آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نوجوان ملک و قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور ملک و قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں کل آبادی کا نصف حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہی نوجوانوں میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو پیدائشی یا حادثاتی طور پر معذوری کا شکار ہوگئے۔ ان نوجوانوں میں جو بینائی سے محروم، سماعت سے معذور، جسمانی طور پر کمزور اور دیگر جسمانی اعضاء کی کمی سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ نوجوان قابل ستائش ہیں کیونکہ ان نوجوانوں میں ہمت و حوصلہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جبکہ کچھ کر کے دکھانے کا جنون ان کے عزم و حوصلے اور ارادوں کو کمزور نہیں کر سکتا ہے۔ یہ نوجوان مثبت سوچ کے مالک ہیں۔ 

ایسے نوجوانوں کو معذور کہنا یا سمجھنا کم عقلی اور ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے ’اسپیشل پرسن‘ یعنی خصوصی افراد ہیں۔ پاکستان کی تعمیر و ترقّی میں ان کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ ان اسپیشل نوجوانوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ نارمل نوجوانوں سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہم سے شکوہ اور تقاضا کرتے ہیں کہ ان پر ترس کھا کر نظرانداز نہ کیا جائے اور مایوس نہ کیا جائے، ان کو معذوری کے سبب دُوسرے نوجوانوں اور انسانوں سے کمتر نہ سمجھا جائے بلکہ ان کو معاشرے میں اہم مقام دیا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھایا جائے تاکہ یہ بھی نارمل نوجوانوں کی طرح معاشرے میں باعزت زندگی بسر کر سکیں۔

خصوصی نوجوانوں نے دُنیا کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا ہے اور اپنی انتھک محنت اور لگن سے معذوری کو شکست دے کر قوم و ملک کا نام روشن کیا اور اپنا مقام بنایا، اور اپنی صلاحیتوں سے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے تو یہ نارمل نوجوانوں کی طرح اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان پر کوئی ایسی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو ان کے لئے ناقابل برداشت ہو۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر نارمل صحت مند نوجوان خصوصی نوجوان کی حوصلہ افزائی اور تعاون کرنے کی بجائے ایسے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں جس سے معذور نوجوان کی دل شکنی ہوتی ہے اور وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر کچھ کر دکھانے کی بجائے اپنا حوصلہ کھو بیٹھتا ہے اور منفی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر ایسے معذور نوجوان دل شکستہ ہو کر بھکاری بن جاتے ہیں اور اپنی جسمانی معذوری کو ڈھال بنا کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں جو قابل مذمت بات ہے۔

معذور نوجوانوں نے مختلف شعبوں میں نام پیدا کیا ہے۔ تعلیم، کھیل، آئی ٹی، ٹیکنیکل شعبوں میں اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوایا ہے۔ اگر ہم کھیلوں کی بات کریں تو بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے بڑے ٹورنامنٹ جیتے ہیں جس میں ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔ بلائنڈ کرکٹ ٹیم نے اپنے روایتی حریف بھارت کو کئی مرتبہ شکست دی ہے۔ یہ باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہے۔ دیگر کھیلوں میں بھی یہ اسپیشل نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ایک پاکستانی نوجوان نے پولیو سے متاثرہ افراد کی معذوری بڑھنے سے روکنے والا سستا آلہ تیار کیا ہے جو مقامی طور پر انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہے۔ 

پشاور سے تعلق رکھنے والے شہاب الدین جو خود بھی پولیو کا شکار بننے کے بعد 1986ء سے وہیل چیئر پر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ آلہ بنانے کا خیال تب آیا جب مسلسل وہیل چیئر پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈّی متاثر ہوئی۔ شہاب الدین نے پشاور میں قائم مفلوج افراد کی بحالی کے ادارے کے ساتھ مل کر معذور افراد کی ریڑھ کی ہڈّی کو بچانے والا آلہ مقامی طور پر تیار کیا ہے۔ اس آلے کو ’’پوسچر سپورٹ ڈیوائس (پی ایس ڈی) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کو وہیل چیئر گاڑ ی کی سیٹ یا عام کرسی سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں عموماً معذور افراد کو مجبور اور لاچار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اسی معاشرے کی ایک قدرے مختلف اور مثبت تصویر کراچی شہر میں موجود گاڑیوں کی ایک ایسی ورکشاپ ہے جسے معذور افراد چلاتے ہیں۔ یہ معذور نوجوان اپنی محنت و مشقت کے ذریعے دو پہیوں والی موٹرسائیکل کو تین پہیوں میں بدل کر ہر طرح کے جسمانی معذور افراد کے چلانے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ نوجوان گاڑیوں کو ایسی شکل میں تبدیل کرتے ہیں جسے ہاتھوں سے معذور افراد پیروں سے اور ہاتھوں اور پیروں دونوں سے معذور افراد باآسانی چلا سکتے ہیں۔ 

معذور افراد کو جہاں زندگی کے کئی مراحل پر تکلیف اور مشکلات آتی ہیں وہیں عام پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے لیے کوئی مخصوص حصہ یا سہولت کا نام و نشان تک نہیں، اس کے نتیجے میں معذور افراد دیگر گھر والوں کا سہارا لیتے ہیں یا اکثر گھر میں قید کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ واحد ورکشاپ ہے جو کراچی بھر سے ملک کے دیگر شہروں میں موجود معذور افراد کو گاڑیاں بنا کر دیتے ہیں۔

اسی طرح لاہور کے یوسف سلیم نے ایک تاریخ رقم کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے نابینا جج ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایل ایل بی (آنرز) پروگرام میں گولڈ میڈلسٹ یوسف سلیم نے عدلیہ کے تحریری امتحان میں ساڑھے چھ ہزار اُمیدواروں میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ ان میں 21 اُمیدوار انٹرویوز کے لیے چنے گئے، جن میں یوسف سلیم بھی شامل تھے، لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انہیں انٹرویو کا اہل تصور نہیں کیا گیا۔ 22 اپریل 2018ء کو اس حوالے سے میڈیا کی رپورٹ کا چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیا۔ انہوں نے قرار دیا کہ نابینا ہونے کے باوجود کوئی بھی شخص جج کا منصب سنبھال سکتا ہے بشرطیکہ وہ اہلیت کے مطلوبہ معیار پر پورا اُترتا اور تمام تر تقاضے پورے کرتا ہو۔

ایسے کئی نابینا طلبہ و طالبات ہیں جنہوں نے پی ایچ ڈی کی اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ نابینا نوجوانوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی ذہنی صلاحیت بہت تیز ہوتی ہے، ان میں حافظ قرآن پاک بھی بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ ہمیں ان خصوصی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر فخر ہے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقّی میں ان کا بھی اہم کردار ہے لیکن ان خصوصی نوجوانوں کے مسائل کی فہرست بھی لمبی ہے۔ انہیں زندگی کے ہر قدم پر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ 

ان کےمسائل کے سدباب کے لیے ان کو قریب سے جاننا اور سمجھنا عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ بہت سے سماجی ماہرین کے مطابق کسی بھی ترقّی پذیر معاشرے میں اجتماعی بہتری اور ترقّی کے سفر میں ترجیحات انتہائی اہم ہوتی ہیں کہ جہاں غربت، بے روزگاری اور ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہو، جہاں معذور نوجوانوں کے حقوق اور ضروریات تک کو عوامی اور حکومتی سطح پر اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہو، وہاں لوگوں کی معلومات تک رسائی کا معاملہ کتنا ضروری ہو سکتا ہے؟ان خصوصی نوجوانوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو سرکاری اور نجی دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ سینٹرز، ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشنوں اور اسپتالوں میں ان کو باآسانی رسائی ممکن نہیں چونکہ عمارتوں کے انفرا اسٹرکچر میں خصوصی بچّوں نوجوانوں کےلیے ریلنگ اور ریمپ نہیں بنائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے جگہ جگہ خصوصی نوجوانوں کو اذیت کا احساس ہوتا ہے اور ان کی اکثریت گھروں تک محدود ہو جاتی ہے۔ 

خصوصی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید ہنر سے آراستہ ہونے کے بعد بھی نوکری نہیں ملتی، تمام تعلیمی قابلیت کے تقاضے پورے کرنے اور تحریری ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کے بعد بھی انٹرویو کی میز سے خالی لوٹا دیا جاتا ہے، ریاست پاکستان اور عوامی نمائندوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنی قوم کے اس کمزور طبقے کی طاقت بنیں اور ان خصوصی نوجوانوں کو ان کا جائزہ مقام اور حقوق دلائیں تاکہ یہ بھی باقی ممالک کے خصوصی افراد کی طرح ایک باعزت اور پُرسکون زندگی بسر کر سکیں۔