آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جمعہ، 12 جون کو مالی سال 2020-21ءکا بجٹ پیش کیا گیا، جس پر دو ہفتے گزر جانے کے باوجود تجزیے، تبصرے جاری ہیں۔ حکومت کا اصرار ہے کہ کورونا وائرس کے دَور میں اس سے بہتر بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں تھا۔ حکومتی حلقے اسے مشیرِ خزانہ، عبدالحفیظ شیخ کی جادوگری قرار دیتے ہیں کہ اُنہوں نے سخت ترین حالات میں بھی ایک ٹیکس فِری بجٹ پیش کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ دوسری طرف اپوزیشن ہے، جس نے اسے الفاظ کا گورکھ دھندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔اُس کا کہنا ہے کہ’’ اس بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ گزشتہ سال کے بجٹ کی نقل ہے۔‘‘ بجٹ کی ایک اہم بات یہ رہی کہ اِس مرتبہ سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں کسی قسم کا اضافہ کیا گیا اور نہ ہی مزدور کی کم ازکم اُجرت کی حد بڑھائی گئی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ افراطِ زر اور منہگائی کے منہ زور طوفان میں سرکاری ملازمین اور غریبوں کو ریلیف فراہم نہ کرنا کُھلی ناانصافی ہے۔ گو کہ ابھی تک بجٹ تجاویز ایوان میں زیرِ غور ہیں اور ارکانِ اسمبلی اس پر اپنی آراء دے رہے ہیں،لیکن ایسے حالات میں، جب قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر کئی ارکانِ اسمبلی قرنطینہ میں ہوں، اپوزیشن کی جانب سے کسی نتیجہ خیز بحث کے امکانات خاصے کم ہیں۔ اندازہ یہی ہے کہ تمام تر اعتراضات کے باوجود، بجٹ دونوں ایوانوں سے باآسانی منظوری حاصل کرلے گا۔

نئے مالی سال کے بجٹ کا حجم حیرت انگیز طور پر گزشتہ سال کی نسبت کم رہا۔اِس بار سات ہزار، تین سو ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا، جو گزشتہ سال سے گیارہ فی صد کم ہے۔بجٹ پیش کیے جانے کے اگلے روز’’ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس‘‘ میں مشیرِ خزانہ نے کہا’’ بجٹ کوئی صحیفہ نہیں۔‘‘ ماہرین اِس بیان کے حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشیرِ خزانہ نے اِس بیان کے ذریعے مِنی بجٹ کا اشارہ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بجٹ بنانے والوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ معیشت سُکڑے گی۔ سیدھی سی بات ہے، جب دنیا بھر کی اکانومی سُکڑ رہی ہے، تو ہماری معیشت پر اس کے اثرات کیوں مرتّب نہیں ہوں گے؟ 

پاکستان کی معیشت یا وسائل کے دو بنیادی ذرایع ہیں، ایک آئی ایم ایف اور دوسرا دوست ممالک سے قرضے۔آئی ایم ایف نے کورونا کی وجہ سے اپنے قرضوں کی اقساط مؤخر کی ہیں اور اب وہ دسمبر کے بعد شروع ہوں گی ، جب کہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس مدّت میں مزید اضافے کا بھی قوی امکان ہے۔ اگر ایسا ہوا، تو یہ حکومت اور مُلکی معیشت کے لیے تسلّی کی بات ہے کہ اسے زرِ مبادلہ کے کم دبائو کا سامنا کرنا پڑے گا، کیوں کہ قرضوں پر سود کی ادائی میں خاصا زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔دوسری طرف دوست ممالک کے قرضےہیں۔ 

سعودی عرب، یو اے ای اور چین ہمارے دیرینہ دوست ہیں۔ نیز، وہ ہماری کم زور معاشی صُورتِ حال کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں، اِس لیے وہاں سے بھی خوش کُن خبریں آرہی ہیں کہ وہ بھی اپنے قرضے مؤخر کرنے پر تیار ہیں۔ایک اور اہم بات، جس کی جانب ہم بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں، وہ امپورٹ بِل ہے، جو تقریباً نصف ہو جائے گا۔ اس کی بڑی وجہ تیل کی کم قیمتیں ہیں۔ہمارا تیل کا درآمدی بِل، جو زرِ مبادلہ کا بنیادی شیئر تھا، 14 ارب ڈالرز سے گر کر چھے ارب ڈالرز کے قریب آچُکا ہے۔یاد رہے، سعودی عرب اور یو اے ای نے تیل کی ادائی مؤخر کر رکھی ہیں۔ اگر اِس تناظر میں دیکھا جائے، تو زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبائو بہت کم ہو جائے گا، جو بجٹ کے لیے کسی لاٹری سے کم نہیں۔ اگر تارکینِ وطن کی جانب سے زرِمبادلہ کی ترسیل میں کمی آتی ہے، تب بھی اس کے منفی اثرات بڑی حد تک متوازن ہوجائیں گے، جو بجٹ بنانے والوں کے لیے بہرحال بڑا ریلیف ہے۔

اصل چیلنج محاصل یعنی ٹیکس اہداف کا ہے، جس پر حکومت قابو نہیں پا سکی۔ اگر گزشتہ سال کے ٹیکس ہدف کو دیکھا جائے، تو وہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر پانچ ہزار ارب روپے سے زاید رکھا گیا تھا۔ ماہرین نے اُسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ ایک ناقابلِ حصول ہدف ہے، لیکن حکومت اِس مفروضے کی بنیاد پر بڑے بڑے دعوے کرتی رہی کہ لوگ وزیرِ اعظم، عمران خان کی دیانت داری پر یقین رکھتے ہیں اور وہ جتنا ٹیکس مانگیں گے، عوام آنکھیں بند کرکے قومی خزانہ بھر دیں گے۔خود عمران خان بار ہا یہ بات کہہ چُکے ہیں کہ ’’لوگ اِس لیے ٹیکس نہیں دیتے کہ اُنہیں اپنے دیے گئے پیسوں کے درست استعمال کا یقین نہیں۔‘‘

تاہم،حکومت کے اندازے یک سَر غلط ثابت ہوئے۔وزیرِ اعظم سال بھر یہی شکوے شکایات کرتے رہے کہ کہ اگر لوگ ٹیکس نہیں دیں گے، تو مُلک کیسے چلے گا؟ ہم کب تک بھیک مانگیں گے؟ اُنہوں نے اِس سلسلے میں یہاں تک نشان دہی کی کہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں ٹیکس نہ ہونے کے برابر دیا جاتا ہے۔ صرف تن خواہ دار طبقہ ٹیکس دیتا ہے، وہ بھی اِس لیے کہ اُس کا ٹیکس تن خواہ کے ساتھ ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔ کچھ بڑے تاجر اور صنعت کار بھی ٹیکس دیتے ہیں، جب کہ چھوٹے تاجر، جو مُلکی معیشت کا بڑا حصّہ ہیں، ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اِس سلسلے میں کوئی بات سُننے کے لیے تیار ہیں۔ 

اِس ضمن میں وہ وزیرِ اعظم کے لاک ڈائون پر دئیے گئے دلائل جیسی منطق استعمال کرتے ہیں۔چھوٹے تاجروں کا استدلال ہے کہ پہلے ہی آمدنی کم ہے، ٹیکس دینے کا مطلب صفر آمدنی ہوگا، جس کا نتیجہ بھوک اور غربت کی شکل میں سامنے آئے گا۔وہ ٹیکسز کے معاملے پر شٹر ڈائون ہڑتالیں بھی کرتے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے تمام تر دبائو کے باوجود حکومت کو ان تاجروں کے سامنے جُھکنا پڑا اور ٹیکس نہ دینے پر راضی نامہ ہوا۔ظاہر ہے، اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ریونیو اہداف پر بار بار نظرِ ثانی کی جاتی رہے۔پہلے پانچ ہزار ارب، پھر سال کے شروع میں چار ہزار ارب اور اب بجٹ کے قریب 3900 ارب روپے کا ہدف مقرّر کیا گیا، جو بجٹ تخمینے سے ایک ہزار ارب روپے کم تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ بجٹ کا آغاز گزشتہ سال کے خسارے سے ہوا ہے۔

نئے بجٹ میں بھی آئی ایم ایف کے مطالبے پر پانچ ہزار ارب کا ٹیکس ہدف حقیقت سے دُور ہی ہے۔ظاہر ہے، یہ کورونا کا سال ہے اور اسی تناظر میں سکڑتی معیشت کو دیکھا جائے گا، اسی لیے معاشی معاملات پر تنقید بھی خاصی مشکل ہوگی، جیسا کہ ایک معاشی ماہر کے مطابق، ’’آیندہ مالی سال کا بجٹ’’ سروائیول بجٹ‘‘ ہے، اس دَوران معاشی بحالی کا مطالبہ مناسب نہیں۔ اگر عوام کا جیسے تیسے گزارہ ہوجائے، تو بھی اُنھیں شُکر کرنا چاہیے۔‘‘

