آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سشانت سنگھ کی خودکشی کیلئے کسی کو قصور وار ٹھہرانا ٹھیک نہیں، سونو سود

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی فلموں کے اداکار و پروڈیوسر سونو سود کا سشانت سنگھ کی خود کشی سے متعلق کہنا ہے کہ بھارتی شوبز انڈسٹری کے کسی خاص طبقے کو قصور وار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہے ۔بھارتی ویب سائٹ ’ ٹائمز آف انڈیا ‘ کے مطابق سونوسود نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ’ سوشانت سنگھ کی خود کشی پر کچھ دن بات کی جائے گی اور پھر لوگوں کو بات کرنے کے لیے کچھ نیا مل جائے گا اور وہ آگے بڑھ جائیں گے، پھر اس انڈسٹری میں کوئی اور نیا اداکار بننے کے خواب لے کر آئے گا، محنت کرے گا اور فلموں میں کام حاصل کر لے گا۔اپنا ماضی یاد کرتے ہوئے سونو سود نے کہا کہ انہوں نے ایک بار شوٹنگ دیکھنے کے لیے گارڈ کو 500 روپے دیئے تھے تاکہ وہ اُنہیں فلم اسٹوڈیو میں میں داخل ہونے دے، شوٹنگ دیکھنے کے دوران سیٹ پر اُن سے کسی نے پوچھا کہ کیا وہ اداکار ہیں ، جس کا انہوں نے جواب دیا کہ نہیں وہ صرف یہاں شوٹنگ دیکھنے آئے ہیں ۔سونو سود نے کہا کہ اُس وقت انہیں ایسا لگا کہ اداکار بننا بہت آسان ہے مگر حقیقیت میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔46 سالہ سونو سود کا کہنا تھا کہ آپ چاہے جتنے بھی باصلاحیت اور مضبوط ہوں مگر انڈسٹری میں خود کو منوانا بہت مشکل ہے، اس انڈسٹری میں بہت کم لوگ ہیں جو دوسرے شہروں سے آ کر یہاں کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے حصے کی محنت کی اور آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میری محنت نے مجھے اچھا اور عقلمند انسان بنا دیا۔اپنے انٹرویو کے دوران سونو سود نے اقربا پروری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی موت پر انڈسٹری کے کسی ایک مخصوص طبقے کو قصور وار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہے، یہ بہت مشکل ہوتا ہے آپ خود کے لیے کسی کے موت کے الزامات سنیں ۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بہت سارے لوگوں کو زندگی بھی دی ہے ، ہمیں ہر کسی کا احترام کرنے کی ضرورت ہے، وقت کو فیصلہ کر نے دیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔سشانت سنگھ کی موت سے متعلق بات کرتے ہوئے سونو کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے، لوگ سوشانت سنگھ کو ایک اچھے انسان کے طور پر یاد کر رہے ہیں، اُن کے خیال میں لوگوں کو چپ رہنا چاہیے اور کسی کو سوشانت کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

دل لگی سے مزید