آپ آف لائن ہیں
جمعہ16؍ذی الحج 1441ھ7؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

متحدہ کا دھرنا، کےالیکٹرک کیخلاف حکومت اور اپوزیشن یکجا


حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے ’کے الیکٹرک‘ کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہونے والےاحتجاجی دھرنے میں حکومت اور اپوزیشن کی جماعتیں شریک ہوئیں۔

کراچی میں جاری لوڈشیڈنگ کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی دھرنے میں تحریک انصاف، گرینڈڈیموکریٹک الائنس، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمان نے بھی شرکت کی۔

دھرنے سے خطاب میں ایم کیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ کےالیکٹرک کراچی دشمنی پر اتر آیا ہے، شہر قائد میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، اسے سرکاری تحویل میں لیا جائے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ 15 سال سے کےالیکٹرک کراچی کو لوٹ رہا ہے، اس نے شہریوں کو اے ٹی ایم مشین سمجھ لیا ہے۔

میئر حیدر آباد طیب حسین نے کہا کہ کے الیکٹر معاہدوں کی پاسداری نہ کرکے اہل کراچی پر ظلم کررہا ہے۔

ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نےکہا کہ اہل کراچی کے پاس بلب ہے، بل ہے، بل بلاہٹ ہے، بس بجلی نہیں ہے۔

وفاقی وزراء اسد عمر، شفقت محمود اور عمر ایوب نے دھرنے کے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ اگر کےالیکٹرک کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر ہم اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کے الیکٹرک کو جتنا تیل چاہیے فراہم کیا جارہا ہے، وفاق ذمے داری پوری کررہا ہے لیکن کے الیکٹرک نہیں کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کے الیکٹرک کا لوڈ شیڈنگ کیلئے ایک اور بہانہ

اسد عمر نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کی ہے کراچی کی نہیں، 3 سال میں کراچی کے نظام میں 2 ہزار 150 میگاواٹ بجلی شامل کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے کی صورت میں مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، فیصلہ سازی کے لیے میٹنگ میں ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے اور مسئلہ حل ہوگا۔

کے الیکٹرک کے خلاف ارکان قومی اسمبلی کا دھرنا تقریباً سوا 3 گھنٹے جاری رہا، وفاقی حکومت کی یقین دہانی پر مبنی درخواست کے بعد ایم کیو ایم نے کے الیکٹرک کے خلاف دھرنا ختم کردیا۔

قومی خبریں سے مزید