آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان کی معلوم تاریخ اور نا معلوم تاریخ میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں،آئے دن کوئی ماضی کی نئی کہانی سنا دیتا ہے ،جس پر کچھ لوگ کہتے ہیں ۔ یہ سرا سر جھوٹ ہے ۔کچھ ان باتوں پر فوراً ایمان لے آتے ہیں ۔میرے خیال میں ہمارامظلوم ترین مضمون ’’تاریخ ِ پاکستان ‘‘ ہے ۔ 

سیکولر ذہنوں کی تاریخ کچھ اور ہے ، مسلمانوں کی کچھ اور ۔مذہبی رہنمائوں کی کچھ اور ، کمیونسٹوں کی کچھ ،اقلیتیں کچھ اور بتاتی ہیں ۔انگریز کچھ اور قصے سناتے ہیں ۔ابھی برٹش لائبریری میں موجود کچھ خطوط شائع ہوئے ۔ان کو پڑھ کر تو بعض عظیم الشان شخصیات بھی مشکوک ہو گئیں۔

کسی کے نزدیک محمد بن قاسم ہیرو ہیں ۔کچھ لوگ راجہ داہرکو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں ۔ سکندر اور پورس کے حامی بھی موجود ہیں ۔محترمہ فاطمہ جناح کےکچھ کارپرداز لکھتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا تھا،کچھ اس بات کو افواہ قرار دیتے ہیں ۔

بہر حال مجموعی طورہم پاکستانی انہیں مادرِ ملت بھی کہتے ہیں مگرصدر ایوب کے مخالف بھی نہیں ہیں۔یعنی ہر دانشور نے اپنی مرضی کی تاریخ بنا رکھی ہے ۔ 

نصاب کی کتابوں میں موجود تاریخ پر بھی کچھ لوگوں نے بڑے خوفناک سوالات اٹھا رکھے ہیں ۔میرے استاد گرامی سید نصیر شاہ اسے ’’ تخلیقی تاریخ ‘‘ کہا کرتے تھے ۔

میرا خیال ہے پاکستان کی تاریخ پر بات کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ تاریخ ہے کیا شے ۔کس بات کوتاریخ کہا جا سکتا ہے ۔ کون مورخ ہو سکتا ہے اور کون نہیں ۔مورخ کےلئے ضروری ہے کہ وہ کم و بیش اپنی ذہنی تنگ نظر ی کی کوٹھڑی سے نکل کربات کرے۔

ہمارے زیادہ تر مورخ اپنے نظریات کے اسیر ہو کر تصویر کا ایک رخ بیان کرتے چلے آرہے ہیں ۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ تاریخ اُس چیز کو کہتے ہیں جوانسان سے متعلق ہواور ماضی بن چکی ہو ۔اس کا حال اور مستقبل سے کوئی تعلق نہ ہوحالانکہ تاریخ کا کم سے کم مواد بھی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تاریخ دراصل عہد ِ موجودکو عہد قدیم سے مر بوط کرتی ہے۔

 ہماری موجودتاریخ تقریبا ً تین ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے جسے ،C 1000 B قبل مسیح کہتے ہیں ۔اِس تاریخ کا آغاز پتھروں پر کندہ تصویروں سے ہوتا ہے ۔

پاکستان کی تاریخ تو کل کی بات ہے ۔اس میں تحقیق کوئی مشکل مسئلہ ہے ہی نہیں ۔لیکن یہ حکومتوں کا کام ہے ، یونیورسٹیوں کا کام ہے ۔پاکستان میں اس طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلرڈاکٹر سلیم مظہر سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری میں ہزاروں مخطوطے موجود ہیں ۔ 

صرف تیرہ ہزار مخطوطے سنسکرت زبان میں ہیں ۔ہم اس سلسلے میں کوشش کررہے ہیں کہ ان تمام کے تراجم کراکے انہیں شائع کیا جائے، ممکن ہے تاریخ کے کچھ سر بستہ راز کھل جائیں مگرہمارے مسائل فنڈنگ کے ہیں ۔ میرے خیال میں تاریخ پر کام کرنے کےلئے یونیورسٹیز کو خصوصی فنڈنگ فراہم کرنی چاہئے ۔

تاریخ کو درست کرنے کےلئے ایک اور کام جو انتہائی ضروری ہے کہ ہسٹری آف پاکستان کا کوئی ایسا سرکاری ادارہ ضرور ہونا چاہئے جو میڈیا پر آنے والی غلط سلط تاریخ پرتحقیق کرکے اصل حقائق لوگوں کے سامنے لائے تاکہ ہمارا ماضی مسخ ہونے سے محفوظ رہے ۔ 

مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر مبارک علی کسی ٹی وی انٹرویو میں پہلے سوال میں یہ کہہ دیں کہ ’’اس قرارداد کے حوالے سے جو نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق اس قرارداد کے مسودے کو ہندوستان کے وائسرائے کی مرضی سے ڈرافٹ کیا گیا تھا اور اس کی منظوری برطانوی حکومت سے لی گئی تھی۔ اس مسودے کو قائد اعظم محمد علی جناح کو دکھا دیا گیا تھا۔ 

یہ مسودہ منٹو پارک لاہور کے اجلاس میں پیش ہونے کے لیے بہت دیر سے آیا تھا۔ عاشق حسین بٹالوی نے بیان کیا ہے اس قرارداد کافی البدیہہ ترجمہ (مولانا) ظفر علی خان نے کیا تھا اگر یہ قرارداد پہلے سے مسلم لیگ کے پاس ہوتی تو اس کا اردو ترجمہ بھی پہلے سے لکھ لیا جاتا۔ 

لہٰذا ایک خیال تو یہ ہے کہ یہ قرارداد برطانوی حکومت کی مرضی سے آئی اور خاص وقت پہ آئی۔ اس لیے اس کا ترجمہ بھی اُسی وقت کیا گیا۔‘‘ اور پھر اگلے سوال کے جواب میں کہیں کہ اس تاریخ کی ابھی تصدیق نہیں ہورہی مگر حقائق کھل رہے ہیں ، تاریخ بدل رہی ہے۔ یعنی یہ ان کی خواہش ہے کہ تاریخ بدل جائے اور یہ ثابت ہو جائے کہ پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا۔

میڈیا میں سب سے برا ر حجان جو دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اپنے بڑوں کو پتہ نہیں کیا کیا بناتے جا رہے ہیں۔وہ لوگ جو نفسیاتی مریض تھے اور اپنے مرض کے ہاتھوں انجام کو پہنچے ،وہ لوگ جو خود قاتل تھے ،انہیں شہادت کا رتبہ دیا جارہا ہے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں تاریخ میںجو کچھ ہوا ہے اور جو ہورہا ہے وہ ناقابل ِ برداشت ہے مگر اہل علم مصلحت کا لبادہ پہنے ہوئے ہیں ۔

اسی وجہ پاکستان کی دو تاریخیں بنتی جارہی ہیں مثا ل کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نو ستاروں نے جوتحریک نظام مصطفیٰ چلائی تھی جس کا انجام مارشل لا اور پھر بھٹو کی پھانسی پر منتج ہوا تھا ۔اب اس کے متعلق دو طرح کی آرا موجود ہیں ۔

کچھ لوگ کہتے ہیں وہ تحریک امریکہ نےچلوائی تھی ۔کچھ اسے خالص نظام مصطفی کی تحریک سمجھتے ہیں ۔کچھ لوگوں کے نزدیک جنرل ضیاالحق شہید ہیں ۔کچھ لوگ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید قرار دیتے ہیں ۔

اسی طرح پرویز مشرف دور میں شروع ہونے والی عدلیہ بحالی تحریک کے متعلق بھی اپنے اپنے خیال ہیں ۔ یہ تو ماضی قریب کی باتیں ہیں ۔ پیچھے دیکھا جائے تو ایسے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں جو ’’نظریہ پاکستان ‘‘ کو بھی ایک تاریخی مغالطہ قرار دیتے ہیں ۔

وہ گاندھی کے نام لکھے ہوئے قائداعظم کے اس خط کو تسلیم ہی نہیں کرتے ۔جس میں وہ لکھتے ہیں ”ہر درست معیار پرہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں ۔ “کہتے ہیں کہ یہ خط جعلی ہے ۔