آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شائستہ یوسف

اردو میں غزل فارسی سے آئی او رفارسی کی غزل عربی قصائد کے نسیب یعنی تشیبی حصے سے ابھری۔ یہ بات عجیب ہے کہ ایامِ جاہلیہ میں بھی عربوں کی لسانی تہذیب بہت اعلیٰ اور ارفع تھی ، لہذا ان کے قصائد کا معیار بھی شاعری کی بلندیوں کو چھوتا تھا ۔ عربی زبان عملاً ایک ایجاز پسند اور اختصار پسند زبان ہے کہ جہاں اعراب کی تھوڑی سی کمی بیشی سے معانی کا پورا نظام بدل جاتا ہے ۔

فارسی کی غزل میں حسن وعشق میں مکالماتی طرز کو بھی فروغ ملا۔ اس ورثے کی بنیاد پر اردو غزل کی تعمیر عمل میں آئی ، جہاں بیانیہ پر کم اور حسنِ اظہار پر زیادہ زور دیا گیا ۔ مزید برآں اردو میں تشبیہات واستعارات ، تمثیلات وغیرہ کا پورا سرمایہ منتقل ہوگیا ۔ اردو غزل اور اردو کی بیشتر شاعری میں عربی اور فارسی تہذیب کی وجہ سے خارجی اثرات وعناصر کا زیادہ عمل دخل رہا ہے۔

ہماری شاعری کو نئی نظم کے عناصر سے ہمکنار کرانے میں اقبال کا بڑا ہاتھ ہے گوکہ انھوں نے پابند نظمیں کہی ہیں، ان کے بعد میراجی نے جو مشرق ومغرب کا سرمایہ ہمارے سامنے رکھا اس سے بھی اردو میں نئی نظم کی ترویج میں بہت مدد ملی۔اس کے فنی تقاضوں میں نئے آہنگ کی تلاش ،نئی شعری صداقت کی کھوج ، لفظ کی نئی کائنات نئے امکانات او رنئے معانی ومفاہیم کی تخلیق بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، جب تک نئے لکھنے والے ان پہلوؤں کا احاطہ نہیں کریں گے اس وقت تک وہ نئی نظم کے فنی امکانات کی توضیح نہیں کرسکتے ۔ یہ تمام باتیں زبان کے کلی نظام، موجودہ کائناتی، سماجی اور انسانی حقائق کے آئینے ہی میں کی جاتی ہیں ، ورنہ شعری عمل لفظی بازیگری اورخیالی کرتب بازی کا شکار ہوجائے گا۔

ایک نظم کہنے کے لیے شاعر کو ہر چیز کا ازسرنو جائزہ لیناہوتا ہے کیونکہ ایک نظم کہنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک مانوس چیز کو نئے انداز سے دیکھا اور سمجھا جائے۔شاعر کے لیے اس صلاحیت کا ہونا کہ وہ کائنات کی ہر چیزکااز سرنو جائزہ لے انتہائی ضروری ہے ۔ اس کی یہ صلاحیت کہ وہ ہر چیز پرمتحیر ہو ،جیسے وہ دیکھتا ہے اس کا مابہ الامتیاز ہے ۔ہر اچھے شاعر بالخصوص آزاد نظم کے شاعر کو اس حقیقت کو سمجھنا اور حقیقت کی ایسی شعری صداقت تلاش کرنا بہت ہی ضروری ہے ، جس کا انسانی زندگی اورانسانی تہذیب پر اطلاق ممکن ہوسکے۔

تجربہ نیا ہوتا ہے تو اظہار کا پیرایہ بھی نیا ہوتا ہے لیکن ہر نئی بات کے ساتھ مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں ۔ کسی بھی زمانے میں نئی چیز کو بہت آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا ۔ قبل اس کے کہ ذہن ونظر اورسماج قبول کریں ،نئے تجربے کو بہت سارے امتحانات سے گزر نا پڑتا ہے ۔ جب پہلی بار نظم کو نیا پیراہن دیا گیا تو کئی اعتراضات اٹھے لیکن طباطبائی جیسے لوگوں نے اردو میں جدید نظم کی ابتدا کی۔ ایک نظم جس کا عنوان’ ’ بلینک ورس کی حقیقت ‘ ‘ہے ، اس نظم کی خاصیت یہ ہے کہ بلینک ورس نظم اس میں قافیے ردیف کی پابندیوں کا مذاق اڑایا گیا ہے اور شاعری کو فطری شاعری کہا ہے ۔ اس نظم کا بند ملاحظہ کیجیئے:

