کراچی (رپورٹنگ ٹیم: ثاقب صغیر، مطلوب حسین، محمد منصف، محمد ندیم) وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کے نوٹس اور فوری احکامات کے بعد منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی ۔ پولیس نے قانونی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے عدالت سے دوبارہ رجوع کیا جس کے بعد عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ملزمہ کے خلاف قتل، منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج ہیں جبکہ دوران تفتیش اہم شواہد اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ریمانڈ مسترد ہونے کے بعد پولیس نے کیس کے قانونی پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا اور مضبوط دلائل کے ساتھ عدالت میں مؤقف پیش کیا جس پر عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے ہدایت کی ہے کہ کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر تفتیش یقینی بنائی جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آسکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی پر یقین رکھتی ہے اور قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزمہ کے خلاف کارروائی شواہد اور قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی جبکہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ تینوں مقدمات میں مکمل تحقیقات کرکے چالان مضبوط بنیادوں پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ماتحت عدالت نے انمول عرف پنکی کو پولیس ریمانڈ کے بجائے جیل بھیج دیا تھا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے امتناعی منشیات و غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں خاتون ملزمہ انمول عرف پنکی ڈان کو 15 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