آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’نیب کا ادارہ چل نہیں رہا، مقدمے درج ہو رہے ہیں فیصلے نہیں ہورہے، مقدمات بیس بیس سال سے زیر التواء ہیں، یہی ہونا ہے تو کیوں نہ نیب اور احتساب عدالتیں بند کردیں‘‘۔ قومی احتساب بیورو کی کارکردگی پر گزشتہ روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی جانب سے اس قدر سخت اظہارِ عدم اطمینان، ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے نام پر قائم کیے گئے ادارے کی کارکردگی پر یقیناً ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل تین رکنی خصوصی بنچ نے بدھ کو نیب آرڈیننس کی دفعہ 16کے تحت احتساب عدالتوں میں نیب ریفرنسوں کے تیس دن کے اندر اندر فیصلے جاری کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے نیب کی کارکردگی کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں صورت حال کی مزید صراحت ان الفاظ میں کی کہ ’’قانون کے مطابق تو نیب ریفرنس کا فیصلہ تیس دن کے اندر اندر ہوجانا چاہئے لیکن لگتا ہے کہ نیب کے ملک بھر میں زیر التوا 1226ریفرنسوں کے فیصلے ہونے میں ایک صدی لگ جائے گی،ریفرنسوں کا جلد فیصلہ نہ ہونے سے نیب کے قانون کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا؟‘‘ قومی احتساب بیورو کے سربراہ اور حکومت وقت کی جانب سے اگرچہ نیب کی کارکردگی پر بالعموم اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن چیف جسٹس نے جن وجوہ سے معاملات کو قابلِ توجہ قرار دیا ہے وہ ایک کھلی حقیقت ہیں، اس کے باوجود عدالت میں زیر سماعت اس قدر اہم مقدمے میں وفاق کے متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کا نہایت ناقابلِ رشک مظاہرہ اس صورت میں ہوا کہ عدالتی نوٹس کے باوجود سماعت کے دوران اٹارنی جنرل، پراسکیوٹر جنرل نیب اور وفاقی سیکرٹری قانون عدالت میں موجود نہیں تھے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے ملک بھر میں بدعنوانی کے مقدمات جلد نمٹانے کی خاطر حکومت کو کم از کم 120نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش رفت کی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ پہلے سے موجود پانچ احتساب عدالتوں میں ججوں اور دیگر عملہ کی خالی اسامیوں پر ایک ہفتے کے اندر اندر تعیناتیاں کرنے اور چیئرمین نیب کو اپنے دستخطوں سے تجاویز جمع کرانے کا حکم جاری کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 16کے تقاضوں کے مطابق زیر التواء ریفرنسوں کے تین ماہ کے اندر اندر فیصلوں کو یقینی بنانے کیلئے چیئرمین نیب سے بھی تجاویز مانگ لی ہیں نیز یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر پانچ احتساب عدالتوں میں ججوں کی خالی اسامیوں پر تعیناتی نہ کی گئی تو لاپروائی کے ذمہ دار افسروں کے خلاف سخت ترین ایکشن ہوگا۔ یہ سوال یقیناً سنجیدہ غور و فکر کا طالب ہے کہ قومی احتساب بیورو جس کا قیام نومبر 1999میں فوجی انقلاب کے ایک ماہ بعد ان یقین دہانیوں کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ بلاامتیاز، بےلاگ، شفاف اور غیرجانبدارانہ احتساب کے ذریعے یہ ادارہ ملک سے ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرے گا، وہ اپنے اہداف ومقاصد کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہو سکا ہے۔ اس ادارے کے تین عشروں سے سرگرم کار ہونے کے باوجود یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ نہ صرف یہ کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اس کا پھیلاؤ اور حجم مسلسل بڑھتا چلا گیا۔ اس کی وجہ واضح طور پر یہ ہے کہ وقت کی حکومتیں اس ادارے کو روزِ اول ہی سے بالعموم اپنے مخالفین کو دباؤ میں رکھنے اور سیاسی وفاداریاں بدلوانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی چلی آرہی ہیں جس کے باعث وہ مقاصد نظر انداز ہورہے ہیں جن کی یقین دہانیوں کے ساتھ اسے وجود میں لایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عدلیہ کو اس معاملے کا خود نوٹس لینا پڑا تاہم کم از کم اب حکومت کو عدالتی ہدایات پر بلاتاخیر عمل کرکے نیب کے حقیقی مقاصد کے حصول کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