• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہترین نظام وہی ہوتا ہے جس میں ایک عام شہری کو مرکزی حیثیت حاصل ہو اور ریاست کے وسائل کا معتدبہ حصہ شہریوں کی فلاح و بہبود پر صرف ہو۔ حکومتیں اور نظام انسانوں کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ انسان حکومتوں کے لئے۔ مختصر یہ کہ جس نظام میں ایک عام شہری حکومتی توجہ اور فلاح وبہبود کا مرکز نہ ہو وہ فلاحی نظام نہیں کہلا سکتا۔ اسلامی فلاحی ریاست میں ایک شہری کی کتنی اہمیت اور کیا حیثیت ہے اس کا اندازہ حضرت عمر ؓکے اس خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے اپنے گورنر معاویہ بن ابی سفیان ؓکو لکھا۔ ایک فقرہ ملاحظہ فرمائیے ’’خدا کی قسم۔ ایک مسلمان کی جان میری نظر میں ساری رومی حکومت سے زیادہ عزیز ہے‘‘۔ ہم فلاحی اور اسلامی فلاحی ریاست کا ذکر اکثر پڑھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ تاریخ میں پہلی اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد حضرت عمر ؓنے رکھی تھی اور انہوں نے ہی اپنے گیارہ سالہ دور حکومت میں ایسی فلاحی ریاست تشکیل دی جو دنیا کے لئے ایک مثال اور ماڈل بن گئی۔ سویڈن، ناروے، انگلستان جیسی سوشل ویلفیئر ریاستیں ہوں یا کینیڈا جیسے ممالک، فلاحی پروگرام کی حد تک یہ سب حضرت عمر ؓکے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ 22لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کرنے کے بعد اسلامی سلطنت کئی ممالک پر مشتمل ایک وسیع و عریض سلطنت بن گئی تھی جس میں حضرت عمر ؓنے پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بےسہارا خاندانوں اور بیوائوں کے لئے وظائف مقرر کئے۔

حضرت عمر ؓکے دور میں ہی حکومتی عہدیداروں کے لئے اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا اصول شروع ہوا، انہیں تجارت کرنے کی ممانعت ہوئی اور بہترین نظامِ عدل معرض وجود میں آیا۔ مذہب، رنگ، نسل اور ہر قسم کے امتیاز کو ختم کرکے شہریوں کو برابر کے حقوق دیے گئے۔ اتنی وسیع اور عالی شان سلطنت کا خلیفہ بیت المال سے اتنا ہی وظیفہ لیتا تھا جس سے بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ کُرتے پر پیوند سجے رہتے تھے۔ انتقال کے وقت حضرت عمر ؓمقروض تھے اور ان کا مکان فروخت کرکے قرض اتارا گیا۔ کیا آج اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ان سے کوئی نسبت اور موازنہ ہو سکتا ہے؟ بادشاہتیں یا آمریتیں ہوں یا جمہوریتیں، اسلامی ممالک کے حکمران بادشاہت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اور یہی ایک بڑا سبب ہے عالمِ اسلام میں منافرت اور باہم دوری کا اور یہی ایک بڑی وجہ ہے مسلم امہ کی پسماندگی کی۔

حضرت عمرؓ کے یومِ حساب جوابدہی کے ضمن میں یہ فقرہ تو زبان زدِعام ہے کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن عمر ؓسے اس کی بھی بازپرس ہو گی لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ حضرت عمر ؓانسانی زندگی کی اہمیت اور رزق کے حوالے سے حکومتی ذمے داری کا کس قدر مظاہرہ کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک بستی کے رہنے والوں نے ایک پیاسے مسافر کو پانی نہ دیا اور وہ پیاس کی وجہ سے مر گیا۔ حضرت عمر ؓ نے اس کا خون بہا ادا کیا اور پھر اسے اس بستی والوں سے وصول کیا۔ اسی فاروقی فیصلہ کی رو سے یہ قانون بن گیا کہ اگر کسی بستی میں کوئی شخص بھوک پیاس سے مر جائے تو اہلِ بستی پر اس کی دیت (خون کی قیمت) کی ادائیگی لازم ہو گی (معاملات عمر فاروقؓ ص147)۔ اس اصول کو آج کے پاکستان پر لاگو کریں تو بھوک و افلاس کے مارے ہوئے شہریوں کے لئے خوراک کا بندوبست کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور پھر اس کے بعد اہلِ گائوں اور اہلِ محلہ کی بھی ذمہ داری ہے اسی لئے اسلام میں پڑوسی کے حقوق پر حد درجہ زور دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں روزانہ کتنے ہی لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں اور ایک سروے کے مطابق 45فیصد لوگ غیرطبعی موت مرتے ہیں۔ غیرطبعی موت میں بغیر علاج کےموت بھی شامل ہے اور جعلی دوائوں کے سبب اموات بھیشامل ہیں۔ بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ناقص خوراک اور ملاوٹ ہے جس کا تدارک حکومتی ذمے داری ہے۔ بہت طویل عرصے کی حکمرانی کے بعد حکمرانوں کو اس انسان کش ملاوٹ کی وبا کا احساس ہوا ہے تو اب مسئلہ اتنا گھمبیر ہو چکا ہے کہ اس کے تدارک کے لئے ایک ہمہ گیر منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ ہمارے حکمران اور دولت مند بااثر اشرافیہ علاج کے لئے بھی بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنے لئے خالص خوراک کا بھی بندوبست کرتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ عام شہری پر کیا بیت رہی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس طرح کا احساس ذمہ داری جوابدہی کے خوف سے جنم لیتا ہے۔ جوابدہی اپنے خالق حقیقی کے سامنے یا پھر اپنے عوام کے سامنے۔ مغربی جمہوریت کی روح عوام کے سامنے احساس جوابدہی ACCOUNTABLITY اور احتساب ہے اور اسلامی نظام کی روح اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی ہے۔ ماشاءاللہ ہمارے حکمران طبقے ہر قسم کی جوابدہی سے آزاد و بےنیاز ہو چکے ہیں کیونکہ خوفِ الٰہی ان کے دلوں سے اٹھ چکا ہے اور عوامی جوابدہی کو وہ پیسے کی سیاست سے خرید لیتے ہیں۔ خوفِ الٰہی یا خوفِ عوامی جوابدہی ہو تو لوٹ مار کا یوں عذر برپا نہیں ہوتا جو ہمارے ملک میں چہار سو نظر آتا ہے اور خوفناک عفریت بن چکا ہے۔ حضرت عمرؓکے دور میں قحط پڑا تو انہوں نے فاقوں سے اپنے آپ کو ادھ موا کر لیا اور جب تک اطمینان نہ کرلیا کہ ہر بھوکے کو کھانا مل گیا ہے اپنے منہ میں لقمہ تک نہ ڈالا۔ وہ لقمہ اسی کھانے کا تھا جو ہر ایک نے کھایا تھا۔ حضرت عمر فاروق ؓنے جہاں اسلامی ریاست میں انصاف و عدل کے نظام کی پختہ بنیادیں رکھیں اور گورنروں کو واضح مگر سخت ہدایات جاری کیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہر شہری کو احساسِ تحفظ فراہم کیا وہاں کفالتِ عامہ کے سلسلے میں یہ اعلان بھی فرمایا کہ ’’قلم و خلافت میں بلاتخصیص مذہب و ملت پر تنگ دست کی امداد کی جائے، ہر مقروض کا قرضہ ادا کیا جائے، ہر کمزور، ضعیف اور مظلوم کی اعانت کی جائے، ہر ظالم کو ظلم سے روکا جائے اور ہر ننگے کو کپڑے پہنائے جائیں‘‘۔ یہ تھا ایک اسلامی فلاحی ریاست کا بنیادی اصول، آئین کے مطابق پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ (ISLAMIC REPUBLIC)ہے۔ قیامِ پاکستان کا مقصد ایک اسلامی جمہوری و فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ ہم اس منزل سے دور بہت دور ہیں۔ اپنے اندر جھانکئے اور سوچئے کہ کیا موجودہ کرپٹ، حرص و ہوس زدہ اور جوابدہی کے احساس سے محروم لیڈران اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں؟

تازہ ترین