آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سال20-2019 میں ٹیکس کلیکشن3.9 فیصد زائد، 3967ارب جمع

سال20-2019 میں ٹیکس کلیکشن3.9 فیصد زائد، 3967ارب جمع


اسلام آباد(مہتاب حیدر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے صرف 3.9فیصد کی معمولی ترقی کی ہے اور گزشہ مالی سال 2018-19میں 3826ارب روپے کےمقابلےمیں 3967ارب روپےکاٹیکس رواں مالی سال 2019-20 میں جمع کیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے گزشتہ دوسال میں ایف بی آر کادیٹا ظاہر کرتاہے کہ حکمران پارٹی کے دعووں کےبرعکس کہ ایف بی آر ریونیوایک سال میں 8ہزار ارب روپے تک پہنچ کر ڈبل ہوجائےگا، لیکن ریونیو کلیکشن میں 125ارب روپے کا اضافہ ہواہے۔ تاہم حقیقت میں 2018-19کےدوران ریونیو میں اضافہ منفی رہاجب ایف بی آر نےپی ایم ایل(ن) کی حکومت میں 2017-18میں 3842اربروپے کےبرعکس 3826ارب روپے جمع کیے۔ ملکی تاریخ میں اتنی مایوس کن کارکردگی کبھی نہیں دیکھی گئی لہذا پی ٹی آئی کی دوسالہ کی حکومت میں نئے ریکارڈ بنے ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پی ایم ایل(ن) نے اپنے پانچ سالہ دورِ حکمرانی میں سال 2013 سے 2017-18کےدوران کلیکشن میں 1946ارب روپے سے3842ارب روپے کا اضافہ کیاتھا۔ اگرچہ ایف بی آر نےدعویٰ کیاہے کہ یہ اپنے ٹارگٹس حاصل کرےگا لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت کس طرح سے بجٹ خسارے کو طرح سے جی ڈی پی کے7.1فیصد کی مطلوبہ سطح تک کم کرےگی کیونکہ رواں مالی سال 30جون 2020کو ختم ہوگیاہے۔ اب دو اہم عناصر بجٹ خسارے پر اثرانداز ہوں گے اول، حکومت کی اخراجات کم کرنے کی حکومت کی صلاحیت اور دوئم، صوبے رواں مالی سال میں 423ارب روپے کے مطلوبہ ٹارگٹ کےمقابلے میں کتنا ریونیو سرپلس جمع کرتے ہیں ۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجٹ خسارہ خاص طورپر پرائمری خسارے کو اہم تصور کیاجاتاہےاور مطلوبہ پرائمری خسارے کاہدف مالی سال 2019-20 میں 30جون 2020کواختتام تک 669ارب روپے تصورکیاجارہاہے۔ مالی سال 2019-20 کے مالی آپریشن کی تفصیلات کو تین سے چار ہفتے کے وقت کے بعد جاری کیاجائےگا۔ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کاانحصار زیادہ تر پی ٹی آئی حکومت کی بجٹ خسارے کومطلوبہ حدود تک کم کرنے کی قابلیت پر ہوگا۔ اصل میں سال 2019-20 کے بجٹ کے موقع پر ندازہ لگائےگئے ہدف 5555ارب روپے کے برعکس ایف بی آری نے 3967ارب روپے پورےمالی سال میں جمع کیےاور 1588ارب روپے کاشارٹ فال ظاہر کیا۔ریونیوکےہدف پرتین بار نظرثانی کی گئی کیونکہ اس پر 5555ارب روپے سے 5238ارب روپے تک نظرثانی ہوئی پھر اس ہدف کو 4803ارب روپے ظاہر کیاگیا اور کورونا وبا کے بعد اس ٹارگٹ کو 3908ارب روپے تک کم کردیاگیا۔ ایف بی آر کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں اعلان کیاگیا کہ اس کا ریونیوکلیکشن نظرثانی شدہ 3908ارب روپے کے ہدف کےمقابلے میں 3967ارب روپے ہے لہذا رواں مالی سال میں یہ 59ارب روپے زیادہ ہے۔

اہم خبریں سے مزید