آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہے ضد اب حکمرانوں کو بجلیاں گرانے کی!

پاکستان میں مہنگائی اب اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ملک کی بڑی آبادی کیلئے اپنی آمدن میں گزارا کرنا مشکل ہی نہیں، تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں توازن کے خوفناک اور تباہ کن حد تک بگڑنے کے کئی اسباب ہیں لیکن سب سے بڑا سبب بجلی کے ٹیرف میں بےپناہ اضافہ کے ساتھ ساتھ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے من مانی اور اضافی بلنگ ہے۔ اس سے معیشت نہ صرف تباہ ہو رہی ہے بلکہ پاکستانی سماج کے تانے بانے بکھر رہے ہیں۔ اس بات پر اگر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا اور بجلی کے ٹیرف عوام کی سکت میں نہ رہے تو وہ کچھ اس ملک میں ہوگا، جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یوں تو تمام ہی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے مگر سب سے زیادہ چیخ و پکار بجلی کے بلوں پر ہو رہی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کھانے پینے یا بنیادی ضرورت کی دیگر اشیا جب مہنگی ہوتی ہیں تو لوگ مجبوراً کھانے کی مقدار کم کر دیتے ہیں یا ضروریات کو محدود کر دیتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو اپنی پرائیویٹ گاڑیوں کو چھوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، جو پبلک ٹرانسپورٹ میں زیادہ سفر کرتے ہیں وہ اپنا سفر کم کر دیتے ہیں۔ اس طرح مہنگائی کے ساتھ ساتھ لوگ اپنی خوراک اور دیگر ضروریات کو گھٹا دیتے ہیں اور مجموعی طور پر ان کا معیارِ زندگی، ان کی صحت اور ان کے سماجی تعلقات پستی اور بحران کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔

بجلی ایک ایسی ضرورت ہے، جس کا ٹیرف جتنا بھی بڑھا دیا جائے وہ لوگوں کو ہر حال میں دینا ہے، وہ مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کو قرض دینے والے عالمی ادارے مقروض ممالک میں ’’معاشی اصلاحات‘‘ کےنام پر بجلی اور گیس کے ٹیرف میں اضافے اور پٹرولیم مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے کی شرائط عائد کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد معاشی اصلاحات صرف اس لئے ہوتی ہیں کہ مقروض ممالک قرض واپس کرنے کی رقم جمع کر سکیں، بجلی لوٹ مار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

پاکستان کے حکمرانوں نے عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر زیادہ مزاحمت نہیں کی۔ جو مزاحمت کرتے ہیں، انہیں نہ صرف حکومتوں سے باہر کر دیا جاتا ہے بلکہ کرپٹ اور ملک دشمن بھی قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت نے ’’عوام دوست‘‘ بننے کے جوش میں ایک بار پھر یہ فیصلہ کیا تھا کہ کم از کم ڈیڑھ سال تک بجلی کے ٹیرف نہیں بڑھائے جائیں گے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔ نیپرا کو بھی پندرہ روزہ اور ماہانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے روک دیا جائے گا لیکن حکومت اس فیصلے پر قائم نہیں رہ سکی اور دو سال میں کراچی سمیت پورے ملک میں چار مرتبہ ٹیرف میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔

کے الیکٹرک کے ٹیرف میں فی یونٹ 1.09سے 2.89روپے حالیہ اضافے کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی ہے جو کم از کم 185فیصد اضافہ ہے جس پر کراچی کے عوام چیخ پڑے ہیں، جو پہلے ہی پورے ملک سے زیادہ مہنگی بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فی یونٹ بجلی کا جو ریٹ مقرر کیا جاتا ہے، وہ سال بھر کیا 24گھنٹے بھی ایک جیسا نہیں ہوتا، اپریل تا اکتوبر الگ ریٹ ہوتے ہیں جبکہ نومبر تا مارچ دوسرے ریٹ ہوتے ہیں۔ ایک دن میں پیک آورز کے دوران الگ ریٹ ہوتے ہیں۔ پھر سلیب (Slab) بنا دیے گئے ہیں یعنی جو زیادہ بجلی استعمال کرے گا، وہ زیادہ بل ادا کرے گا۔ دنیا بھر میں زیادہ بجلی استعمال کرنے والے کو رعایت دی جاتی ہے۔ یہاں عجیب منطق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک میں بجلی نہیں ہے۔ لہٰذا زیادہ بجلی استعمال نہ کریں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو علاقے زیادہ بل ادا کرتے ہیں، وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی مگر اب تو ان علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے جو 100فیصد بل ادا کرتے ہیں۔ بجلی کی کمی کیوں ہے؟ کچھ تجاویز ہیں ان پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے تاکہ اجتماعی کوشش اور دانش کے ذریعے حل نکالا جائے۔

(1) بجلی بنانے والے اور تقسیم کرنے والے ادارے الگ الگ کئے جائیں۔ (2) کراچی میں بجلی بنانے اور تقسیم کے کم از کم 5ادارے ہونے چاہئیں۔ (3) بجلی بنانے والوں کو پابند کیا جائے کہ فرنس آئل پر جو بجلی پیدا کی جا سکتی ہے وہ ضرور کی جائے۔ (4) کمپنیوں کو مجبور کیا جائے کہ منافع کا کم از کم50 فیصد تقسیم کار اور مینوفیکچرنگ کپیسٹی بڑھانے پر خرچ کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو چند سالوں میں بجلی ہونے کے باوجود اس کو تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں ہو گی۔ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جن ملکوں میں بجلی سستی ہے یامفت ہے، ان ملکوں میں سب سے زیادہ سیاسی بحران پیدا کئے جا تے ہیں۔ ’’انرجی پالٹیکس‘‘ کو ہم اب تک سمجھ نہیں سکے۔ پاکستان ان ملکوں کی صف میں آگیا ہے، جہاں لوگوں کی زیادہ تر آمدن بجلی کے بلوں کے ذریعے لوٹ لی جاتی ہے۔ بجلی کے اداروں کے ملازمین کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر جو بجلی چوری کی جاتی ہے، اس کے پیسے بھی اضافی بلوں کی صورت میں ان لوگوں سے وصول کئے جاتے ہیں، جو بجلی چوری نہیں کرتے۔ میں نے بجلی کے ماہرین سے بھی بات کی ہے اور دنیا میں فی کس آمدنی کے تناسب سے بجلی کے ریٹس کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ پاکستان بدترین صورتحال سے دوچار ہے جو اب لوگوں کی برداشت سے باہر ہے۔ لوگوں کے پاس پیسے نہ ہو تو وہ فاقے کر سکتے ہیں لیکن بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتے۔ پاکستان بہت سے سنگین مسائل سے دوچار ہے لیکن بجلی اسی طرح گرتی رہی تو یہ آشیاں جل جائے گا۔