آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لندن میں تین جائیدادیں خریدنے کیلئے کراچی سے رقم منتقل کی گئی

لندن میں تین جائیدادیں خریدنے کیلئے کراچی سے رقم منتقل کی گئی


اسلام آباد ( زاہد گشکوری ) جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سیرینا نے ٹیکس حکام کو بتایا کہ انہوں نے 2002 سے 2013 کے دوران لندن میں جائیدادیں خریدنے کے لئے 6 لاکھ 98 ہزار پائونڈ اسٹرلنگ کراچی سے لندن منتقل کئے۔بیگم قاضی فائز عیسیٰ نے ایف بی آر کو اپنے گوشوارے میں 12 کروڑ 40 لاکھروپے کی رقم ظاہر کی ہے ۔

پاکستان میں ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 4 کروڑ 54 لاکھ روپے اور برطانیہ میں ملکیت اثاثوں کی مالیت 7 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے ۔پائونڈ میں غیر ملکی کرنسی میں اثاثوں کی 2003 سے 2013 کے دوران مالیت 671490 برطانی پائونڈ دکھائی گئی ہے۔

بیگم سیرینا قاضی نے 2018 اور 2019 کی تفصیلات دی ہیں ،تاہم ایک متعلقہ افسر نے نام ظاہر نہ کر نے شرط پر بتایا کہ انہوں نے لندن میں اپنی جائیدادوں کے بارے میں مزید زیادہ تفصیلات نہیں دیں ۔ان کا موقف تھا کہ ایف بی آر ان کے ذرائع آمدن سے بخوبی آگاہ ہےکیونکہ وہ1990 کی دہائی سے ٹیکس گزار ہیں ۔انہوں نے کراچی امریکن اسکول میں اپنی ملازمت اور تنخواہ کا بھی ریکارڈ پیش کیا ہے ۔

کراچی میں جو جائیداد بیچی اور خریدی ،اس پر ٹیکسوں کی ادائیگی سمیت تمام تفصیلات پیش کی گئیں ۔ایف بی آر میں داخل اپنے بیان کے مطابق بیگم قاضی فائز عیسیٰ نے ظاہر کردہ غیر منقولہ 5 کروڑ34 لاکھ میں سے اپنی اپنی لندن میں پہلی غیر منقولہ جائیداد مالیت ایک کروڑ 20 لاکھ 50 فیصد بچوں کے حصص کی شکل میں ظاہر کی ۔لندن میں دوسری غیر منقولہ جائیداد مالیت ایک کروڑ 91 لاکھ میں پچاس فیصد حصہ ان کے بیٹے کا ہے ۔جو ٹیکس گوشوارے میں ظاہر کیا گیا ہے ۔

لندن میں تیسری جائیداد مالیت دو کروڑ گیارہلاکھ میں پچاس فیصد حصہ بیٹی کا ہے ۔بیگم عیسیٰ نے اپنے والد کی جانب سے تحفے میں ملنے والی زرعی اراضی کا بھی ذکر کیا ہے ۔انہوں نے ٹیکس حکام کو یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر کا لندن میں ان کی جائیدادوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور گزشتہ سال دائر اپنے ٹیکس گوشواروں میں لندن کی جائیدادیں ظاہر کر چکی ہیں ۔

سیرینا قاضی کے کراچی کی قومی بچٹ مرکز میں دو کروڑ سولہ لاکھ روپے سے زائد کی رقم محفوظ ہے ۔جولائی 2018 میں ان کے والد نے ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم دی ۔

یہ رقوم بینکنگ ذرائع سے حاصل ہوئیں ۔ان کے اپنے بیان کے مطابق انہوں نے ڈھائی کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ۔گزشتہ مالی سال ان کی بیون ملک سے آمدن 47 لاکھ31 ہزار روپے سے زائد رہی ۔

اہم خبریں سے مزید