آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج کے ترقی یافتہ اور تیز رفتار دور میں ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کا حصول بہت زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ نوجوان بڑی محنت اور انتھک جدوجہد کے بعد اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں اس لیے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی قابلیت کے لحاظ سے روزگار حاصل ہوجائے تاکہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھ سکیں۔ لہٰذا وہ اپنی سی وی "CV" بذریعہ ڈاک یا انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف سرکاری، نیم سرکاری اداروں یا مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں جہاں آسامیاں درکار ہوتی ہیں روانہ کرتے ہیں کیونکہ تعلیم کے بعد نوجوانوں کے اندر یہ احساس ہوتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے والدین اور گھر والوں کے لیے کچھ کریں تاکہ انہیں بھی معاشی استحکام حاصل ہو۔ 

لیکن ہمارے نوجوانوں کو اپنی شخصیت اور اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ وقت تعلیمی مصروفیات دوست احباب اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں گزارا ہوتا ہے، اب یہ نوجوانوں پر منحصر ہوتا ہے کہ انہوں نے جو تعلیم حاصل کی ہے وہ صرف ڈگری حاصل کرنے کی غرض سے ہےیا علم حاصل کرنے کے لیے کیونکہ اب آنے والاے لمحات میں آپ کاکڑا امتحان ہے۔

عملی زندگی میں قدم رکھنے کا دعوت نامہ آجاتا ہے پہلے آپ کو تحریری امتحان پاس کرنا ہے اس کے بعد انٹرویو ہوگا۔ لہٰذا ہمارے نوجوان جنہیں جدید ترقیاتی دور میں تین اقسام میں تقسیم کیا جارہا ہے وہ یہ ہیں۔

1-وہ نوجوان طبقہ جنہوں نے واقعی حقیقی معنوں میں تعلیم کے ذریعے ڈگری کے ساتھ علم بھی حاصل کیا ، اس کی افادیت اور اہمیت کو سمجھا، خود کو شعوری طور پر اس کا اہل بھی ثابت کیا۔ ان کی خواہش ہوتی ہے انہوں نے جس شعبے میں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کی ہے انہیں اسی شعبہ سے وابستہ روزگار ملے تاکہ ترقی کے امکانات زیادہ ہوں۔

2-نوجوانوں کا وہ طبقہ جو تعلیم اس لیے حاصل کرتا ہے کہ اس کے والدین کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی تعلیم یافتہ اولاد کے والدین کہلائیں اور خاص کر وہ اپنے گھرانے کی ذمہ داریوں کو پورا کرسکیں تاکہ ان کے معاشی حالات میں تبدیلی رونما ہو اور معاشرے کا باعزت حصہ بن سکیں۔ اپنی تمام محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے۔

3-یہ برگر اسٹائل نوجوانوں کا طبقہ ہے (معذرت کے ساتھ) انہیں ڈگری صرف تعلیم یافتہ کا لقب حاصل کرنے کے لیے چاہئے ہوتی ہے تاکہ لفظ ’’ان پڑھ‘‘ کا داغ مٹ جائے، یہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی سوچ کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے، وہ صرف شارٹ کٹ راستوں پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں روزگار/ ملازمت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

اب ہم اپنے اصل مفہوم کی طرف واپس آتے ہیں۔ ہمارے نوجوان تحریری امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد انٹرویو کال کے انتظار میں رہتے ہیں آخر کار انہیں انٹرویو کی کال بھی آجاتی ہے تو نوجوانوں کی اکثریت دوبارہ انٹرویو کی تیاری میں مصروف ہوجاتی ہے، وہ پھر تدریسی یا نصابی کتابوں کے ساتھ معلومات عامہ اور حالات حاضرہ کے بارے میں آگہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اپنے اپنے مشاغل کے بارے میں مفید اور کارآمد پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں۔

ہماری نوجوان نسل بھرپور تیاری کے ساتھ اپنی قسمت آزمانے کے لیے اب انٹرویو کے کمرے میں داخل ہوتی ہے، جہاں پہلے ہی سے دو یا تین افراد بڑی ٹیبل کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ ہر نوجوان سے مختلف نوعیت کے سوالات کرتے ہیں جن کے جوابات نوجوان نسل اپنے طور پر درست دے کر واپس اپنے گھروں کا رخ کرتی ہے۔ نوجوان نسل کا زیادہ تر بیان یہ ہوتا ہے کہ صرف نام پوچھا اس فیلڈ میں کیوں آنا چاہتے ہیں۔ بعض کا بیان ہوتا ہے پہلے ملازمت کی ہے، تجربہ کتنا ہے، کچھ تنخواہ کا پیکیج سن کر دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں۔

لیکن ہماری نئی نسل پھر بھی حوصلہ افزاء نتائج حاصل کرنے کی غرض سے انتظار فرمائیے کا بورڈ آویزاں کرلیتے ہیں کہ قسمت ان پر مہربان ہونے والی ہے۔ لیکن کچھ عرصے بعد حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ تمام آسامیاں جن کے لیے تحریری امتحان اور انٹرویو دیئے تھے سب پُر ہوچکی ہیں تو مختلف قسم کے خیالات ذہن میں جنم لینے لگتے ہیں۔

1-تعلقات اور مراسم کی بنیاد پر روزگار ملتے ہیں۔

2-کچھ گڑبڑ ہے کچھ لو کچھ دو والی پالیسی لگتی ہے۔

3-آسامیاں پہلے ہی سے پُر تھیں یہ صرف رسمی کارروائی تھی۔

لیکن صحیح حقیقت کیا ہے؟

نسل نو کو اس کا علم نہیں،اب ہم اکیسویں صدی کے شہری اور نوجوان ہیں، الیکٹرونک دور ہے، نوجوانوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ دانستہ یا غیردانستہ طور پرکچھ غلطیاں کرچکے ہیں جن کی بنیاد پر ان کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے۔ لہٰذا وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے آپ صاحب روزگار نہیں ہوسکے ۔

1-جس ادارے میں بھی آپ جاتے ہیں وہاں پارکنگ ایریا سے انٹرویو کے روم تک کیمرے نصب ہیں ،آپ کی حرکات و سکنات کا مکمل جائزہ لیا جارہا ہوتا ہے۔ انٹرویو ایک نفسیاتی جنگ ہے آپ کتنے مضبوط ا عصاب کے مالک ہیں۔

1-آپ کے چہرے بلکہ ہونٹوں سے سامنے والے شخص کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا کوئی اور عادت ہے مثلاً پان، چھالیہ، گٹکا، مین پوری وغیرہ وغیرہ۔

2-آپ نے جو لباس زیب تن کیا ہے وہ آپ کی شخصیت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

(i) اگر آپ نے شلوار قمیض پہنا ہوا ہے تو اس کے ساتھ واسکٹ اور جوتے کیسے ہیں۔

(ii) اگر آپ نارمل ڈریس پینٹ شرٹ میں ملبوس ہیں تو ٹائی، کفلینگ، شوز کی میچنگ کس نوعیت کی ہے۔

(iii) اگر آپ نے سوٹ کا انتخاب کیا ہے تو اس کا رنگ موسم کے لحاظ سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ جوتوں کی نوعیت کیا ہے۔ ٹائی کس طرح کی ہے۔ آپ کے بالوں سے لے کر جوتے، موزے تک کی تمام چیزوں کو بڑی باریکی کے ساتھ پرکھا جاتا ہے۔

ویٹنگ روم (انتظار گاہ) میں آپ کس طرح بیٹھے تھے ،چہرے کے تاثرات کیسے تھے، ناخن تو بار بار نہیں چبارہے تھے، پین سے کاغذ پر لکیریں کھینچ رہے تھے، موبائل سے گفت گو میں مصروف تھے ، کسی کے ساتھ گپ شپ کررہے تھے یا چہرے پر مکمل اطمینان ہے ،کوئی بے چینی کی کیفیت نہیں ہے۔یہ سب حرکات سکنات بھی انٹرویو کا حصہ ہوتی ہیں، اسی کے حساب سے اچھی کمپنیاں مکمل چھان بین کے بعد آپ کو اپنی فرم یا ادارے کے لیے منتخب کرتی ہیں۔

یہ مقابلے کا دور ہے چنانچہ آپ کو تمام باتوں اور اپنی حرکات و سکنات کو کنٹرول کرنا چاہئے جس نوعیت کی آسامی ہے اس کے لحاظ سے پوری طرح تیار ہوکر عملی زندگی میں قدم جمانے کے لیے بڑی ہمت اور نئے جذبے کے ساتھ خود کو آگے لانا ہوگا، کیونکہ اصل میں آپ کی شخصیت ہی مکمل امتحان ہے جس میں کامیابی کا تعلق آپ کی ذات سے ہے۔