فطری ان کا ہے رقص اور سب طبعی

ان کی ہی گیتیں بساں رقص طاؤس

سہمے ان کے ہیں راگ سارے اصل

ان کی ہیں دھنیں بساں صورت بلبل

قدرت کے کرشموں سے وہ لیتے تعلیم

ہیں ان کو نہیں تال کی حاجت جیسے

بادل کے گرجنے پر ہے موروں کا رقص

کلیوں کے چٹکنے پر عنادل کا سرور

ہے ویسا ہی رقص جس طرح کا ہے نشاط

ویسا ہی مسرور بھی ہے جس نوع کا وجد

یہ بات نہیں ہے کہ ہے ارادہ کچھ اور

اور قافیہ لے چلا کسی اور طرف یہ بہت ضروری ہے کہ لکھنے والا ہمیشہ تلاش وکھوج میں مبتلا رہے اور اس تلاش وکھوج کے تجربے کو اپنی شاعری کی لسانی میں پرکھے ، اس طرز کے تجربوں کے بغیر شعری تاریخ میں کوئی ندرت ، کوئی نیا پن او رکوئی استعجابی پہلو وجود میں نہیں آسکتا، لہذا ہماری نئی نظم کو ایسے انسانوں کی تلاش ہے جو اول تو زندگی کے اچھے او ربرے تجربات سے گذر سکیں اورپھر اپنے لسانی نظام کی نئی ہیئت میں ڈھال سکیں۔ ہر نیا تجربہ اظہار کا نیا پیرایہ لاتا ہے، لہذا روایتی طور پر مستعمل ہیئت کا معاملہ یہاں معنی ثابت ہوتا ہے، اگر تجربہ نیا ہوگا تو اظہار کا پیرایہ نیا ہوگا ،اس کا ظاہری او رباطنی آہنگ نیا ہوگا ۔ 

اس کی تمثیلیں اوراستعارے نئے ہوں گے ، جب یہ ممکن نہیں ہوتا تو شاعری بالخصوص نظم روایتی اظہار کا شکار ہوجاتی ہے جیسا کہ ہماری اکثرنئی نظموں کے ساتھ ہوا ہے۔انسانی فطرت یہی ہے کہ وہ انفرادیت کو پسند کرتی ہے لیکن جب تک کوئی سوچ اجتماعی فکر کا حصہ نہیں بن جاتی اسے مقبولیت ملنا آسان نہیں ۔اردو شاعری میں غزل کی صنف کو اس قدر مقبولیت ملی کہ دوسری اصناف کو اپنی جگہ بنانا مشکل تھا ۔ لیکن ارتقا کے سفر میں نئی اشیا کی شمولیت ہی نئے معاشرے کی تشکیل ہے ۔شاعری میں بھی نئے تجربے کچھ مغرب کچھ مشرق سے متاثر ہوکر کیے گئے ، جیسے آزادغزل ، ہائیکو، غزل نما ، غزلیہ ، نثری غزل ، ماہیا، تروینی ،کہہ مکرنی، کندیلیاں ، دوہکا، دوپدے ، کتونی، تنکا اور ربنکا ، چوبولے، چھلے وغیرہ۔

آج ہم جس دور سے گزررہے ہیں او رمستقبل میں جس تیزی سے تغیرات کے دھماکوں کی آوازیں پر تول رہی ہیں، نظم کی نئی شکل بھی تقاضا کرتی ہے کہ اس کی طرف مکمل توجہ کی جائے۔وقت کا تقاضا فکر وسوچ کی نئی منزلیں بدلتے منظر میں اپنے زاویے خود چنتے ہیں ، کبھی اپنے اظہار میں کامیاب ہوتے ہیں کبھی ادھورے سفر میں تھک کر گرجاتے ہیں ۔ ادبی نظریات ، رجحانات میں جاری تبدیلیاں ، زبان، زندگی ، ادب ، آرٹ ، آئیڈیالوجی، تہذیب وثقافت پر فی زمانہ سائنس کی تخلیقات او رکمپیوٹر کے برقی اذہان قبضہ کررہے ہیں اور انسانی فکر متاثر ہورہی ہے ۔

لیکن یہ کائنات کے منظر نامے میں گزرنے والا پہلا حادثہ تو نہیں ۔یہ وقت ایک درمیان یعنی قدیم اور جدید کے درمیان حائل ہونے والا ایک پردہ ہے جو نئی سوچ وفکر کا متلاشی ہے ۔نئی نظم ، نیا آہنگ بھی اپنی منزل کی طرف دوڑ رہا ہے ۔ اب اردو زبان اس جہت کی تلاش میں کتنی کامیاب رہے گی اور عالمی سطح پر اپنا کتنا ورثہ چھوڑجائے گی اس کا جواب وقت ہی دے سکتا ہے۔

نظم کی دنیا میں جوش کے علاوہ دو اہم نام اقبال اور انیس کے ہیں، لیکن اتفاق کہ دونوں ہی اپنی شناخت اسلام کے توسط سے بناتے ہیں۔ شاعری کا لباس جو صرف فلسفہ، علوم سیاسی معاشرتی حالات کا متمنی نہیں وہ بے چین ہو کر اس عنصر کو تلاش کرتا ہے، جہاں جمالیات، حسن، فطرت لاشعور زماں، مکاں سے پرے نکلنے کو بے چین ہوجاتے ہیں۔ نظم نے جب چولہ پہنا اور فیض احمد فیض سے گذر کر میراجی اور راشد کے قلم میں سماگئی اور راشد کی نظم’ حسن کوزہ گر ‘نے کہانی کی شکل اختیار کی۔ 

اس کے بعداخترالایمان کی نظم’ بازگشت‘ میں بھی اس بات کو محسوس کرسکتے ہیں۔ علامتیں، استعارے، تشبیہات جوروایت کی مستحکم دیوار اور ادب کی تاریخ ساز اصناف ، اس کے بغیر زبان کا لطف، بیان کا انداز، تصورکی تسکین اور قاری اور تخلیق کار کی تڑپ کے درمیان وسیلۂ اظہار ناممکن ہے۔ یہیں سے جدیدیت کا آغاز اور نظم کا تنوع کہہ سکتے ہیں، گو کہ غزل میں ایک موضوع کو سورنگ میں باندھاگیا اور فنی کمال کا اظہار کیاگیا۔ 

ایک استعارہ کئی رنگوں میں ڈھل کر کئی اذہان میں اپنی شکل کو اجاگر کرتا ہے۔ استعارہ ایک ایساتصور یا ایسی ذہنی تصویر ہے جو فن کے مظاہرے کو قوت دیتی ہے۔ دو لوگوں کے درمیان فکر و سوچ کا ایک انوکھا رشتہ استوار ہوتا ہے۔ اگر یہی استعارہ عام یا اجتماعی مفہوم کی تصویر اختیار کرلے تو دیومالائی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔ اردو شاعری اور غم و یاس کا موضوع بدن اور روح کی طرح ہے، اکثر ہماری شاعری میں ان شاعروں کو کامیاب تصور کیا گیا، جنھوں نے زندگی کی رنگینیوں پر موت کی تلخ حقیقتوں کو ترجیح دی۔ 

یہی وجہ تھی کہ بار بار عشق مجازی سے عشق حقیقی پر آکر تان ٹوٹتی ہے۔ غزل نے اس پیرہن کو پہن کر کئی محفلیں آباد کیں لیکن آج کے عہد کی نظم کچھ اور مانگتی ہے۔ دراصل انوکھا واقعہ انوکھی بات، چونکادینے والی اثرانگیزباتیں، گوکہ اس کا منبع غزل ہے۔ اگر دوسرا مصرعہ پہلے مصرعے کے برعکس نئی بات یا اس جہت کی طرف اشارہ کرے جہاں قاری کی سوچ نہ پہنچ سکی ہو تو قاری لطف اندوز ہوتا ہے اور غور و فکر کے دوازے بھی کھلتے ہیں۔