آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیاپاکستان اوربیوروکریسی

تحریر:چوہدری تبریز عورہ۔۔لندن


کہتے ہیں گھڑ سوار تجربہ کار ہو تو وہ اپنی مرضی کے مطابق سواری کرتا ہے، جدھر چاہے گھوڑے کا رخ موڑ لیتا ہے، جتنی چاہے رفتار رکھتا ہے لیکن اگر سوار ناتجربہ کار ہو تو مرضی سوار کی نہیں گھوڑے کی چلتی ہے جو سوار کو زمین پر پٹخ کر دم لیتا ہے. ہماری بیورکریسی بھی بدکی ہوئی گھوڑی کی طرح ہے جو سوار کمزور دیکھے تو چابک اور لگام کو بھی خاطر میں نہیں لاتی. بیورکریسی پہلے ہی مضبوط تھی اور اپنی مرضی کے مطابق کام کرتی تھی لیکن جب سے پاکستان تحریک انصاف کی مرکز ، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں حکومت بنی ہے اس دن سے بیورکریسی کی چاندی ہوگئی اور یہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد بیورکریسی کو فری ہینڈ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست دانوں کی مداخلت انتظامی امور میں ختم ہونی چاہئے. بیورکریسی کو مضبوطی کے نام پر شتر بے مہار بنانے سے پہلے وزیراعظم کو تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا چاہیے تھا، بیورکریسی پر چیک اینڈ بیلنس لگانا چاہئے تھا جو نہ لگایا گیا، اب عالم یہ ہے کہ سفید سیاہ کی مالک بیوروکریسی کا نقصان پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہو رہا ہے چونکہ محکموں کو بیورکریٹ چلاتے ہیں اس لیے انتظامی امور ان کے بغیر چلنا مشکل ہوتے ہیں تحصیلوں ،اضلاع ، ڈویژن سے لے کر صوبائی سیکریٹریٹ تک بیوروکریسی انتظامی امور میں سیاست دانوں کو گھاس نہیں ڈال رہی ایک جائز کام بھی عوامی نمائندوں کو بیوروکریسی سے کروانا مشکل ہو گیا ہے، بیوروکریسی اب سیاست دانوں کو بلیک میل کرتی ہے کہ اگر آپ نے ہم پر سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی تو ہم وزیراعظم کو مداخلت کی شکایت لگا دیں گے،وزیراعظم ٹیکنوکریٹ کے دائرہ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اس لیے ان کو منتخب نمائندوں کی مشکالات کا اندازہ نہیں ہو رہا کہ عوام کی عدالت میں منتخب نمائندوں نے جانا ہے ٹیکنوکریٹ نے نہیں، لندن میں رہتے ہوئے پاکستانی سیاست پر نظر رہتی ہے، لندن مقیم سیاستدان بھی ہماری خبروں میں موضوع بنتے رہتے ہیں لیکن اب مجھے پاکستان میں مسلسل رہتے ہوئے تقریباً 5 مہینے ہو گئے ہیں، باوجود ہزار کوشش کے اب تک کہیں بھی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی اور ایک عام شہری کی مشکلات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، عوام کی مشکلات کم نہیں ہوئیں، عام شہری کے جائز ذاتی کام سفارش اور رشوت کے بغیر نہیں ہورہے ، سیاستدانوں کی سفارش تو بیورکریسی مانتی نہیں جس کی وجہ سے عام شہری کو رشوت دینی پڑتی ہے اور بیوروکریسی کے دوست احباب سے سفارش کروانی پڑتی ہے، سیاست دان تو خواہ مخوہ بدنام ہو رہے ہیں اور ان کے ووٹر ان سے ناراض ہو رہے ہیں جو کام سیاست دانوں کے کہنے پر نہیں ہوتے وہ کام ان کے ووٹر رشوت دے کر کروا لیتے ہیں پھر اپنے منتخب نمائندوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے آپ کا نیا پاکستان جس کا سیاست دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں بن پاتا، اضلاع میں ڈی سی اور ڈی پی او سفارش سےتعیناتیاں لے رہے ہیں ، ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں. یہ چاہے جو مرضی کرتے رہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، بھینس بھینسوں کی بہن ہوتی ہے یہ ہی مثال بیورکریسی پر لاگو ہوتی ہے یہ ماتحتوں اور عام شہریوں پر ظلم اور ناانصافی کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف ایک ملازم یا عام شہری کچھ بھی نہیں کرسکتا اگر کرنا چاہے بھی تو اس کے اتنے وسائل ہی نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ مقابلہ کرلیں. موجود وقت میں وہ ہی سیاست دان کامیاب ہیں جس کے گھر کے افراد ، عدلیہ ، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں موجود ہیں ، اگر کسی کو کوئی شک ہے تو واپڈا سے بجلی ایک میٹر، گیس کا میٹر، لینڈ ریکارڈ سنٹر سے زمین کا کاغذ ، نیشنل بنک میں چلان فارم ،اکاؤنٹ آفس سے ایک بل ، پولیس اسٹیشن میں کرائم کی ایف آئی آر ،سفارش یا رشوت دیئے بغیر اپنا کام کروا کر دیکھ لیں، تبدیلی سے توبہ نہ کریں تو کہیں. وزیراعظم اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ پیار تو کرتے ہیں لیکن ان کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں. پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کی کوئی شنوائی نہیں ، خبروں کی حد تک مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں تو کروائی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر پرفارمنس زیرو ہے. پی آئی اے کی پروازیں یورپ میں بند ہونے کے بعد حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ اس کا کوئی متبادل تلاش کرتے تاکہ کہ اوورسیز پاکستان کو پاکستان سفر کرنے میں آسانیاں پیدا ہو سکتی اب عالم یہ کہ اوورسیز پاکستانی غیر ملکی ائر لائنز پر تین گنا زیادہ مہنگی ٹکٹ خرید رہے ہیں،پاکستان میں عام شہریوں کے مسائل تو حل نہیں ہو رہے اور پاکستان میں جس رفتار سے تبدیلی کی لہر چل رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے ابھی تبدیلی آنے میں کم از کم 30 سال لگیں گے، وزیر اعظم اگر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو پھر ان کو بیورکریسی پر مضبوط گھڑ سوار کی طرح بیٹھنا ہوگا اور عام شہری کے مسائل پر توجہ دینی پڑے گی اگر ایسا اس پانچ سالہ میں نہ کیا گیا تو 2023 کے جنرل الیکشن کے نتائج حیران کن ہوں گے Tabraizashraf2006@yahoo.com 00447792648653

یورپ سے سے مزید