آپ آف لائن ہیں
پیر12؍ذی الحج 1441ھ 3 اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

واوڈا کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ


اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

پٹیشنر میاں فیصل ایڈووکیٹ کی طرف سے بیرسٹر جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔

نااہلی کیس میں عدالت نے 29 جنوری کو فیصل واوڈا کو 2 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا فیصل واوڈا کی جانب سے ابھی تک جواب نہیں آیا؟

بیرسٹر جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ 5 مہینے ہو گئے ہیں، فیصل واوڈا جواب داخل ہی نہیں کرانا چاہتے، انہوں نے جواب داخل نہ کرا کے عدالتی حکم عدولی کی۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصل واوڈا کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے، مفادِ عامہ کا کیس ہے، فیصل واڈا وفاقی وزیر ہیں اور روز فیصلے کر رہے ہیں، ان کی نا اہلی کا کیس دو جمع دو چار کی طرح سادہ ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ان سے استفسار کیا کہ اگر یہ نتیجہ ساڑھے چار یا ساڑھے تین نکل آیا تو پھر کیا ہو گا؟ نا اہلی کیس پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:۔

عدالتی احکامات نظر انداز کرنے پر واوڈا کیخلاف توہین عدالت کی درخواست

بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ مگر فیصل واوڈا کو جواب داخل کرانے کے لیے بھی پابند کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق آپ کی درخواست پر مناسب حکم نامہ جاری کریں گے۔

درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیصل واوڈا کو دہری شہریت چھپانے پر نااہل قرار دینے کی پٹیشن زیرِ سماعت ہے، فیصل واوڈا نے 11 جون کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ریٹرننگ افسر نے 18 جون کو ان کاغذات کو منظور کیا۔

درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ فیصل واڈا نے امریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست 22 جون کو جمع کرائی، کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے جسے انہوں نے چھپایا، فیصل واوڈا نے غیر قانونی طور پر پبلک آفس سنبھال رکھا ہے۔

قومی خبریں سے مزید