آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

PUBG پر پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ


اسلام آباد ہائی کورٹ نے پب جی گیم پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

پب جی گیم پر پابندی کے خلاف درخواست کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے سماعت کی۔

پب جی کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پی ٹی اے کے 9 جولائی کے اجلاس میں شرکت کی، ہمیں پی ٹی اے نے سماعت کا بتایا لیکن وہاں گئے تو مشاورتی اجلاس ہوا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پی ٹی اے کو چاہیے تھا کہ ماہرِ نفسیات کو بلاتےاور ان سے رائے لیتے کہ اس گیم کا اثرکیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی اے کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ نے گیم پر پابندی قانون کی کس شق کے تحت لگائی ہے؟

پی ٹی اے کے وکیل نے جواب دیا کہ اس گیم میں مذہب کے خلاف کچھ میٹریل نظر آیا جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی۔

عدالت نے پی ٹی اے سے سوال کیا کہ بتائیں اس میٹریل کے بارے میں جو مذہب کے خلاف ہے، آپ نے میٹنگ منٹس میں کہاں لکھا ہے؟

عدالت نے کہا کہ جو بھی ایکشن لینا ہے آپ نے اس پر اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہے اور اس کو لکھنا ہوتا ہے، یہ کہہ کر پھر تو جتنے گیمز میٹریل ہیں سب پر پابندی لگا دیں۔

پی ٹی اے کے وکیل نے جواب دیا کہ پب جی گیم میں کچھ غیر اخلاقی سین بھی آتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ وتیرہ بن گیا ہے کہ ہر چیز دوسری طرف ڈال دیں، سی پی او کل کہے گا کہ سارا کچھ بند کر دو تو کیا آپ بند کر دیں گے؟

یہ بھی پڑھیئے:۔

بھارت، ’پب جی‘ گیم سے روکنے پر بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا

مسلسل6 گھنٹے پب جی گیم کھیلنے سے دل کا دورہ، بھارتی نوجوان ہلاک

معروف گیم ’پب جی‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ

پب جی گیم پر پابندی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

انہوں نے کہا کہ کوئی جو مرضی کہے پی ٹی اے نے اپنا مائنڈ بھی اپلائی کرنا ہوتا ہے، آپ نے کہا کہ اس گیم کے خلاف درخواستیں آگئی ہیں تو گیم بند کر دیتے ہیں، بتائیں کسی شکایت میں کہا گیا ہو کہ یہ گیم مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے؟

پی ٹی اے کے وکیل نے کہا کہ صورتِ حال ایسی بن گئی تھی کہ پب جی معطل کرنا پڑا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صورتِ حال نہیں قانون کے مطابق آپ نے فیصلہ کرنا ہے، گیمز تو شاید اس سے بھی زیادہ وائلنٹ موجود ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

قومی خبریں سے مزید