آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صرف کرکٹ پر توجہ سے دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں میں مایوسی

22 کروڑ آبادی والے ملک پاکستان کا قومی کھیل ویسے تو ہاکی ہے، لیکن ملک میں ہر دوسرا شخص کرکٹ کی سحر میں مبتلا ہے، کرکٹ کا مقابلہ ہو تو شاید ہی کوئی ایسا پاکستانی ہو جو دلچسپی نہ رکھتا ہو، کبھی کوئی ہاکی تھامے نظر آجائے تو میچ کا سوال نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا کہیں کوئی لڑائی ہوگئی ہے۔

اور جب قومی کھیل کا یہ حال ہے تو پھر اسنوکر، ٹینس، ریسلنگ، کراٹے، فٹبال اور دیگر کھیلوں سے وابستہ افراد پر کیا گزرتی ہوگی؟ کیا کبھی کرکٹ کی محبت میں اندھی عوام نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ گزشتہ دس سال کے دوران دیگر کھیلوں میں پاکستان نے کیا کیا کارنامے انجام دیئے؟

کہیں کرکٹ سے محبت، ملک میں دیگر کھیلوں سے تو عوام کو دور نہیں کررہی؟ اگر دوسرے کھیلوں سے وابستہ ایتھلیٹس سے بات کریں تو ان کا تو یہ ہی خیال ہے کہ اسپورٹس کے معاملہ میں کرکٹ ایک طرف اور باقی کھیل دوسری طرف، کرکٹرز کو سب کچھ مل جاتا اور دیگر کھیل والے ہمیشہ نظر انداز ہوجاتے ہیں۔

پاکستان کیلئے 2012 اور 2019 میں آئی بی ایس ایف ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیتنے والے محمد آصف کہتے ہیں کہ وہ دو مرتبہ ورلڈ چیمپئن بنے لیکن لگتا ہے کہ دو مرتبہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے والے کرکٹر کی ویلیو ان سے زیادہ ہے جو کافی مایوس کن ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں قومی اسنوکر اسٹار نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ دہرے معیار کو بدلا جائے اور جو کھلاڑی بھی ملک کیلئے اعزاز جیتے اس کو وہی عزت دی جائے جیسی کسی کرکٹر کو دی جاتی ہے۔ کرکٹرز کو تو تمام سہولتیں بھی مل جاتی ہیں لیکن دیگر کھیلوں کے ایتھلیٹس تو بنیادی چیزوں سے بھی محروم ہیں۔

پاکستان کے ٹاپ کراٹیکاز سعدی عباس بھی محمد آصف سے متفق ہیں۔ سعدی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک کرکٹر اگر سنچری اسکور کرتا ہے یا ہیٹ ٹرک کرتا ہے تو اس کو مدتوں یاد رکھا جاتا ہے، دوسرے کھیل میں تاریخی فتوحات بھی ہوجائیں تو اسے بھلادیا جاتا۔

سعدی عباس نے شکوہ کیا کہ دوسرے کھیل میں تو یہ حال ہے کہ پلیئرز اپنی جیب سے میڈیکل کراتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ یا کرکٹرز سے مسئلہ نہیں بلکہ اعتراض اس دہرے معیار پر ہے کہ جو دو مختلف کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کے ساتھ برتا جاتا ہے۔

ٹینس اسٹار اعصام الحق نے اعتراف کیا کہ کرکٹ پاکستانی عوام کو جوڑتا ہے لیکن سارا فوکس کرکٹ کی جانب ہوجانے کی وجہ سے دیگر کھیل نظر انداز ہوجاتے ہیں، انہیں کرکٹرز سے کوئی پرابلم نہیں۔ لیکن دیگر کھیلوں میں ملک کا پرچم بلند کرنے والے ایتھلیٹس بھی پذیرائی کا وہی حق رکھتے ہیں جو کرکٹرز کو ملتی ہے۔

اعصام الحق نے کہا کرکٹ بورڈ کی تو براڈ کاسٹ رائٹس سے بھی آمدنی ہوتی ہے اور دیگر ذرائع آمدن بھی ہیں جو دیگر کھیلوں کو میسر نہیں اس لئے اچھی بات یہ ہوگی کہ اگر پی سی بی بھی دوسرے کھیلوں کیلئے کچھ حصہ ڈالے۔

پاکستان کے کامیاب ترین ٹینس پلیئر نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور اسپانسرز اب کچھ توجہ فٹبال، ٹینس، اسکواش اور ہاکی جیسے کھیلوں پر بھی دے ورنہ وہاں پلیئرز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

پاکستان کے سابق انٹرنیشنل ہاکی پلیئر عدنان ذاکر کا کہنا تھا کہ ہاکی کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر کوئی کرکٹ سے اتنا فوکسڈ ہے کہ ہاکی کو وقت ہی نہیں مل رہا جس کی وجہ سے اسپانسرشپ بھی نہیں ملتی۔ عدنان ذاکر کا کہنا تھا کہ ہاکی مشکل ترین کھیلوں میں سے ایک ہے اور اس میں ٹاپ لیول پر جانے کیلئے بہت کچھ وقف کرنا پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہاکی پلیئرز کا خیال رکھا جائے ۔

خواتین کھلاڑیوں کا بھی یہی شکوہ ہے کہ پہلے ہی دیگر کھیلوں کو موقع نہیں ملتا اور سونے پر سہاگا یہ کہ خواتین کے کھیلوں کو تو بالکل بھی توجہ نہیں دی جاتی۔

پاکستان کی نمبر ون ٹینس پلیئر سارہ محبوب کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر ہر وقت کرکٹ دکھائی جاتی، اس سے دوسرے کھیل کیسے فروغ پائیں گے؟ اور خواتین پلیئرز کو تو کوئی ویسے بھی توجہ نہیں دیتا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر کھیل میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں کیلئے یکساں پالیسی بنائی جائے۔

کراٹے چیمپئن کلثوم ہزارہ نے کہا کہ وہ جب سے کراٹے میں حصہ لے رہی ہیں، انھوں نے یہی دیکھا کہ کرکٹ کو ہی ویلیو ملتی ہے، اسپانسرز بھی کرکٹ کی طرف جاتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، کلثوم ہزارہ نے کہا کہ اگر بغیر سپورٹ کے سب میڈل لاسکتے ہیں تو سپورٹ مل جائے پھر کتنا کچھ حاصل کرلیں گے۔

اس حوالے سے گفت گو میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ عارف حسن بھی یہ مانتے ہیں کہ کرکٹ پر زیادہ فوکس ہونے کی وجہ سے پاکستان میں دیگر کھیل متاثر ہورہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب دیگر کھیلوں میں کوِئی پلیئر کامیابی حاصل کرے تو اسکی جارح مزاجی کے ساتھ پروموشن کی جائے اور اس پلیئر کو ہیرو بناکر پیش کیا جاتا رہے تاکہ مزاج میں تبدیلی آئے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید