آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’مسلمان حکمرانوں کے ڈوب مرنے کے لئے بس دو تصویریں کافی ہیں‘‘ بودی شاہ نے گرجتے ہوئے یہ الفاظ ادا کئے تو میں نے عرض کیا، شاہ جی! کونسی دو تصویریں؟ یہ سوال سن کر بودی شاہ مزید لال پیلا ہو گیا اور پھر غصے سے گرجدار آواز میں بولا ’’میرے سامنے کاکے بنتے ہو، تمہیں نہیں پتا ان دو تصویروں کا، ایک تصویر سوپور مقبوضہ کشمیر کی ہے۔

جہاں ساٹھ سالہ بشیر احمد خان کو بھارتی درندوں نے گولیاں مار دیں، دیکھ نہیں رہے ہو کہ بشیر احمد خون میں لت پت زمین پہ پڑا ہے، زمین پہ پڑی ہوئی بشیر احمد کی لاش پر اس کا تین سالہ نواسہ بیٹھا ہے، سینے پر بیٹھا یہ بچہ مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کی بزدلی کا ماتم کر رہا ہے۔

بے بسی کی تصویر بنا ہوا یہ بچہ کیا سوچ رہا ہو گا کہ میں اس دین کا پیروکار ہوںجس کے ماننے والے ڈیڑھ ارب سے زائد ہیں مگر سب بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں، جن کے منہ پر قفل لگا ہوا ہے، جن کے ہاتھوں میں غلامانہ سوچوں کی زنجیریں ہیں، جو بزدل ہیں، ڈرتے ہیں، خوابِ غفلت کے شکار مسلمان حکمرانوں کو شاید دوسری تصویر بھی نظر نہیں آئی ہے۔

 دس بارہ سال کا ایک فلسطینی بچہ زمین پر گرا پڑا ہے، اس کی گردن پر ایک یہودی کتے نے گھٹنا رکھا ہوا ہے، ویسے ہی جیسے جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھا گیا تھا مگر وہاں امریکی شہریوں نے مظاہروں میں پوسٹر لہرا دیے تھے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں جو موت پر چپ رہیں۔ 

فلسطینی بچہ بھی مر گیا، اس کی آخری سانسیں بھی پکار رہی تھیں میرے مولا! میرا جرم صرف یہی ہے کہ میں مسلمان ہوں مگر میری آخری سانسیں سوال کرتی ہیں، کہاں گئے بڑے بڑے حکمران، کہاں گئے جبے پہنے ہوئے بادشاہ، کہاں گئی مسلمانوں کی غیرت؟ میرے مالک! میں تو ایک فلسطینی بچہ ہوں، میرے اردگرد مسلمانوں کے اتنے بڑے بڑے ملک ہیں، مجھے بچانے والا، ان ملکوں میں کوئی نہیں، اتنا بڑا اردن، مصر کتنا وسیع ہے، شام والے بھی چپ ہیں، کوئی لبنان ہی سے آ جاتا۔

 دولت کے انبوہ کثیر پہ بیٹھے ہوئے عرب حکمران ہی بول پڑتے مگر انہیں میں کہاں یاد آئوں گا، وہ تو آج کل اس دکھ میں مبتلا ہیں کہ کورونا کے باعث ان کے اربوں ڈالر مر گئے، کورونا کے باعث سینما گھر بھی ویران، جوئے خانے بھی اجڑ گئے حالانکہ سینما گھر اور جوئے خانے تو ماڈرن ولی عہد نے اس لئے بنائے تھے کہ نفع ہو گا، آمدن ہو گی مگر ہر طرف گھاٹا ہی گھاٹا۔

 اسی طرح شاید باقی عرب ملکوں کے حکمران بھی کہیں نہ کہیں مصروف ہوں لیکن میں موت کی وادی میں اترتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں کہ اسلامی ملکوں کی اتنی بڑی بڑی افواج کیا کر رہی ہیں، کیا وہ ڈیڑھ پونے دو لاکھ اسرائیلی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتیں؟ یہ سوالات سن کر سوچتا ہوں، وہ جذبہ کہاں گیا؟ وہ تو تین سو تیرہ، ہزاروں کے لشکر پر بھاری تھے۔

یہودی ابھی تک حیدر کرارؓ کے وہ وار نہیں بھولے، کس طرح یہودیوں کے تین سردار بھائیوں مرحب، حارث اور اسیر کو چیر کے رکھ دیا تھا، جذبہ لڑتا ہے، ایمان لڑتا ہے، ایمان 72کو بھی نہیں جھکنے دیتا۔ شروع اسلام کی باتیں چھوڑ کر ہزار سال بعد کی باتیں کر لو، کیا ان مسلمان حکمرانوں میں کوئی تیمور، کوئی بابر نہیں، کوئی بیبرس بھی نہیں؟

 اقوام متحدہ کی طرف کیا دیکھتے ہو وہ تو ایک دھوکے کا نام ہے۔ رہی او آئی سی، تو یہ غلام مسلمان حکمرانوں کا ایک قبرستان ہے، لڑو، کیا تمہیں جہاد کا حکم نہیں‘‘۔

بودی شاہ کا جارحانہ خطاب جاری تھا کہ میں نے اسے ایک لمحے کے لئے روک کر پوچھا، شاہ جی! یہ بیبرس کون تھا؟ بودی شاہ گرجتے ہوئے بولا ’’تمہیں تاریخ کا کچھ پتا نہیں، تیمور کے اجداد مسلمان نہیں تھے، ان منگول تاتاریوں نے دنیا پر بڑے ظلم کئے، ایشیا اور یورپ ان کی ہیبت سے کانپتے تھے، ہلاکو خان اور چنگیز خان کے بنائے ہوئے کھوپڑیوں کے مینار تاریخ کا حصہ ہیں، تاتاریوں کا لشکر جدھر سے گزرتا، سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیتا، خلافت عباسیہ کی بنیادیں ہل گئیں، بغداد کو تاراج کیا، چین غلام بن گیا اور اناطولیہ پر منگولی پرچم لہرانے لگا۔ 

بارہویں صدی میں وسط ایشیا، مشرقی یورپ اور بغداد کی حکومتیں منگولوں کے سامنےریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔

 انہوں نے سب حکومتوں کو تہس نہس کر دیا تھا، مسلمان مغلوب ہو کر رہ گئے تھے، ایک مصر رہ گیا تھا جہاں مملوک غلاموں کی حکومت تھی، رکن الدین بیبرس اس حکومت کا سربراہ تھا۔ غلام اور غلام زادوں نے خطرے کو بھانپتے ہوئے تیاری کی، عین جالوت کے میدان میں منگول طوفان کی طرح آئے مگر بیبرس چٹان کی طرح کھڑا ہو گیا، بیبرس کی فوج تعداد میں کم تھی، اسلحہ نہ ہونے کے برابر تھا مگر وہ بزدل نہیں تھا۔

یہ وہی بیبرس تھا جو کبھی چند دیناروں کے عوض فروخت ہوا تھا۔ منگولوں کی تلواروں کے وار روکنا مشکل کام تھا مگر مملوک غلام تلواریں ایسے روکتے کہ چنگاریاں نکلتیں۔ منگولوں کو نہ صرف پسپا ہونا پڑا بلکہ بھاگنا پڑا۔ یوں بیبرس نے مسلمان حکومت کا وجود برقرار رکھا۔

مگر افسوس آج کے مسلمان حکمرانوں میں کوئی بیبرس بھی نہیں، دو مظلوم مسلمان بچوں کی تصویریں دیکھ کر مسلمان حکمرانوں کو ڈوب مرنا چاہئے۔ ان کے ڈوب مرنے کیلئے دو تصویریں ہی کافی ہیں‘‘ بقول اقبالؒ؎

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن