• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناک کے اسپرے کا زیادہ استعمال ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، ماہرین

ماہرین صحت نے ڈی کونجیسٹنٹ نیزل اسپرے (ناک کے اسپرے) کے بہت زیادہ استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ناک میں موجود سانس کی نالیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق ناک کے اسپرے کے عادی ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو خطرناک بات ہے۔ 

واضح رہے کہ برطانیہ میں یہ اسپرے کیمسٹ سے چار پاؤنڈ سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں، لوگ خاص طور پر نزلہ اور فلو کے موسم میں ناک بند ہونے کی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کے لیے عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

ایک حالیہ تحقیق سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 60 فیصد افراد اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ اس اسپرے کو طویل مدت تک استعمال نہیں کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے وہ خطرناک حد تک ری باؤنڈ کنجیشن (دوبارہ شدید ناک بند ہونا) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 

اس حوالے سے رائل فارماسیوٹیکل سوسائٹی نے کہا کہ اسکا طویل استعمال ناک میں موجود حساس خون کی نالیوں میں سوزش  اور سوجن پیدا کرسکتی ہے۔ جبکہ یہ ناک میں رکاوٹ کو مزید بڑھاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مریض کو سانس لینے کے لیے دوا اور علاج پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

اس کیفیت کو طبی زبان میں رائٹائٹس میڈیسیمنٹوزا کہا جاتا ہے اور یہ ناک کے اسپرے کو زیادہ استعمال کرنے والے کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے جلن، نزلہ، چھینکیں اور ناک بند ہونا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

کچھ مریضوں کو مسلسل سوجن کے مسائل سے نجات کے لیے سرجری کرانی پڑتی ہے۔ اس وقت تقریباً 55 لاکھ افراد برطانیہ میں اس کے عادی بننے کا خطرہ مول لے چکے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید