• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جذب کی دنیا ایک لامتناہی سمندر کی مانند ہوتی ہے جس کا دوسرا کنارہ شاید ہوتا ہی نہیں۔ جذب کی دنیا ایک ایسی کائنات ہے جو سارے عالم پر محیط ہوتی ہے اور مجذوب اس دنیا، کائنات اور جہاں کا بےتاج بادشاہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے من کے پیالے میں سارے جہاں کو دیکھتا ہے، اس کی نگاہ دنیا کے جس بھی حصے کی طرف رخ کرتی ہے وہ بےنقاب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس پر کائنات کے اسرار و رموز کھلتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی مختصر سی جگہ پر بیٹھا ساری دنیا کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے اس قدر طاقت اور اپنے حال پہ غلبہ دیا ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ اپنے اندر جذب کئے رکھتا ہے۔ اسرار و رموز کا پیالہ صرف اس وقت چھلکتا ہے اور ایک آدھ قطرہ صرف اس وقت باہر نکل کر ظاہر کی صورت اختیار کرتا ہے یا اظہار کرتا ہے جب یہ رضائے الٰہی ہوتی ہے۔ اسی جذب کی بےانتہا قوت کے سبب اسے مجذوب کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ کائنات کے کناروں تک پھیلے اسرار و رموز کو دیکھ کر جذب کرنا تقریباً ناممکن کام ہے لیکن مجذوب اس ناممکن کام کو اللہ پاک کی عطا کردہ قوت سے سرانجام دیتا ہے۔ وہ اپنی جگہ پر بیٹھا گردوں کی سیر کرتا، آسمانوں اور زمین کو دیکھتا، سمندروں میں غوطہ لگاتا اور فضاؤں میں اڑتا پھرتا ہے لیکن اس کے پاس بیٹھے شخص پر یہ کیفیت ظاہر ہوتی ہے نہ اسے اس کیفیت کا پتا چلتا ہے۔ اتنا بڑا ظرف صرف مجذوب کو ہی عطا ہوتا ہے۔ وہ بولتا بھی رب کی رضا سے ہے اور چلتا بھی اسی کی مرضی سے ہے۔ جذب کے مقام کی راہ میں ایک منزل ایسی بھی آتی ہے جب مجذوب کی ہر حرکت، کام، عمل، سونا، جاگنا، کھانا رضائے الٰہی کے تابع ہوتا ہے۔ ان منازل کو طے کرنے کے بعد جب مجذوب کو اپنے باطن پر مکمل اختیار حاصل ہو جاتا ہے تو اسے خاصی حد تک آزادی مل جاتی ہے اگرچہ یہ آزادی بھی پابہ گل ہوتی ہے کیونکہ مجذوب نہ یہ آزادی مانگتا ہے اور نہ چاہتا ہے اور رضائے الٰہی کی مکمل اطاعت کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ اگر چاہے بھی تو اس غلامی کی زنجیریں ڈھیلی اور نرم نہیں کر سکتا۔ جو چیز روح اور جسم کا حصہ بن جائے اس سے جدائی برداشت نہیں ہوتی۔

سبحان اللہ، میں نے مجذوبیت کے عجیب و غریب انوکھے رنگ دیکھے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے مجذوب جس طرف نگاہ ڈالتا ہے اس طرف کی ساری حقیقتیں قطار اندر قطار بےنقاب ہو جاتی ہیں اور جب وہ ظاہر کی آنکھ بند کرکے باطن کی آنکھ سے دیکھتا ہے تو اس کی نگاہ کا نور سارے عالم پہ چھا جاتا ہے۔ اللہ پاک مجذوب کو اپنی سلطنت کا بےتاج بادشاہ بنا کر اتنا اختیار عطا کر دیتا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے وہ قریب آتا ہے اور جسے نہیں چاہتا وہ کوشش کے باوجود قرب کی طرف قدم نہیں اٹھا سکتا۔ کبھی کبھی نافرمانی پر مجذوب کی آنکھ میں شعلے بھڑکنے لگتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے جیسے نافرمان جل کر راکھ ہو جائے گا لیکن مجذوب کو اپنے حال پر اتنا اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی کو نہ نقصان پہنچاتا ہےنہ ہی کوئی سزا دیتا ہے۔ اس بےضرر، مسکین، بظاہر غربت و افلاس کے لباس میں ملبوس شخص کو اللہ پاک اتنا رعب اور دبدبہ عطا فرما دیتا ہے کہ انسان تو انسان میں نے بےزبانوں کو بھی ان کے حکم کی تعمیل کرتے دیکھا ہے۔ یہ عطا، عطائے ربی ہوتی ہے نہ کہ اپنے کسب و کمال کا کمال۔ جو خوش ہو کر عطا فرماتا ہے وہ ناخوش ہو کر محروم بھی کر سکتا ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے، وہاں کسی کی کیا مجال۔ وہ جب راضی ہوتا ہے تو راکھ و خاک میں لپٹے انسان کو بادشاہت اور سلطنت عطا کر دیتا ہے۔ اس سلطنت کے حصول کے لئے نہ جنگ کرنا پڑتی ہے، نہ فوجیں پالنا پڑتی ہیں اور نہ ہی انسانوں کا خون بہانا پڑتا ہے۔ پھر یہ بادشاہت ایسی بادشاہت ہوتی ہے جس کے سامنے دنیا کی بادشاہت محض مشتِ غبار اور مٹی کی ڈھیری لگتی ہے۔ بادشاہِ وقت بھی آتا ہے تو اپنی تمام تر قوت اور شان و شوکت کے باوجود ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔ سبحان اللہ کس قدر قابلِ رشک اور اعلیٰ مقام ہے کہ دنیا کی نظروں میں ایک غریب انسان امراسے بھی زیادہ امیر ہوتا ہے اور ہر شخص ___بادشاہ سے لے کر عام انسانوں تک ___اس کے دربار میں حاجت روائی کے لئے آتا ہے جب کہ وہ دنیا اور دنیا والوں سے بےنیاز فرش پہ بوریا بچھائے بیٹھا رہتا ہے۔ یہ ہے معمولی سا انعام اپنے مالک حقیقی کی غلامی اور چاکری کا۔ اس کی غلامی، دنیا کی غلامی سے بےنیاز کر دیتی ہے اور اس کی چاکری دنیا کی چاکری سے آزاد کر دیتی ہے۔ جب انسان توکلِ کاملہ کو خلوصِ نیت سے اپنا لے اور خود کو اپنے خالق کے سپرد کردے تو پھر وہ دنیا کا غلام نہیں رہتا بلکہ دنیا اس کی غلام بن جاتی ہے۔ جذب و مستی کی کائنات سے انسان کو اتنا روحانی لطف اور اس قدر خوشی حاصل ہوتی ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر لذت ہیچ اور کم تر ہوتی ہے۔ فقیری میں بادشاہی مجذوب کا اصل مقام ہوتا ہے اور جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ یہ مقام عطا کرتا ہے ان کے لیے دنیا اس طرح مسخر کر دیتاہے کہ وہ چند لمحوں میں جہاں چاہیں پہنچ جاتے ہیں یعنی ان کے لئے مادی فاصلے سمٹ جاتے ہیں، سمندر راستہ دیتے اور پہاڑ راستے سے ہٹ جاتے ہیں اور وہ فرش پہ بیٹھا آسمانوں کی سیر کرتا ہے۔ عشق الٰہی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ میں خود کو مٹا کر یہ جذب اور یہ بادشاہی ملتی ہے۔ خود کو مٹانا نہایت مشکل مقام ہے اور شاید یہ فیصلے بھی ازل سے ہی طے تھے۔

تازہ ترین