چمکنے والی ہر شے سونا ہوتی ہے اور نہ ہی ہر بدصورت شے اپنی اصل میں بدصورت ہوتی ہے لیکن ہماری نگاہ تو فقط ظاہر کی متلاشی ہے اس لئے وہ ’’باطن‘‘ تک رسائی حاصل کر ہی نہیں سکتی۔ جس شخص نے سیاہ کوٹ پہن رکھا ہو، ہم اسے پہلی نظر میں وکیل ہی سمجھتے ہیں چاہے وہ چٹا ان پڑھ ہو، جس شخص نے سیاہ گون پہن رکھا ہو ہمارا تاثر یہی ہوتا ہے کہ پروفیسر ہے چاہے وہ طوطا فال نکالنے والا پروفیسر ہی کیوں نہ ہو۔ جس خاتون نے اپنے آپ کو سیاہ برقعے میں چھپا رکھا ہو، ہم اسے پردہ دار مشرقی خاتون ہی سمجھتے ہیں چاہے وہ فلمی دنیا کی بدنام اداکارہ ہو اور لوگوں کی نظروں سے بچنے کے لئے سیاہ برقع اوڑھ کر آئی ہو۔ جو شخص مسجد سے نکل رہا ہو ہم اسے نمازی ہی جانتے ہیں چاہے وہ مسجد سے کوئی شے چوری کرکے یا کسی کی جیب کاٹ کر یا کسی کی جوتی چرا کر ہی نکلا ہو۔ جس شخص نے سفید کوٹ پہن رکھا ہو اور گلے میں ٹوٹیاں لٹکا رکھی ہوں ہم اسے مقدس پیشے سے منسلک ڈاکٹر خیال کرتے ہیں چاہے وہ مریضوں کو پانی کے ٹیکے لگا کر پیسے بٹورتا ہو ۔ دراصل معلوم اور نامعلوم، ظاہر اور باطن اور اصل اور نقل میں زمین و آسمان کا فاصلہ حائل ہے اسی لئے عرض کرتا ہوں کہ یہ دنیا اور یہ زندگی تو محض نظر کا دھوکہ ہے۔ دنیا حیرت کدہ ہے جس میں ہر طرف نظروں کے سامان اور حیرت کدے سجے ہیں۔ یہ زندگی معلوم، موجود، گمان اور نظر کا دھوکہ ہے جبکہ اصل زندگی نامعلوم اور نہ نظر آنے والا متناہی سلسلہ ہے، معلوم زندگی مختصر جبکہ نامعلوم زندگی ابدی ہے۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ حقیقتیں ہیں لیکن ہم صرف اسے ہی حقیقت جانتے ہیں جو نظر آئے، جو شے نظر کے احاطے سے باہر ہو، نظر سے پوشیدہ ہو، ظاہر اور موجود پر ایمان رکھنے والے اسے نہیں مانتے جبکہ غیرموجود اور نظر نہ آنے والی آفاقی حقیقتوں پر ایمان رکھنے والے انہیں دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں۔ باطن تک اور زندگی کی ’’اصل‘‘ تک ان کی نگاہ کو رسائی حاصل ہو یا نہ ہو لیکن ان پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔ یہی ایمان کی پختگی ان کے لئے رسائی کی راہ ہموار کرتی ہے اور کبھی کبھی آنکھ سے پردے اٹھا دیتی ہے۔ جب آنکھ سے پردہ سرک جائے تو آنکھ ظاہری بنائو سنگار، میک اپ اور خوشنمائی کے پیچھے چھپی ہوئی بدنمائی، سفلی جذبات کی بھرمار اور اعمال کی بدصورتی بھی دیکھ لیتی ہے۔ جس کی آنکھ ظاہر سے باطن تک رسائی حاصل کر لے انسان کے اندر جھانکنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو جائے اسے ہم صاحب نظر اور اہلِ نگاہ کہتے ہیں۔ ظاہر کے پرستار مادے پہ نگاہ رکھتے ہیں جبکہ نامعلوم کے ماہر روح پر نگاہ رکھتے ہیں۔ مادہ زندگی کی بےثباتی کی علا مت ہے کیونکہ اسے بہرحال موت کا لقمہ بننا ہے، آج نہیں توکل مرنا ہے جبکہ روح نظر نہ آنے والی ابدی شے ہے جسے موت ہے نہ نیند۔ یہ امر ربی ہے اور امرِ ربی عام لوگوں کے لئے نامعلوم ہی ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ ہم ظاہر بین لوگ ہیں اور صرف نظر آنے والی اشیاء پر یقین رکھتے ہیں نظر آنے والی چیزوں کی سجاوٹ اور میک اپ پر ساری توجہ دیتے ہیں اور چہرے سجانے پر گھنٹوں صرف کر دیتے ہیں جبکہ نظر آنے والی چیزیں محض نظر کا دھوکہ ہوتی ہیں۔ اسی لئے انسان کو ’’نقل‘‘ پرست کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ’’اصل‘‘ کو سمجھنے کا نہ ادراک رکھتا ہے اور نہ ہی کوششیں کرتا ہے۔ وہ نقل سے ہی دل بہلاتے بہلاتے زندگی گزار دیتا ہے اور زندگی ایسی شے ہے کہ دہائیوں کا سفر لمحوں میں طے ہوتا ہے اور پتا ہی نہیں چلتا کہ اتنے برس کہاں گئے۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آنکھ معلوم یعنی ظاہر کو دیکھتی ہے اور نظر غیرمعلوم یعنی باطن کو دیکھتی ہے۔ آنکھ انسان میں نہ تبدیلی لاسکتی ہے نہ اس کے اندر انقلاب برپا کرسکتی ہے لیکن نظر انسان کے باطنی اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیتی ہے ۔ اسی لئے علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا ؎
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں