آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ہر دور میں کوئی اہم واقعہ کسی اہم شخصیت کے اثر کی وجہ سے رونما ہوتا ہے۔ تاریخ کا رخ موڑنے اور حالات کا دھارا تبدیل کرنے کے اور بھی بہت سے عوامل ہوتے ہیں اور بھی مختلف وجوہات ہوتی ہیں لیکن بالآخر ان تمام واقعات و حالات کے پیچھے قوت محرکہ اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی ایک شخصیت ہوتی ہے۔ جسے قائد، لیڈر رہنما اور رہبر کسی بھی نام سے یاد کیا جائے بہر حال وہ ایک شخصیت ہی کسی نظر کسی قبیلے کسی گروہ کسی عقیدے کسی جماعت کسی عصبیت کو تشخص اور پہچان عطا کرتی ہے اور پھر وہ قبیلہ، گروہ اور جماعت اسی شخصیت کے دورے سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ آج کل ایک اصطلاح مشترکہ قیادت(Collective Leadership ) کے حوالے سے سننے اور پڑھنے میں آتی ہے۔ بظاہر پڑھتے ہیں۔ تصور بڑا بھلا اور دلکش لگتا ہے لیکن حقیقت میں دنیا میں اس کا وجود کہیں بھی نظر نہیں آتا اجتماعی قیادت دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادتوں کا مشترکہ گروہ ہوسکتا ہے جو پارلیمنٹ میں جماعت کی قیادت میں اس کی شواری کی مختلف سطحوں پر کار فرما ہوتی ہے لیکن بلائی سطح پر قائد اور لیڈر صرف ایک ہوتا ہے باہمی مشاورت یعنی شواری کا تصور قرآن مجید نے دیا ہے اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ”وشاورہم فی الامر“ کے حکم کے تحت صحابہ کرام سے مشاورت کا تصور دیا گیا ہے لیکن اس

آیت کا آخری حصہ فاذا عزمت فتوکل علی اللہ اس امر کی طرف نشاندہی کررہا ہے جب قائد انسانیت اور رہبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمالیں تو پھر وہ اللہ تعالی پر توکل فرماتے ہوئے اس فیصلہ کو نافذ فرمادیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء نے بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا اہم ترین فیصلے خلفاء نے اپنی بصارت اور دانشمندی سے کئے البتہ انہوں نے اپنی اپنی شواری سے صلاح مشورہ بھی کیا لیکن جب تاریخ جب ان اہم فیصلوں کا جائزہ لیتا ہے تو یہ شوریٰ کے فیصلے کی بجائے امیر المومنین حکمران اور قائد شخصیت کا فیصلہ ہی تسلیم کیا جاتا ہے قائدانہ شخصیت کا اثر جسے شخصیت کا کرشمہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک حقیقت ہے قائدانہ کردار کسی بھی شخصیت کا حیثیت اوراس کی فیصلہ کن قوت بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے بالآخر قائد کو ہی متنازع معاملات میں کوئی حتمی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ قائد کا یہی فیصلہ کن مقام (Decisive Position ) اس کا وہ کردار ہوتا ہے جو اسے دیگر تمام لوگوں سے ممتاز اور ممیز(Distinctive) کرتا ہے اگر قائد اور رہبر بھی خود کوئی حتمی اور قطعی فیصلہ نہ کرسکے تو پھر قائد نہیں ہوتا محمد علی جناح نے کہا تھا کہ لیڈر کا کام لوگوں کے جذبات کے پیچھے چلنا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو اپنے خیالات کے پیچھے چلانا ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب برصغیر پاک ہند میں مسلمان قوم ایک جذباتی کیفیت میں مبتلا تھی اور ترکی کے خلیفہ کی خلافت کو جو اسلامی خلافت کہلاتی تھی کو بچانا چاہتی تھی اور اس خلافت کو بچانے کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار تھی اور اس کیلئے پورے ہندوستان میں مسلمانوں نے انگریزوں پر دباؤ ڈالنے کیلئے مختلف جذباتی فیصلے بھی کئے لیکن محمد علی جناح نے اس جذباتی فیصلوں کی رو میں بہنے کی بجائے قوم کو یہ یاد دلایا ”تحریک خلافت“ چلانے کی بجائے مسلمانوں کو ہندوستان میں اپنا قومی تشخص بحال کرنے اور آزادی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے محمد علی جناح قائد اعظم نہیں کہلائے لیکن عوام کے جذبات کے خلاف ان کے اس جرأت مندانہ فیصلے نے آنے والے وقتوں میں انہیں قائد اعظم بنادیا یہ سب کچھ اس تلخ تجربے کے بعد ہوا کہ مسلمانوں نے محمد علی جناح کی بات کو سننے سے انکار کردیا اور بعض حلقوں نے انہیں انگریزوں کا پٹھو اور برطانوی استعمار کا نمائندہ بھی قرار دیا حتیٰ کہ تحریک خلافت کا ساتھ چھوڑنے پر علامہ اقبال کو بھی طعنے سننے پڑے اور مولانا ظفر علی خاں جیسے اقبال کے مداح نے لکھا انگریز کی دہلیز پر نشر ہوگئے اقبال بالآخر مسلمان جب لٹے پٹے افغانستان سے واپس آئے اور انہوں نے جب یہ بتایا کہ کس طرح ان کے افغان مسلمان بھائیوں نے انہیں بے دردی سے لوٹا۔ ان کے مال اسباب ہتھیالیے اور بے یار و مدد گار چھوڑ دیا اور واپسی پر ہندوستان میں ان کی جائیدادیں ہڑپ کرچکے تھے۔ وہ مکانات جنہیں وہ اونے پونے ہندؤں کو بیچ کر گئے تھے ان کو حیرت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اب انہیں سمجھ میں بات آئی کہ ہندوستان چھوڑ دو“ اور افغانستان ہجرت کرو“ نعرہ ایک سراب تھا جس کی کوئی منزل نہیں تھی اور ان کا ہندوستان سے ہجرت کرنے کا فیصلہ غلط تھا محمد علی جناح جیسے سیاسی لیڈر اور امام احمد رضا بریلوی جیسی عبقری دینی شخصیت کی مخالفت حقیقت پر مبنی تھی۔ لیڈر کا کام لوگوں کے جذبات میں بہہ جانا نہیں بلکہ لوگوں کو اپنے خیالات اور جذبات کا قائل اور اسیر بنانا ہوتا ہے اور وہ نعرہ دینا ہوتا ہے جو حقیقت کے قریب ہو اور جس کا حصول ممکن بھی ہو البتہ بعض دفعہ لوگ نعروں سے مسحور ہوجاتے ہیں لیکن یہ سحر دائمی نہیں ہوتا 1970ء کے الیکشن میں متحدہ پاکستان میں بالخصوص مغربی پاکستان میں قومی سطح کے سنجیدہ اور تجربہ کار لیڈر آئین اور دستور کی بات کرتے تھے۔ عبدالقیوم خان، عبدالولی خان، ائر مارشل اصغر خاں اور مذہبی لیڈر آئین اور دستور کی تشکیل کی بات کرتے تھے لیکن ان میں دو آوازیں سب سے نمایاں اور منفرد تھیں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی آواز جس نے بنگلہ قوم کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دلانے کا وعدہ کیا اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان دینے کی امید دلائی بھٹو کہا کرتے تھے کہ آئین کوئی کھانے کی چیز نہیں یہ کوئی چپلی کباب نہیں ہیں جس سے غریب کا پیٹ بھر سکے لوگوں نے بھٹو کی اس بات کو غور سے سنا۔ انہوں نے اس کے ساتھیوں پر غور نہیں کیا اور ان کے لائف سٹائل پر توجہ نہیں کی لیڈر کی شخصیت کے مسحور ہوکر اس کے نعرے پر ووٹ دے دےئے جیسے بڑے بڑے زمیندار اور جاگیر دار تھے جنہوں نے زرعی اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ نہیں ہونے دیا لیکن بھٹو کے نعرے پر لوگوں نے اسے حکومت بنانے کا اہل بنادیا آج کل عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ اور نیا پاکستان کا سلوگن بہت مقبول ہورہے ہیں۔ عمران خان اگر الیکشن مہم میں پاکستان کے عوام اور بالخصوص غریب عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ واقعی نیا پاکستان تشکیل دے سکتے ہیں تو پھر لوگ ان کے ارد گرد لوگوں کو بھول جائیں گے اور صرف ایک شخصیت کے نعرے اور دعوے پر ووٹ دے دیں گے۔پارٹی کا اقتدار بعد میں قائم ہوتا ہے شخصیت کا اعتبار پہلے بنتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں