آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوال :۔میں قرآن مجید آواز بلند کر کے نہیں پڑھتا، صرف ہونٹ اور زبان ہلاتا ہوں،دفتر اور بس وغیرہ میں موبائل فون پرقرآن پڑھتا ہوں، تاکہ کسی کو پتا نہ چلے،کیا یہ صحیح ہے؟

جواب :۔قرآنِ کریم کو جہراً (اونچی آواز سے) پڑھنا افضل ہے ،بشرطیکہ کسی کی عبادت یا آرام وغیرہ میں خلل نہ ہو۔ اگر کسی کی عبادت یا آرام وغیرہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر سِرّی (ہلکی آواز سے) تلاوت کرنی چاہیے، لیکن سِرّی تلاوت کی کم از کم حد یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا قرآنِ پاک کے حروف اور الفاظ کا باقاعدہ اپنی زبان سے تلفظ اور ادائیگی کرے، اس طرح کہ خود اپنی آواز سن سکے، زبان سے حروف اور الفاظ کا باقاعدہ تلفظ اداکیے بغیر صرف دل ہی دل میں تلاوت کرنا تلاوت کا تصور ہے، تلاوت نہیں۔ لہٰذا اگر آپ اتنی ہلکی آواز سے تلاوت کر تے ہیں کہ ہونٹ اور زبان ہل رہی ہو اور فی الجملہ اپنی آواز سن سکتے ہوں، تو یہ درست ہے، لیکن اس طرح تلاوت نہ کریں کہ الفاظ کے تلفظ کے بغیر صرف دل ہی دل میں تلاوت کرکے ہونٹ ہلائے جائیں، جس سے آواز پیدا نہ ہو۔

باقی تلاوت کو لوگوں سے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ جب سب لوگ اللہ کی یاد سے غافل ہوں تو اس غفلت کے ماحول میں تلاوت کرکے اللہ پاک کو یاد کرنا بڑی فضیلت کا باعث ہے اور لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے اس موقع پر تلاوت کا اظہار نیکی ہے۔حقیقت میں ایسےماحول میں جب کوئی اور اللہ کو یا د نہ کررہا ہو اورصرف آپ کررہےہوں تو اس پورے ماحول میں آپ ہی اللہ تعالیٰ کی نظر میں زندہ اور باقی سب لوگ گویا مردہ ہوتے ہیں۔