آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب کی سیاست میں نئی کروٹ: اختیارات کیلئے ق لیگ کا حکومت پر دباؤ

یہ اپریل 2018کا واقعہ ہے جب حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے آٹھ ارکان قومی اسمبلی نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر کے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ قائم کر نے کا اعلان کر دیا جس کے بعد ملتان ، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژنوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی جوق دور جوق مسلم لیگ ن کو خیر باد کہہ کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت اختیار کرنے لگے ، اس دوران طاہر بشیر چیمہ، رانا قاسم نون، باسط بخاری اور سمیع اللہ چودھری پر مشتمل جنوبی پنجاب محاذ کے چار رکنی وفد نے تونسہ کا دورہ کیا جہاں بزدار ہائوس میں سردار فتح محمد بزدار اور ان کے بیٹے سردار عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا، الیکشن کے نزدیگ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ تحریک انصاف میں ضم ہو گیا ۔قومی الیکشن کے قریب تحریک انصاف کی قیادت نے دو اہم فیصلے کئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کر کے اس کے تمام سابق ارکان کو پارٹی ٹکٹ جاری کر دئیے اور مسلم لیگ ق کے امیدواروں مقابلے میں اپنے امیدوار دستبردار کر دئیے ۔ 

تحریک انصاف قومی الیکشن میں کامیاب ہو ئی تو پنجاب میں عثمان بزدار وزیر اعلیٰ اور پرویز الٰہی اسپیکر صوبائی اسمبلی بن گئے ۔ حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ ق دس ارکان صوبائی اسمبلی کے باوجود سب سے اہم اور طاقتور حلیف ہے جو اسمبلی سیکرٹریٹ، کابینہ اور صوبائی امور پر مضبوط گرفت رکھتی ہے۔ حالیہ صوبائی بجٹ کی منظوری کے بعد مسلم لیگ ق کی قیادت کا حکومت پر دبائو مزید بڑھ گیا ہے ۔ 

مسلم لیگ ق کی قیادت کے تین اہم مطالبات ہیں پہلا مطالبہ چاراضلاع گجرات، منڈی بہائو الدین،چکوال اور بہاولپور میں تمام انتظامی اختیارات انھیں دئیے جائیں اور کمشنر ، ڈپٹی کمشنر،ڈی پی او سے لے کر ایس ایچ او اور پٹواری تک تمام تبادلے اور تقرریاں ان کی مرضی سے کی جائیں، ق لیگ کا دوسرا مطالبہ ہے کہ اس کے ارکان صوبائی اسمبلی کو مرضی کے ترقیاتی فنڈز جاری کئے جائیں۔ پنجاب میں  ق لیگ کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا فارمولا گزشتہ برس جہانگیر ترین سے مذاکرات میں طے ہوا تھا ،حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین نے ترقیاتی فنڈز کا فارمولہ طے کر کے ہاتھ کاٹ دئیے ۔ 

پنجاب میں سیاسی حالات نئ کروٹ لے رہے ہیں، وزیر اعلی بزدار کو ایک جانب مسلم لیگ ق کا دبائو ہے کہ اس کے ارکان کو مرضی کے فنڈز جاری کئے جائیں تو دوسری جانب جنوبی پنجاب کے ارکان کی ناراضی کا سامنا ہے کہ انھیں مطلوبہ ترقیاتی فنڈز جاری نہیں ہو رہے، ان حالات میں وزارت اعلیٰ کے امیدوار دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں، پرویز الہیٰ انتظار میں ہیں کہ تحریک انصاف میں پھوٹ پڑی تو ان سے زیادہ اہل وزیر اعلیٰ کوئی نہیں، تحریک انصاف کے لاہور اور راولپنڈی کے مضبوط ارکان بھی حالات کی کروٹ کے منتظر ہیں۔ ق لیگ کی قیادت کا تیسرا سب سے اہم مطالبہ ہے کہ شوگر سکینڈل میں چودھری پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کو ملوث نہ کیا جائے۔ 

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اورا سپیکر پرویز الہی کی مقامی ہوٹل میں بجٹ اجلاس کے دوران خصو صی ملاقات بھی ہوئی جس کے بعد عثمان بزدار قدرے مطمین ہیں تاہم چودھری برادران بدستور نا خوش ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اشیا زندگی کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوںمیں ہوشربا اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، صوبہ پنجاب جسے اناج گھر کہا جاتا ہے اور ملک بھر میں غذائی ضروریات پوری کر تا ہے یہاں کے عوام لاک ڈائون اور کورونا کی صورتحال کے بعد ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور حکومت بھی اس مافیا کے سامنے بے بس ہے ۔ 

تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں  اقتدار سنبھالا تو گنے کی امدادی قیمت 180روپے من اور چینی 55روپے کلو تھی لیکن موجود ہ نرخ 85روپے کلو ہو چکے ہیں اورگزشتہ دو برسوں کےد وران چینی کی قیمتیں 30روپے اضافے کے بعد بلند ترین شرح پر پہنچ چکی ہیں، حیرت ہے کہ گنے کی قیمت میں صرف دس روپے من اضافہ کیا گیا اور چینی مافیا نے گنے سے پیدا چینی سے فی کلو 30روپے کلو فائدہ اٹھا یا ۔ ملک میں کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ گنے کی خرید اور چینی کے پید ا واری سیزن میں چینی کی قلت پیدا ہو گئی لیکن نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ رواں سال جنوری سے مارچ کے درمیان شوگر مل مالکان نے ملوں کی بار بار تالہ بندی اور گنے کی خرید بند کر کے کسانوں کو سستے داموں گنا فروخت کرنے پر مجبور کر دیا اور بعدازاں چینی غائب کر کے من مانی قیمتیں وصول کیں۔ رواں سال گندم کی فروخت کا سیزن شروع ہوا تو حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 1300روپے سے بڑھا کر 1400روپے کر دی، گندم کی قیمتوں میں صرف 100روپے اضافہ کر کے فلور مل مالکان کو آٹے کے فروخت میں کھلی چھٹی دے دی گئی اور 20کلو آٹے کا تھیلا 1100روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ20کلو چکی آٹا 1500روپے میں دستیاب ہے۔ 

صوبہ میں پہلی مرتبہ محکمہ خوراک نے کسانوں کے گھروں اور کھیتوں میں چھاپے مار کر زبردستی گندم پر قبضے کئے اور کسان خاندانوں کی سال بھر کی ضرورت کے لئے جمع گندم بھی چھین لی گئی ۔ پنجاب میں صورتحا ل اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ بازاروں میں آٹا اور چینی نایاب ،آٹا ، چینی کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوز منہ مانگی قیمتوں پرآٹا چینی فروخت کر رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں  یکدم 25روپے لٹر اضافے نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔تٍحریک انصاف کے دو سالہ سالہ دورحکومت میں پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا، مسلم لیگ ن حکومت کے پانچ سال میں پٹرول کی قیمتوں میں 5روپے کمی ہوئی ، تحریک انصاف حکومت اگست 2018 میں قائم ہوئی توپٹرول کی قیمت 95روپے لٹر جبکہ یکم جولائی سے چار دن پہلے پٹرول کی میں 25 روپے 58 پیسے اضافہ کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 100روپے 10پیسے لٹر ہو گئی اور موجودہ حکومت کے دوبرس میں قیمت 5روپے لٹر بڑھ گئی۔ 

پٹرول کی قیمتوں کا نظام اوگرا کے ہاتھوں میں ہے ہر ماہ کی آخری تاریخ میں حکومت کو پٹرول کی قیمتوں کی تجاویز دیتی ہے اور وفاقی کابینہ حتمی اعلان کر تی ہے جو ہر ماہ یکم تاریخ کو نافذالعمل ہو تی ہے، حیرت انگیز بات ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے لئے اوگرہ کو بائی پاس کر دیا گیا اور وزارت پٹرولیم نے خود ہی نئی قیمتوں کاعلامیہ جاری کر دیا۔پنجاب میں اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظام مفلوج ہو چکا ہے ۔ 

عثمان بزدار نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنے سیاسی مشیر اکرم چودھری کو وزیر اعلیٰ ٹاسک پرائس کنٹرول ٹاسک فورس کا چیئرمین بنا یا لیکن وزیر اعلیٰ کی ناراضی کے باعث اکرم چودھری کو پہلے مشیر کے عہدے اور بعد میں چیئرمین ٹاسک فورس کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا،وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری چینی سکینڈل کا شکار ہو ئے اور انھیں بھی وزیر خوراک کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ کابینہ میں عبدالعلیم خان وزیر خوراک اور ٹاسک فورس پرائس کنٹرول کا عہدہ وزیر صنعت و سرمایہ کاری اسلم اقبال کے سپرد ہے لیکن دونوں کی نظریں اعلیٰ منصب پر لگی ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید