آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے بدھ کے روز قومی اسمبلی میں پاکستان پوسٹ کو بینک کا درجہ دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمے کے ذمہ 14لاکھ پنشنروں کو اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈ فراہم کئے جائیں گے جس سے یہ لوگ گھر بیٹھے پنشن حاصل کر سکیں گے۔ سرکاری پنشنروں کے لئے یہ اقدام وقت کی ضرورت ہے اور یہ سہولت ای او بی آئی نجی شعبے سے وابستہ افراد کو پہلے ہی دے رہا ہے۔ پاکستان پوسٹ جنوبی ایشیا کا قدیم ترین محکمہ ہے جو بلاشبہ قیامِ پاکستان کے بعد عوام الناس کی خدمت میں پیش پیش رہا ہے اور ملک کے طول و عرض میں دور افتادہ علاقوں تک لوگوں کو ڈاک کی سہولیات بہم پہنچائیں تاہم ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں داخل ہونے کے بعد یہ محکمہ ماضی کی حکومتوں کی عدم توجہی کا شکار ہوتا چلا گیا اور اب کم و بیش دو دہائیوں سے معاشی اتار چڑھائو کا شکار ہے اس دوران اب تک ملک بھر میں درجنوں ڈاکخانے بند ہو چکے ہیں حالانکہ دنیا بھر میں آج بھی یہ محکمہ انتہائی فعال ہے۔ وطن عزیز میں بھی نجی شعبے میں بہت منافع بخش ثابت ہو رہا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں ڈاکخانوں کی تعداد 13ہزار کے لگ بھگ ہے جن سے دو کروڑ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ یوٹیلٹی بل، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محصولات، سیونگ بینک، پوسٹل لائف کی سہولیات آج بھی میسر ہیں۔ آج بھی ریلوے کے بعد یہ دوسرا محکمہ ہے جس کے اثاثوں کی مالیت سب سے زیادہ ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات نے نشاندہی کی ہے کہ ماضی میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اس وقت بھی محکمے کی 83برانچیں ڈیجیٹلائزیشن سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات ارب کے خسارے میں جانے والے اس ادارے کے منافع میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہم نے تین ارب بیس کروڑ روپے کی چوری پکڑی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے یہ اقدامات بجا طور پر وقت کی اہم ضرورت ہیں مزید بہتر ہوگا کہ ایک مربوط پروگرام کے تحت پاکستان پوسٹ کو پہلے جیسا نفع بخش محکمہ بنانے کی سعی کی جائے۔