آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چند ہفتے قبل تین اشخاص بون کے اطراف میں قائم جرمنی کے ایک ریسرچ سینٹر میں ایک جائزے میں شامل ہوئے،تا کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا ان کے جسم میں کووڈ 19کے وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز موجود ہیں ۔اس جائزے کے لیے ان کا 28 ملی لیٹر سے کم خون کا نمونہ لیا گیا ،جس کے بعدوہ ایک علیحدہ دروازے سے باہر چلے گئے ۔ اگر وہ کو رونا وائرس کا شکار ہوں گے تو وہ آبادی کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں،جس کو ’’رہا ئنلینڈی ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔یہ سلسلہ اپریل کے مہینے سے اس سینٹر میں شروع ہوا ہے ۔

اس علاقے کے 5000افراد نےا بھی تک اپنے خون کا پلازمہ عطیہ کیا ہے ۔کورونا وائرس کی وجہ سے خون کا انجماد ابھی تک ایک راز بنا ہوا ہے ۔شاید اس ڈیٹا کی وجہ سے بعد میں اس کو سمجھنے میں مدد ملیں ۔یہ کوشش ایک وبائی ماہر مونیک بر یٹیلر کر رہی ہیں ۔یہ پروجیکٹ ان پروجیکٹس میں سے ایک ہے جو کچھ دوسری بیماریوں کے لیے شروع ہوئے تھے ۔لیکن بہت جلد ہی اس کو کورونا وائرس کی طرف موڑ دیا گیا ۔اس جائزے میں آبادی کے ہزاروں افراد کی جینیات ،صحت اور رہن سہن کی بابت سالوں یا چند عشروں کی معلومات اکٹھی کر کے یہ معلوم کیا جا تا ہے کہ کون سی جینیاتی خاصیتوں یا ماحول کے اثرات بیماریوں کے لیے معاون ہوتے ہیں ۔اس کی ابتدا 2016 ء میں ذہنی انحطاط کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی تھی ۔جس میں رعشہ ،الزائیمر (Alzheimer ) کی بیماری شامل ہے ۔

تحقیق کار یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کے متاثرین کا ایسا ڈیٹا پالیسی سازوں کے لیے بہت بیش قیمت ہوگا ۔اور بعد کے عشروں میں وبا کے متاثرین کے جسمانی ،ذہنی اور سماجی حالات پر وائرس کے دوررس اثرات کی بابت بھی معلومات حاصل کرسکیں گے۔مثال کے طور پر اس کے متاثرین کے لیے آئندہ زندگی میںبیمار ہونے کے خطرات بڑھ جائیں گے ۔یہ تحقیق سائنس دانوں کو آئندہ کے ایسے اثرات کا سدباب کرنے میں بھی معاون ہوگی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ کیوں کچھ لوگوں میں وبا ء کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں ۔جب کہ کچھ لوگ شدید بیمار پڑ جاتے ہیں ۔مثلا ً یہ آگہی اگر ویکسین کی مقدار کم ہو تو یہ فیصلہ کرنے میں مدد گار ہوسکتی ہے کہ کن لوگوں کو یہ ویکسین پہلی دی جائے گی اور کن لوگوںکو و یکسین بعد میں دینی چاہیے ۔کوہارٹ کی حیاتیا تی اسٹڈیز کے جائزے کی تفصیلات اس سے بالکل مختلف ہیں جن کی بنیاد پر کووڈ 19 کے متاثرین کی اینٹی باڈیز کی پیمائش سے متاثر ہو نے والی آبادی کے تناسب کی کیلکو لیشن کی جاتی ہے ،کیو ںکہ اس مطالعے میں حصہ لینے والوں کے خون کے نمونے کئی مرتبہ لیے جائیں گے ، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکےکہ ان کے خون میں کتنے عرصے تک اینٹی باڈیز موجود رہی ہیں۔

اس مطالعے میں حصہ لینے والوں کو کچھ سوالوں کے تفصیلی جواب بھی دینے ہوں گے ،جن میں صحت ،جینیات اور طرز رہائش کے بارے میں معلومات شامل ہوں گی ۔یہ معلومات مختلف میدانوں میں تحقیق کرنے والوں کو فراہم کی جائیں گی، جس سے وہ یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ وباسے مزاحمت کرنے میں کون سی چیزیں اہم کردار ادا کرتی ہیں ،جن میں جینیا،قو ت مدافعت، غذا کی جز وبدن ہونے کی صلاحیت اور ماحول شامل ہیں ۔

گذشتہ چند دنوں میں پاکستان میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہیں کہ ہمارے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی بتائی جاتی ہے ۔لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق اب تمام صوبوں کے ہسپتالوں میں ضرورت سے زیادہ وینٹی لیٹرز ہیں جو استعمال بھی نہیں ہو رہے ہیں۔لیکن ابھی تک یہ نہیں معلوم ہواہے کہ وینٹی لیٹر پر ڈالنے والے کتنی مریض صحت یاب ہوتے ہیں ؟

اور وہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں کتنے قریب ہے ؟اطلاعات کے مطابق پاکستان میں وینٹی لیٹر پر ڈالنے والے مریض میں صرف10 فی صد صحت یاب ہوتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہو ا کہ 1,000,000روپیہ میں خرید کر دہ فی وینٹی لیٹر ز کے حساب سے خرید ے ہوئے 100 وینٹی لیٹرز جو 100,000,000(دس کروڑ )روپے میں لیے گئے ہیں صرف 10 مریض ہی صحت یاب ہو پاتے ہیں ۔ابھی بھی چند ممالک کے علاوہ اس وبا پر کسی بھی ملک نے قابو نہیں پایا ہے ۔

اس وبا کا ابھی تک کوئی شافی علاج دریافت نہیں ہواہے اور نہ ہی کوئی ویکسین ضروری مراحل سے گذرکر منظور ہو ئی ہے۔ چناں چہ ابھی دنیا بھر میںوبا میں کمی اسی قدرتی اصول پر ہوئی ہے جسے سائنس داں بھیڑوں کے گلہ کی قوت مدافعت herd immunity کہتے ہیں۔ یعنی جب60سے 70 فی صد افراد وائرس سے متاثر ہوکر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ تو وباقدرتی طور پر گھٹ کر ختم ہوجاتی ہے۔ 

ان میں بیمار ہونے والوں کے علاوہ وہ متاثرین بھی ہوتے ہیں جو بیمار ہوئے بغیر ہی وبا کو شکست دے دیتے ہیں۔ وبا کے خاتمہ کا یہ قدرتی طریقہ ہے، کیوں کہ اگر وبا کا گلاگھونٹ کر زبردستی ختم کی جائے گی تو پھر وبا کی دوسری لہر آئے گی ۔ جو پہلی لہر سے زیادہ خطرنک ہوگی، جس طر ح سنگاپور میں پہلی لہر کو دباکر کیا گیا تھا ،اسی لیے سنگاپور کی دوسری لہر پہلی لہر سے زیادہ شدید تھی ، جس میں اموات بھی ہوئی تھیں۔ چین میں بھی ووہان کی لہر دبانےکے بعد اب بیجنگ میں بھی اسی طرح دوسری لہر آئی ہوئی ہے۔

پاکستان کے حالیہ دنوں کے اعدادوشمار سے تو یہ لگتا ہے کہ پاکستان ابherd immunity کے دور میں داخل ہوگیا ہے، کیوں کہ مریضوں کی تعداد میں دن بدن کمی ہورہی ہے ،جب کہ صحت یاب افرادکی شرح بھی بڑھتی جارہی ہے جو اب48 فی صد ہوگئی ہے، جب کہ اموات کی شرح اب بھی2 فی صد ہے۔ ذرائع ابلاغ کو چاہیےکہ روزانہ کے اعدادو شمار میں یہ بھی بتایا جائے کہ اب بیمار افراد کی تعداد کتنی ہو گئی ہے؟ کیوں کہ وبا کے شروع ہونے سے آج تک کے مریضوں کی تعداد جو در اصل گذشتہ چار ماہ میں بیمار ہونے والوں کے اعداد وشمار ہیں ۔ لوگوں کو خوف میں مبتلاء کرتے ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید