• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روز آشنائی … تنویرزمان خان،لندن


گزشتہ کالم ’’امریکی سسٹم میں رچی بسی نسل پرستی‘‘لکھنے کے بعد میرا ارادہ بنا کہ اس سیلوری (Slavery)جیسے اہم موضوع پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے جس طرح گزرا کل آج کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور آج مستقبل کے ساتھ تو آج کو پرکھنے کیلئے ماضی میں تھوڑا جھانکنا ضروری ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا کی ترقی کی بنیادوں میں کسی طبقےکے خون پیسنے کا گارا لگا ہے۔ اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وہ معیشت ہو یا سیاست ۔ انسانی حقوق کی بات ہویا آزادی کی۔ اس کی کھوج ہمیں ماضی کے صدیوں پر محیط ان ستونوں پر ہی چلے گی جن پر ہمارا سارا ’’آج‘‘ کھڑا ہے۔ یہ ماضی یورپ کا ہویا ایشیا کا افریقہ کا ہویا امریکہ کا یا پھر آسٹریلیا کا۔ یہ مسلمانوں کا ہو یا عیسائیوں کا۔ یہودیوں کا ہو یا ہندؤئوں کا۔ سب کے پیچھے غلام داری نظام کے تھپیڑے ضرور محسوس ہوں گےکیونکہ سب کچھ انہی غلامی کے دروازوں سے گزرکر آج ہم تک پہنچا ہے۔ امریکہ میں جارج فلائیڈ نے ظلم کو جان کا نذارنہ دے کے تاریخ کے اوراق کو پلٹ دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے ماضی کے ہیروز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ تاریخ پر لکھے گئے جھوٹ کے پنوں کو شعلوں کی لاٹ کے قریب کردیا ہے۔ نئی تاریخ لکھی جائے۔ یہ مطالبہ کردیا ہے۔ تاریخ کے سیاہ کاروں اور انسانیت دشمن کو ہیروبنا کےپیش کرنا جھوٹی تاریخ ہے۔ اسے دوبارہ سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کے سیاہ فام اور سفید فام کے درمیان یہی لڑائی سر اٹھا چکی ہے۔ یورپ اور امریکہ کا نسل پرست اور سفید فام نواز میڈیا کی طرف سے اس خیال کو بھی پذیرائی دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آج کے جدید افریقہ کو صرف آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ انہیں اپنے کاروبار مارکیٹ اور کلچر تحریک کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ دراصل اس خوبصورت آگےکی طرف دیکھنے کی پالیسی کے پیچھے جو خیال پنہاں ہے کہ ماضی اور اپنی نو آبادیاتی وارثت کو بھول جاؤ اور ہم نے تم پر جو تاریخ میں صدیوں پر محیط ظلم کے پہاڑڈھائے ہیں اسے بھول جائؤ۔ پیچھے رہ گئے اندھیرے چھوڑو اور آگے چکا چوند میں گم ہوجاؤ۔ پندرہویں صدی میں جب یورپ اور افریقہ کے مابین آقا اور غلام کے تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ اس وقت سے یورپی مورخ امریکہ اور یورپ میں غلامی کو بیچنے اور انسانوں کے بازارسجانے کو تجارتی تعلقات کہتے ہیں حالانکہ روز اول سے ان سفید فام یورپیوں نے افریقیوں کو انسان کے درجے سے کم تر سمجھا ہے۔ ایسا کئی نظریہ دان آئے اور آج بھی موجود ہیں جو سیاہ فام افریقیوں کو ابھی تک مکمل انسان نہیں مانتےبلکہ انہیں ارتقاء کی نچلی سطح پر پھنسی نسل سمجھتے ہیں۔ اسی لئے وہ ا نہیں انسانوں کے درجے کے حقوق دینے کیلئے تیار نہیں۔ وہ پرانے حکمران جنہوں نے یورپ اور امریکہ میں سیلوٹریڈ کو بڑھاوا دیا اور سیاہ فام پرمظالم کی قیامت ڈھائے رکھی۔ آج ان کے مجسمے بناکر نئی نسل کو بتایا جارہا ہے کہ یہ آپ کے اور ہمارے ہیروز ہیں۔ آج امریکہ اور یورپ میں نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام اور ان کے ہمدردوں کا یہی خیال ہے کہ اس توڑ مڑوڑ کے بنائی گئی تاریخ کو بدلنا ہوگا جب کہ سفید فام نسل پرست ذہنوں کا خیال ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے اور یہی ہیروز ہیں۔ اس لئے ان کے مجسمے ختم نہیں جاسکتے جس پر سیاہ فام آبادی کا موقف ہے کہ انہیں چار پانچ صدیاں قبل امریکہ ، برطانیہ اور یورپ لایا گیا، جوکہ ان کی آزادی کےخلاف عمل تھا۔ اب یہاں ہمارے غلام بناکر لائے گئے آبائؤ اجداد کی اولادوں کا صدیوں سے یہی ملک ہے جہاں اب وہ دس پشتوں سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں۔ اس لئے اس تاریخ کو درست کرنے کا ان کا بھی اتنا یہی حق ہے جتنا کہ سفید فام آبادی کا۔ جنہوں نے افریقی آبادی کو بھیڑ بکریوں کی طرح مال بازار بنادیا ۔ ان کی باقاعدہ نیلا میاں کیس۔ اشتہارات جاری کئے جاتے ہیں کہ نیا شپ اتنے غلام لے آرہا ہے جن میں اتنی عورتیں اور اتنے مرد ہونگے۔ لڑکیاں اتنی ہیں اور بچے ،اتنے پھر نیلامیوں میں ان کی صحت ، ہنر مندی اور بات چیت کی کوالٹی کے مطابق بولی لگائی جاتی ہیں۔ 1863میں جیمز ہنٹ نے جو علم الانسان Anthropologyسوسائٹی کا صدر تھا۔ اس نے یہ نظریہ دیا کہ نیگروز ذہنی طور پر طبعا کمتر اور گھٹیا ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں یورپی ہی مہذب اور انسانیت کے درجے پر لاسکتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر دراصل نسل پرستی کا نظریاتی جواز تھا۔ حالانکہ اگر سفید فام یا سیاہ فام انسان ہونے کے درجے پر موجود ہیں جو کہ وہ ہیں تو پھر سب پروہ تمام حقوق اور فرائض لاگو ہوجاتے ہیں جوکسی بھی مہذب انسانی معاشرے کی اساس ہیں۔ اس میں رنگ، خاندان اور جسمانی ساخت یا خوراک وپیشے کی کوئی اہمیت نہیں۔ نہ ہی کسی ایک رنگ شکل کا انسان دوسرے رنگ و شکل سے افضل ہوجاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں نسل پرستی کی لہراس لئے بھی اٹھتی رہتی ہے کیونکہ سیاہ فام نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنا مقام اور برابری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سفیدفام وکرز کے ساتھ کرنے سے انکارکردیا تھا۔ یہ نفرت اب صرف کسی Race Relation Actsکے ذریعے ختم نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے لیے بچپن سے والدین اور پورے سسٹم کو اپنے اندر سے نسل پرستی کی تعلیم و تربیت کو جڑ سے اکھاڑ باہر کرنے کی ضرورت ہے۔ خواہ وہ امریکہ ہو یا یورپ یا پھر دنیا کا کئی اور ملک یا خطہ۔ 

تازہ ترین