کراچی (رفیق مانگٹ)پاک بھارت بیک ڈور ڈپلومیسی جاری یا یہ محض میڈیا بیانیہ ہے؟مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ، سابق بھارتی آرمی چیف اور سیکرٹری جنرل آر ایس ایس نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ بات چیت ناگزیر ہے تاہم سابق پاکستانی سرکاری افسر نے کہاہے کہ یہ خبریں بالکل غلط اور بھارت کی طرف سے منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ایک بار پھر بحث کے مرکز میں ہیں، جہاں ایک جانب بھارتی میڈیا مسلسل خفیہ یا بیک ڈور مذاکرات کی خبریں نشر کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستانی حکام ان رپورٹس کو واضح طور پر پروپیگنڈاقرار دے رہے ہیں۔ اس نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا واقعی پسِ پردہ کوئی سفارتی عمل جاری ہے یا یہ صرف بیانیہ سازی ہے۔ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج نروانے ،نے آر ایس ایس رہنما دتاتریہ ہوسبالے کے اس مؤقف کی حمایت کی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کے امکان اور اس کی خواہش کو قابلِ عمل قرار دیا گیا تھا۔