اپنی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ہی طرح کے دھارے میں بہتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہی ہے اور کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی، اسے سیاسی پختگی اور سیاسی بصیرت کی قلت سمجھیے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے ایک ہی طرح کی قومیتیں ہمارے اقتدار پر قابض رہی ہیں۔ اگر یحییٰ خان کا مارشل لا بھی جمع کر لیں تو پاکستان میں اب تک چار مارشل لا لگ چکے ہیں جو اپنی نوعیت اور خاصیت کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ بہت سے انتخابات بھی ہو چکے ہیں، مختلف سیاسی پارٹیاں بھی اقتدار سے زور آزمائی کر چکی ہیں، بہت سے سیاستدان بھی اقتدار میں تشریف لاکر قسمت آزمائی کر چکے ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے نظام میں ذرہ بھر بھی بہتری نہیں آئی۔ گزشتہ ستر سال کی تاریخ، سیاسی نظام، حکمرانی کی صلاحیت، سماجی و اخلاقی اقدار اور قومی اخلاق و کردار کے تنزل کی تکلیف دہ داستان ہے جہاں ایک طرف قوم کا اخلاقی کردار تیزی سے انحطاط کا شکار رہا ہے وہاں کارکردگی پر فخر کرنے والے قومی ادارے بھی ہماری نگاہوں کے سامنے ٹوٹ پھوٹ اور تنزل کا شکار رہے ہیں۔ اسٹیل مل یا پی آئی اے کو چھوڑیے کہ یہ ہماری اپنی تخلیق تھے ہم نے تو ریلوے، پوسٹ آفس، شعبہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ وغیرہ وغیرہ جیسے قومی خدمت کے ادارے برباد کر دیے، جو انگریز ہمیں چالو حالت میں دے کر رخصت ہوئے تھے۔
تنزل کی یہ کہانی نہایت دل شکن اور عبرتناک ہے۔ مشاہدہ اور مطالعہ بتاتا ہے کہ ملکوں اور قوموں کا نظم و نسق سیاسی حکمرانوں اور سول سروس کی صلاحیتوں کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ منظم جمہوری ملکوں میں سیاسی قیادت اور سول سروس رولز ریگولیشن کی پابند ہوتی ہیں۔ چنانچہ ان میں سے جو بھی ان رولز کے ڈھانچے سے باہر قدم رکھے دوسرے ادارے کی ذمہ داری اسے روکنا اور واپس لانا ہوتی ہے۔ اسی لئے پختہ جمہوری معاشروں میں قانون کی حکمرانی رواج پاتی اور قائم رہتی ہے۔ اس استحکام کا بنیادی اصول یا راز سول سروس کی استقامت میں مضمر ہے چنانچہ سول سروس کو اس قدر آئینی تحفظ دیا جاتا ہے کہ ان کے قانونی دائرے میں رہ کر کارکردگی کے راستے میں کوئی شے حائل نہیں ہو سکتی۔ وہ بلاخوف کام کرتے، فیصلے کرتے اور نظام کو چلاتے ہیں۔ یہی تحفظ ہیوسٹن (ٹیکساس) کے پولیس چیف کو یہ جرأت عطا کرتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے طاقتور صدر ٹرمپ سے صاف صاف کہے کہ صدر صاحب اگر آپ عقل کی بات نہیں کر سکتے تو چپ رہیں (شٹ اپ)۔ جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد صدر ٹرمپ نے پولیس کے حوالے سے ایسی باتیں کیں جن سے معاملہ بگڑ سکتا تھا۔ پولیس چیف نے اسی بگاڑ کو روکنے کیلئے ’’صدرِ مملکت‘‘ کو شٹ اپ کال دے دی۔ امریکہ ریاستوں کا ایک مجموعہ یا اتحاد ہے جن میں ٹیکساس ریاست بھی شامل ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ بلوچستان یا سندھ یا پنجاب کا پولیس چیف وزیراعظم عمران خان کے کسی بیان کو فرائض کی سرانجام دہی میں مداخلت سمجھ کر وزیراعظم کو چپ کرا دے۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ یہ حق گوئی اور آزادی سے فرائض کی سرانجام دہی صدارتی نظامِ حکومت کا ہی تحفہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ قانون کی حکمرانی کا لازم حصہ ہے اور برطانیہ سے لیکر تمام یورپی جمہوری ممالک میں یہی صورتحال ہے۔
جمہوریت پاکستان میں بھی ہے لیکن ہماری جمہوریت چند مخصوص خاندانوں،چند مخصوص دیہی ناخدائوں اور کچھ مخصوص قوتوں کی غلام ہے۔ ان قوتوں نے چھ سات دہائیوں سے جمہوریت کو اپنی لونڈی بنا رکھا ہے وہ ملک کے اقتدار پر پوری طرح قابض ہیں اور صرف اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ بالائی طبقے مزید بالائی ہوتے جا رہے ہیں اور نچلے طبقے مزید نیچے جا رہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ آپ کو جو مافیاز نظر آتے ہیں وہ سب اسی نظام کی پیداوار ہیں ورنہ کسی سچے جمہوری معاشرے میں ایسے مافیاز پنپ ہی نہیں سکتے۔ شوگر مافیا جب چاہتا ہے قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈال لیتا ہے۔ آٹا مافیا جب چاہتا ہے قیمتیں بڑھا کر اور قلت پیدا کرکے لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ سیمنٹ اور پٹرول مافیا منہ کھولے کھڑے ہیں۔ اب کورونا کی وبا نے دوائی مافیا کو جنم دے دیا ہے جو سینکڑوں کی دوائی ہزاروں میں کھلے عام فروخت کرتا ہے۔ مستقبل میں آپ کو بہت سی استحصالی قوتیں ابھرتی اور منظم ہوتی نظر آئیں گی کیونکہ ہمارا سیاسی نظام بہت سی بیماریوں کا شکار ہو چکا ہے۔ بالآخر حکمران قوتوں کی ہوس کی قیمت تو غریب عوام کو ہی دینا پڑے گی۔ ایک طرف سیاسی حکمرانوں کی نااہلی کا سانحہ درپیش ہے تو دوسری طرف نااہل اور خودغرض سیاسی قوتوں نے سول سروس کے ڈھانچے کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اس بربادی کا پہلا حصہ بھٹو کے دور میں سول سروسز کو آئینی تحفظ سے محروم کرنا تھا تاکہ اسے خاندانی وفاداری کا خوگر کیا جائے، سیاسی پارٹی کا خادم بنایا جائے اور اپنا ذاتی غلام بنا کر استعمال کیا جائے مطلب یہ تھا کہ حکمران جو جی چاہے کریں۔ سول سروس رولز ریگولیشن کے نام پر رکاوٹ نہ بنے۔ چنانچہ حکمران کھل کھیلے قانون شکنی اور لوٹ مارکا کلچر تیزی سے پروان چڑھنے لگا۔ سول سروس کا ایک حصہ بھی بہتی گنگا سے اپنا حصہ وصول کرنے لگا ۔ اس لوٹ مار کے کلچر نے نہ صرف اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال دیا اور مافیاز کو جنم دیا بلکہ حکومتی اور انتظامی کارکردگی کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔ دیکھ لیجئے آپ کے سامنے ہے قومی منظر سارے قومی اداروں کی کارکردگی زوال پذیر ہے، نیچے سے اوپر تک رشوت کے بغیر کاغذ نہیں ملتا، ریلوے، پوسٹ آفس، اسٹیل مل، ضلعی انتظامیہ، مقامی حکومتیں، تعلیم، صحت، غرض یہ کہ تمام حکومتی شعبے ناکارہ ہو چکے ہیں اس ناکامی کا براہ راست ملبہ کس پر گرتا ہے؟اس کی قیمت کون چکاتا ہے؟ عوام ...
سچ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی ڈھانچے، انتظامی ڈھانچے اور اخلاقی ڈھانچے میں جوہری تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔عوام کو بےبسی اور محرومی کے احساس نے مغلوب کر رکھا ہے۔ مایوسی کے سائے پھیلتے جا رہے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)