آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اہلِ اقتدار کو علم ہو یا نہ ہو لیکن اہل وطن محسوس کر رہے ہیں کہ ملکی حالات کس طرف جا رہے ہیں۔یہ تو اہلِ دانش بتا سکتے ہیں کہ حکومت نا کام ہو رہی ہے یا نظام حکومت ۔لیکن خود حکمرانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی نا کامیابی کے صرف دو قصور وار ہیں معاشی طور پر ناکامی کی ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں اور انتظامی طور پر ناکامی نظام کے کاندھوں پر ہے۔اب دو سال سے زائد عرصہ بر سراقتدار رہنے کے بعد یہ دونوں باتیں قابلِ قبول نہیں لگتیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بہترین معاشی ٹیم اور حکومت کے لئے تمام تیاریوں کے جو دعوے کئے جاتے تھے حتیٰ کہ پریس کانفرنسوں میں بعض دستاویزات بھی پیش کی گئی تھیں جن سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ بر سراقتدار آتے ہی ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے نسخے ان دستاویزات اور دعوئوں میں پوشیدہ ہیں بس کرسی اقتدار پر براجمان ہونے کی دیر ہے۔یہ دعوے بھی کئے گئے تھے کہ انصاف کا بول بالا ہوگا اور غریب کو انصاف اس کی دہلیز پر ملے گا وہ بھی فوری اور سستا انصاف۔اس کے علاوہ اس وقت کی حکومتوں میں اگر کوئی حادثہ رونما ہو جاتا تھا تو متعلقہ وزیر کے فوری استعفیٰ کے لئے شور برپا کیا جاتا تھا۔کسی بھی چیز کے مہنگا ہونے پر اس وقت کے حکمرانوں کو بدیانت اور ذمہ دار ٹھہرانا معمول تھا۔

ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے عوام نے موجودہ حکمرانوں کا انتخاب کیا اور تبدیلی کے نام پر ووٹ دیئے۔حکومت سنبھالنے کے بعد نوے دن کے اندر کایا پلٹ دینے کا وعدہ کیا گیا۔اب بائیس ماہ کے بعد قوم دیکھتی ہے کہ وہ سب تو سراب تھا۔معاشی طور پر صورتحال انتہائی نا گفتہ بہ ہے ۔انصاف اور دہلیز پر وہ بھی سستا اور فوری ؟ یہ تو مذاق ثابت ہو رہا ہے بلکہ بد سے بد تر والا معاملہ ہے۔سیاسی اور صحافتی مخالفین کو دبانے اور پھنسانے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ریاست مدینہ بنانے کے دعوے داروںکو شاید یہ معلوم نہیں کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اپنے جانی دشمنوں ، منکرین ذات باری تعالیٰ یعنی کفار مکہ کے لئے بھی عام معافی کا اعلان کیا تھا۔لیکن موجودہ دعویداران ریاست مدینہ بنانے والے تو جذبہ انتقام کا مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ اب تو اس پالیسی پر فوری نظر ثانی ہونی چاہئے۔آج کل جےآئی ٹیز کا موسم چل رہا ہے۔کوئی تو سوچے کہ جے آئی ٹیز کی بحث سے عوام کا کیا مطلب اور کیا فائدہ ہے۔اس سے پہلے چینی،آٹا،پاور کمپنیز اور پٹرول کے ایشوز سامنے لاکر موضوع بحث بنائے گئے یہ وہ ایشوز تھے جن سے عوام کا نہ صرف براہ راست واسطہ تھا بلکہ ان سے متاثر بھی تھے۔جب ان ایشوز کا عوام کو ذرہ بھر فائدہ نہ ہوا بلکہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا تو ان جے آئی ٹیز سے عوام کا کیا مطلب کیا واسطہ؟بلکہ وہ جے آئی ٹی جس سے سینکڑوں متاثرہ خاندانوں کا براہ راست تعلق تھا جو بلدیہ فیکٹری میں قریباً ڈھائی سو افراد کو زندہ جلانے سے متعلق تھی وہ تو غائب ہی کر دی گئی۔موجودہ زیر بحث جے آئی ٹیز میں چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض رہنمائوں کا نام لیا جا رہا ہے تو اس کے خوب چرچے ہیں۔کراچی میں پانی نہیں ملتا بجلی نام کی آتی ہے ملک میں مہنگائی عروج پر ہے جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔بے روزگاری کا وہ عالم ہے جس کا بے روزگاروں کو ہی معلوم ہے اور ان دونوں عوامل میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔کئی اداروں کے ملازمین کو فارغ کیا گیا اور مزید کو کیا جا رہا ہے۔

اب 800سے زائد سرکاری افسران اور بیوروکریٹس کو قبل از وقت خراب کارکردگی کے نام پر ریٹائر کرنے کی خبریں ہیں۔گمان یہ ہے کہ اس فہرست کی تیاری میں اکثریت ان افسران کی ہوگی جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق اور ہمدردیاں سابقہ حکومتوں کے ساتھ رہی ہیں۔تو کیا اب موجودہ حکمران بھی من پسندوں کو آگے لانا چاہتے ہیں پھر فرق کیا ہوگا؟۔عجیب کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔اسمبلی کے اندر بھی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نورا کشتی اور باہر بھی الفاظ کی جنگی مشقیں جاری ہیں۔حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں کی نظر میں عوام کی کیا حیثیت ہے۔ان سے کسی طرح ووٹ لو اور پھر لات مار کر بھول جائو۔جہاں تک نظام کی بات ہے ووٹ کا تقدس ووٹ کی عزت ،اقتدار عوام کا وغیرہ وغیرہ کے نعرے اب عوام کی توہین اور ملک کے زیاں کاباعث بنتے جا رہے ہیں۔اگر ملک میں فوجی حکومتوں سے ملک کو نقصان ہوا تو جمہوریت کے نام پر برسر اقتدار آنے والوں نے ملک و قوم کو کیا دیا؟ سوائے کرپشن اور مارا ماری کے۔

خدا کے لئے اب یہ سلسلہ بند کیا جائے۔اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرنا چاہئے۔اب قوم کو بیوقوف سمجھنا عقلمندی نہیں ہے۔عوام سے پوچھا جائے کہ ان کو پارلیمانی نظام چاہئے یا صدارتی نظام۔عوام کو تو مطلب اس نظام سے ہے جس میں مہنگائی نہ ہو،بیروزگاری نہ ہو،انتقام نہ ہو بلکہ بلاامتیاز سستا اور فوری انصاف مہیاہو۔امن و امان ہو کسی قسم کے لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب اور تنازعات نہ ہوں۔ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر افسران کی تعیناتیاںاور میرٹ پر بھرتیاں ہوں،سرکاری دفاتر میں عوام کی عزت ہو،تھانوں میںظلم اور بد دیانتی نہ ہو،صحت و تعلیم کی سہولتیں ہر شہری کو آسانی سے دستیاب ہوںاور وہی نظام کامیاب اور ملک و قوم کے مفاد میں ہوگا۔دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں