تحریر:مولانا ضیاء الحسن طیب۔۔۔برمنگھم
حج ادا کرنے کے لئے لوگوں میں اعلان کرو وہ تیرے پاس پیادہ اور سوار ہوکر آئیں گے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے گھر خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کرچکے تو آپ نے بارگاہ رب العزت میں فرمایا الٰہی اس گھر کی کون خواہش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم لوگوں کو حج کے لئے آواز دے حضرت ابراہیم پہاڑ پر چڑھ گئے اور اونچی آواز میں پکارا اور پکار کر کہا کہ اے لوگو تمہارے اللہ کا حکم ہے کہ خانہ کعبہ کے حج کے واسطے آؤ،ہر ایک مومن مرد اور مومنہ عورت جوزمین میں رہتی تھی سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آواز کوسنا یہاں تک کہ مردوں کی پیٹھ اور عورتوں کے رحموں میں جو روحیں تھیں ان کے کانوں تک بھی یہ آواز اللہ تعالیٰ نے پہنچا دی جس نے اس آواز پر لبیک کہا وہ جب تک حج نہ کرے گا دنیا سے نہ جائے گا۔ مجاہد ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اچانک یمن سے ایک گروہ آیا ان لوگوں نے آکر کہا اے اللہ کے رسولؐ ہمیں حج کی فضیلتوں اور برکتوں سے آگاہ کریں آپؐ نے فرمایا جو شخص حج کے ارادہ سے اپنے مقام سے نکلے تو جو قدم وہ اٹھاتا ہے تو ہرقدم پر اس کے گناہ جھڑتے ہیں جیسے ہوا کے ساتھ درخت کے پتے گرتے ہیں۔ جب وہ لبیک کہتا ہے تو خداوند کریم اس کو جواب دیتا ہے کہ میں نے تیرا کلام سن لیا ہے جب وہ مکہ معظمہ میں داخل ہوتا ہے اور خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے بے شمارنیکیاں عطا کرتا ہے جب وہ عرفات میں کھڑا ہوتا ہے اور اونچی آواز سے اپنی حاجت کی درخواست کرتا ہے تو خدا تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے کہ اے آسمان کے رہنے والو تم میرے بندوں کی طرف نہیں دیکھتے ہو جو دور دور سے آئے ہیں ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور گرد آلودہو رہے ہیں اپنے مالوں کو انہوں نے خرچ کیا ہے اپنے جسموں کو انہوں نے تکلیف دی ہے مجھےاپنی عزت کی قسم میں ان کو بخش دوں گا اور گناہوں سے انہیں ایسا پاک کردوں گا جیسے کوئی ابھی ماں کے پیٹ سے پیداہوا ہے۔ اور جس وقت یہ لوگ سنگریزے پھینکتے ہیں اور اپنے سر کے بال منڈواتے ہیں اور بیت اللہ کی زیارت سے شرف یاب ہوتے ہیں تو اس وقت عرش کے نیچے سے ایک پکارنے والا ان کو پکار کر کہتا ہے کہ اب تم اپنے گھروں کو واپس چلے جائو تمہارے پہلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ حج کرنے والا آدمی جب حج کے لئے سامان تیار کرتا ہے تو اس تیاری میں ہر ایک چیز کے اٹھانے اور رکھنے کے عوض اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس کی دس برائیاں دور ہوتی ہیں اور دس درجے بلند ہوتے ہیں۔ اور جب یہ شخص سوار ہوکر گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو اس سواری کے ہر قدم اٹھانے اور رکھنے میں بھی اس کو ویسا ہی ثواب ملتا ہے۔ جیسا کہ چیزوں کے اٹھانے اور رکھنے میں ملتا ہے جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے تو اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ اور جب یہ شخص سوار ہوکر گھرسے روانہ ہوتا ہے تو اس سواری کے ہر قدم اٹھانے اور رکھنے میں بھی اس کو ویسا ہی ثواب ملتا ہے جیسا کہ چیزوں کو اٹھانے اور رکھنے میں ملتا ہے جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے تو اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔حضرت علی المرتضےٰ سے روایت ہے آپؐ نے فرمایا اے علی اللہ نے اس گھر کی بنیاد اس واسطے ڈالی ہے کہ اس میں میری امت کے گناہوں کا کنارہ ہو میں نے عرض کیا یہ حجراسود کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا کہ یہ ایک جوہر ہے اس کو جنت سے لایا گیا ہے اس کی روشنی آفتاب سے زیادہ چمکتی تھی مگر مشرکوں کے چھونے سے اس کی روشنی سیاہی میں بدل گئی۔ حضور اقدسؐ نے فرمایا خانہ کعبہ پر ہر روز ایک سوبیس 120 رحمتیں نازل ہوتی ہیں ساٹھ طواف کرنے والوں پر چالیس نماز پڑھنے والوں پر اور بیس ان پر جو صرف خانہ کعبہ کو دیکھتے ہیں۔ حضرت عمر بن ابی مسلمہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس آدمی کو میں نےتین سال تک صحت اور تندورستی دی ہو اور اس کی عمر دراز ہو اگر وہ تین سا ل تک اس کے گھر کی زیارت کے واسطے نہ آئے تو ایسا شخص محروم ہے۔ حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے ابتدائی زمانہ میں آپؓ کے ساتھ حج کیا آپ مسجد میں آئے اور حجر اسود کے پاس آکر کھڑے ہوگئے اور حجر اسود کو خطاب کرکے کہا کہ ہر صورت میں تو پتھر ہے نہ کچھ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ضرور اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں ہر گز تجھےبوسہ نہ دیتا۔حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ جو شخص حج اور عمرہ کرتا ہے وہ اللہ سے جو کچھ مانگتا ہے اللہ اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے ۔ اگر وہ بخشش کی دعا کرتا ہے تو اس کی بخشش کردی جاتی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ فرشتے حاجیوں سے ملاقات کرتے ہیں جو سوار ہوتے ہیں انہیں سلام کرتے ہیں جو لوگ گدھوں پر سوار ہوتے ہیں ان سے مصافحہ کرتے ہیں جو لوگ بیادہ ہوتے ہیں ان سے گلے ملتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان حج کے لئے گھر سے نکل جائے اور منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے مرجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہشت میں داخل کریں گے۔ حضوراقدسؐ نے فرمایا جو شخص خانہ کعبہ کا حج کرے گناہ اور فسق و فجور سے بچا رہے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے کہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حج کی وجہ سے تین آدمی جنت میں جاتے ہیں ایک حج کی ترغیب دینے والا دوسرا عمل کرنے والا اورتیسراحج کے لئے انتظام کرنے والا ۔ حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے جو شخص اس کے گھر جانے کی ہمت اور طاقت رکھتا ہو اس پر اس کا حج فرض ہے آپؐ نے فرمایا جو شخص وہاں جانے کی سکت رکھتا ہو تو وہ پھر بھی حج نہ کرے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی اسلام کو اس کی کوئی پرواہ نہیں لہٰذا پہلی فرصت میں اگر انسان پر حج فرض ہے تو اس کی ادائیگی کے لئے ارادہ اور قصد کرے۔