آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صدرِ مملکت عارف علوی نے گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام جیو پارلیمنٹ میں اہم قومی امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جہاں اٹھارہویں آئینی ترمیم پر نظر ثانی، کرپشن، احتساب، کورونا، وفاق اور صوبوں کے تعلقات، کشمیر اور دیگر حوالوں سے حکمراں جماعت کی پالیسیوں کو بالعموم درست قرار دیا وہیں یہ بھی کہا کہ نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی تحقیقات بھی کرنی چاہیے ۔ صدر کے یہ الفاظ اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ نیب نے ممکنہ کرپشن کے اُن معاملات میں جن کا تعلق موجودہ حکمراں جماعت سے ہے، لیت و لعل کی روش اختیار کر رکھی ہے اور ان کی تحقیقات سے گریز کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیب کے اس رویے کی وجہ کیا ہے کہ اس کی بیشتر کارروائیاں حکومت وقت سے اختلاف رکھنے والوں ہی تک محدود ہیں جبکہ نیب آئینی طور پر ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہے اور اس کے اس طرزِ عمل نے بہت بڑے پیمانے پر اس گمان کو تقویت دی ہے کہ احتساب کے نام پر اس ادارے سے حکومت کے مخالفین کو دباؤ میں رکھنے کا کام لیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے احتساب کا پورا عمل مشتبہ ہو گیا ہے۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے ناگزیر ہے کہ احتساب کا یہ کلیدی ادارہ نہ صرف قطعی غیر جانبداری سے کام لے بلکہ حکومت سے متعلق معاملات کو شفافیت کے پورے اہتمام کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے۔ اس امر کو یقینی بنانا تحریک انصاف کی قیادت کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے جسے عوام نے اصل مینڈیٹ ہی ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا دیا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ صدر کے اظہارِ خیال کے مطابق نیب مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں سے چشم پوشی کی روش فی الفور ترک کرے اور حکومت ان کی تحقیقات کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو بلا تاخیر دور کرنے کا اہتمام کرے تاکہ احتساب کا عمل پوری طرح معتبر ہو اور ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا خواب عملی حقیقت میں ڈھل سکے۔