آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تھر اور بدین میں مبینہ خودکشیاں کیوں بڑھنے لگیں؟


سندھ کے اضلاع تھر پارکر اور بدین میں مبینہ طور پر خودکشیاں کیوں بڑھنے لگیں؟  تھرپارکر میں رواں سال کے دوران 60 اور بدین میں صرف 40 دن کے دوران 32 مبینہ خودکشیوں کے کیسز سامنےآچکے ہیں۔

بدین کے تھانوں کے بعد اب اسپتالوں میں بھی حدود کی جنگ چھڑگئی ہے۔ مبینہ طور پر خود کشی کرنے والے 25 سالہ وکرم کی لاش کا 17 گھنٹوں بعد پوسٹ مارٹم ہوا۔

اسپتال کے ایم ایس نے اس حوالے سے کہا کہ رات میں بجلی اور دیگر سہولتوں کی کمی کی وجہ سے پوسٹ مارٹم ممکن نہ ہوسکا۔

ضلع بدین میں خودکشیوں کی تفتیش میں پولیس کی روایتی کارکردگی کے ساتھ محکمہ صحت کی ناقص کارکردگی بھی بڑی رکاوٹ بن گئی، لاش کا اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے پوسٹ مارٹم نہ ہونے سے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھ گئے۔

ضلع بدین میں نہ تو خودکشیوں کے واقعات میں کوئی کمی آسکی ہے اور نہ تفتیش کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے، گزشتہ شام راجو خانانی کے قریب پھندا لگا کر مبینہ خودکشی کرنے والے 25 سالہ وکرم کی لاش اٹھارہ گھنٹے تک پوسٹ مارٹم کی منتظر رہی جس سے جس سے نہ صرف محکمہ صحت کی ناقص کارکرگی کھل کر سامنے آئی ہے بلکہ ایسے واقعات میں تفتیش کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ بھی آشکار ہوئی ہے۔

دیہی صحت مرکز کے انچارچ ڈاکٹر نیاز تالپور نے جیو نیوز کوبتایا کہ سہولیات کے فقدان کے باعث پوسٹ مارٹم نہیں ہوسکا۔

18 گھنٹے لاش دربدر کئے جانے کے خلاف ورثا مشتعل ہوگئے اور لاش اٹھا کر لے گئے جسے پولیس کی بھاری نفری واپس لائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی ایسی کارکردگی تفتیش پر اثر انداز ہوگی۔

ورثاء کا کہنا ہے کہ تفتیش میں تعاون کے باوجود 18 گھنٹے تک لاش کا پڑا رہنا انکے لئے اذیت ناک ہے۔

قومی خبریں سے مزید