حکومت نے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت جتنے روپے ٹیکس یا دوسرے ذرائع سے اکھٹے کرے گی، اُس سے زیادہ خرچ کرے گی۔یعنی آمدنی کم اور خرچ زیادہ۔ ماہرین کے مطابق، حکومت کو کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑے گی، جو ایک یا دو مِنی بجٹ کی صُورت میں ہوسکتی ہے۔ ایف بی آر کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پانچ ہزار ارب روپے مقرّر کیا گیا ہے۔اِس طرح تقریباً دوہزار ارب روپے سے زیادہ کی کمی ہوگی، جسے قرضوں سے پورا کرنا پڑے گا یا پھر دوسرے ذرائع کام میں لانے ہوں گے۔واضح رہے، گزشتہ مالی سال کے دوران، جسے پی ٹی آئی حکومت کام یاب معاشی سال قرار دیتی ہے، پانچ ہزار ارب کے ٹیکس ہدف میں سے صرف تین ہزار، نو سو ارب جمع کیے جاسکے تھے۔اِسی لیے اب ایڈجسٹمنٹ کی بات کی جارہی ہے۔ صرف گزارہ کرنے کی بات بھی اِس لیے درست معلوم ہوتی ہے کہ ترقّیاتی بجٹ مزید کم ہوا ہے اور بجٹ میں کوئی بڑا منصوبہ بھی نہیں رکھا گیا۔ 

صرف سی پیک کو جاری رکھنا ہے ، جس کے لیے پاکستان سے زیادہ چینی قرضے اور وسائل درکار ہوں گے، کیوں کہ یہ منصوبہ چین کے صدر، شی جن پنگ ہی کا فلیگ شپ ہے اوروہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ آئے۔ اگلے برس گلگت بلتستان کے علاہ کہیں نئی سڑکیں نہیں بن سکیں گی، اس لیے اگر نون لیگ کے شروع کردہ بڑے منصوبے ہی مکمل ہوجائیں، تو غنیمت ہے۔واضح رہے، روزگار کے مواقع بڑے منصوبوں ہی سے جنم لیتے ہیں۔ 

بجٹ میں کچھ رقم ڈیم کی تعمیر کے لیے بھی رکھی گئی ہے۔اِس مرتبہ دفاعی بجٹ میں گیارہ فی صد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد دفاعی بجٹ بڑھ کر بارہ کھرب، 89 ارب روپے کا ہوگیا۔گو کہ اس پر کچھ لوگوں نے سوالات اُٹھائے ہیں، تاہم بیش تر ماہرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دفاعی بجٹ کا دوسرے شعبوں سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ سلامتی کے امور کو فوقیت دینا بھی ضروری ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں، جب دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہو۔

تجزئیے، تبصرے اپنی جگہ، مگر عام آدمی کا تو سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ’’ بجٹ میں اُس کے لیے کیا ہے؟‘‘ اِس سوال کا جواب مشیرِ خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں موجود ہے۔اُن کا کہنا تھا’’ جن لوگوں کو ابھی بھی کچھ مل رہا ہے، اُنہیں اِس وقت مزید کچھ دینے کی بجائے اُن لوگوں کے لیے رقوم فراہم کی گئی ہیں، جن کے پاس کچھ نہیں۔ اُنہیں’’ have nots‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس طرح کے افراد کے لیے دو پروگرامز ہیں۔ ایک’’ احساس پروگرام‘‘ جو پی ٹی آئی کا غریبوں کےلیے بنیادی پروگرام ہے۔اس مَد میں دو سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔دوسرا پروگرام’’ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ ہے، اس کے لیے بھی دو سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان دونوں پروگرامز کا مقصد ضرورت مندوں کو براہِ راست فائدہ پہنچانا ہے۔اِس سال آئی ایم ایف کے مطالبے پر تن خواہوں اور پینشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جس کے اس طبقے پر انتہائی منفی اثرات مرتّب ہوں گے۔

زلفی بخاری نے ای او بی آئی کے پینشن یافتہ کے لیے دو ہزار روپے کے اضافے کا اعلان کیا تھا، وہ اضافہ بھی محض ایک ماہ بعد فروری میں واپس لے لیا گیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اقتصای سروے کے مطابق گزشتہ سال منہگائی دس فی صد سے کچھ اوپر رہی، جب کہ خود مختار اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے اسے 13 فی صد سے بھی اوپر بتاتے رہے ہیں۔ تاہم، رواں برس منہگائی کا اندازہ صرف ساڑھے چھے فی صد لگایا گیا ہے، شاید یہ اندازہ یہ سوچ کر لگایا گیا ہوگا کہ لوگوں کی قوّتِ خرید بہت کم ہوچُکی ہے۔جب خریداری ہی نہیں ہوگی، تو منہگائی کیا ہوگی؟ یہ ایک خطرناک بات ہے، خاص طور پر ایک ایسے مُلک کے لیے جس نے اپنی اکانومی کنزیومر یعنی خرید و فروخت پر رکھی ہو۔جب خریداری کا عمل نہیں ہوگا، تو پھر اقتصادی معاملات کیسے آگے بڑھیں گے؟کیا صرف قرض لینا ہی بجٹ کا مقصد ہے؟ وزیرِ اعظم، عمران خان اورسیز پاکستانیوں کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ 

ان پاکستانیوں نے نہ صرف عمران خان کو مقبول بنانے، بلکہ اُن کی مالی امداد کے لیے بھی بہت کام کیا۔ عوام منہگائی اور بیڈ گورنینس کے ہاتھوں تنگ ہوتے رہے، لیکن اوورسیز پاکستانیوں کو اس میں بھی عمران خان کیا کوئی قصور نظر نہ آیا، وہ ان کی دیانت داری کی یادیں تازہ کرتے رہے اور ماضی کی کرپشن کی داستانیں دُہراتے رہے۔ غالباً پی ٹی آئی سے وابستہ پاکستانی تارکینِ وطن ابھی تک الیکشن مہم ہی میں جی رہے ہیں۔اُنہوں نے کرپشن اور احتساب کا نعرہ نہ صرف خود قبول کیا، بلکہ پاکستان میں مقیم اپنے رشتے داروں کی بھی اِس حوالے سے ذہن سازی کی۔ وہ پاکستان کو بھی اپنے نئے مُلک کی طرح سمجھتے رہے، جہاں قانون، گورنینس، مالیاتی ڈسپلن اور جمہوریت سب پر یک ساں طور پر لاگو ہے۔بجٹ میں پہلے سے جاری کچھ مراعات تو اُنھیں دی گئی ہیں، لیکن ایک موبائل فون لانے پر بھی سمندر پار پاکستانیوں کو ٹیکس دینا پڑتا ہے، جس کی وہ بار بار شکایت کرتے ہیں، جب کہ پچھلی حکومتوں میں وہ جتنے موبائل چاہے، لاسکتے تھے۔

بجٹ میں منفی گروتھ دِکھائی گئی ہے۔ زراعت کے سوا کوئی شعبہ اپنا ہدف پورا نہیں کرسکا، لیکن اب اس شعبے میں بھی ٹدی دَل کے مسلسل حملے مسائل پیدا کر رہے ہیں، اسی لیے کورونا کے ساتھ ان حملوں کو بھی ناکام بنانے کے لیے رقم مختص کی گئی۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے لیے بجٹ میں دو معاملات چیلنج بنیں گے۔ایک تو خسارے کا معاملہ ہے، کیوں کہ دو ہزار ارب کا خسارہ کوئی معمولی بات نہیں۔اسے پورا کرنے کے لیے مزید قرضے ناگزیر ہیں۔نیز، منفی بجٹ کا مطلب ہے، نوکریاں بھی کم ہوں گی، جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ گو کہ تین ہزار ارب روپے کے قرضے دسمبر تک مؤخر ہوگئے، مگر پھر بھی وہ واپس تو کرنے ہوں گے۔

البتہ حکومت کو اس بات کا ضرور کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ اس نے کرنٹ اکائونٹ خسارہ خاصا کم کردیا ،جس سے معیشت کو بے حد فائدہ پہنچ رہا ہے،لیکن یہ آمدنی اور خرچ میں جو ہزاروں ارب روپے کا فرق ہے، وہ بہرحال حکومت کے لیے کسی دردِ سر سے کم نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت مشکل صُورتِ حال سے گزر رہی ہے اور معیشت کی بحالی کی کوششوں میں اس کا ساتھ دینا چاہیے۔حکومتی پریشانی کی ایک وجہ کورونا پر اس کی کنفیوزڈ پالیسی ہے، جس نے قوم اور خود اس کے لیے غیر معمولی صُورتِ حال پیدا کردی۔ ڈاکٹرز کے مشوروں پر عمل نہ کرکے اور لاک ڈائون کی مختلف اقسام ایجاد کرکے جس الجھائو میں حکومت خود گرفتار ہوئی ہے، اس سے قومی یک جہتی بھی ختم ہوسکتی ہے۔اسی لیے معاشی بہتری کے لیے قومی یک جہتی کے ساتھ ،عوام کی درست سمت میں رہنمائی بھی ضروری ہے۔