آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

16دسمبر 1971کو آج سے 50سال پہلے ہم نے آدھا پاکستان جسے مشرقی پاکستان کہتے تھے، کو بھارت سے جنگ میں کھو دیا تھا، جس کو آج بنگلہ دیش کہتے ہیں۔ یہ سانحہ یحییٰ خان کی ہٹ دھرمی اور ذوالفقار بھٹو کی سیاسی سوچ کی وجہ سے پیش آیا جس نے اس ملک کے 2ٹکڑے کر دیے۔ بعد میں ہم اپنے 90ہزار فوجی ہند کی قید سے تو چھڑا لائے مگر 5لاکھ شہری جن کو عرف عام میں بہاری کہا جاتا تھا (مشرقی پاکستان میں بسنے والے ہر غیربنگالی کو بہاری کہا جاتا تھا) اُن کو لاوارث چھوڑ آئے جن کو بنگلہ دیش کے مکتی باہنی غنڈوں نے گھروں سے نکال کر ان کا تمام سامان لوٹ کر بےگھر کردیا اور وہ کیمپوں میں محصور ہو گئے۔ بعد میں آدھے لوگ گرتے پڑتے ہندوستانی سرحدوں سے نکل کر کسی طرح پاکستان پہنچ گئے اور اورنگی میں آباد ہو گئے۔

آج میں پھر محصورینِ بنگلہ دیش کا معاملہ پھر قوم کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ 1989میں کراچی میں ایک کمیٹی جس میں جماعت اسلامی، این پی پی، تحریک استقلال، مسلم لیگ(ن) پی ڈی پی، مزدور کسان پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی کے عہدیداران نے مشترکہ طور پر مل کر کمیٹی برائے محصورین پاکستان تشکیل دی۔ جس کا مقصد غیرسیاسی بنیادوں پر بنگلہ دیش میں اس وقت جو افراد رہ گئے تھے اور فنڈ کی کمی کی وجہ سے 1971میں پاکستان نہیں آسکے تھے، ان کو پاکستان میں لا کر آباد کرنا تھا۔ جس کی قیادت میں کر رہا تھا اس کے متعدد اجلاس بھی ہوئے، مجھے بنگلہ دیش سے ایک ای میل ملی تھی جومحصورین پاکستانی کمیٹی ایس پی جی آر سی(SPGRC) کے نائب سیکرٹری جنرل ہارون الرشید (کمیٹی کے بانی چیف پیٹرن مرحوم الحاج نسیم خان کے صاحبزادے) نے کی تھی۔ لکھا تھا آج بھی 3لاکھ سے زائد پاکستانی، بنگلہ دیش کے بڑے شہروں ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، راج شاہی، فرید پور، نارائن گنج، خالص پور، محمد پور اور میر پور کے کیمپوں میں کھلے آسمان تلے پاکستان کی محبت میں آج بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کو بنے 50سال ہونے کو ہیں، بنگلہ دیش کی شہریت ان کو قبول نہیں ہے۔ پاکستان ان کو لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے فوری طورپر سردی سے بچنے کے لئے کم از کم 5ہزار کمبل اور ادویات کی اپیل کی تھی جو کے این فاؤنڈیشن کی طرف سے ہم نے ان کو بھجوا دیے تھے۔ اس کے بعد ہم نے ایک میٹنگ 1989میں نواز شریف سے کرا چی میں کی تھی، وہ اس وقت پنجاب کے چیف منسٹر تھے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے 1لاکھ جوڑے کپڑوں کے لئے 76لاکھ روپے دیئے اور وعدہ کیا کیونکہ مرکزی حکومت ہی مجاز تھی ان محصورین کو پاسپورٹ دینے اور پاکستان لانے کی مگر ان کے پاس صرف ایک صوبے میں حکومت تھی تو انہوں نے وعدہ کیا کہ جب بھی مرکزی حکومت میں آئیں گے ان تمام پاکستانی محصورین کو پاکستان میں لا کر پنجاب میں آباد کر دینگے۔ ہم نے ہلال احمر پاکستان کے تعاون سے 1لاکھ جوڑے کپڑوں کے بنگلہ دیش بھجوائے۔ صرف 2سال بعد پی پی پی کی حکومت کو غلام اسحق خان صدر پاکستان نے ختم کرکے الیکشن کروائے تو نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ(ن) مرکزی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ ہمارے وفد نے پھر وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی، انہوں نے اس وقت کےچیف منسٹر غلام حیدر وائن کو ہدایت کی۔ پہلے ایک جہاز بھر کر تقریباً 350افراد کو بنگلہ دیش سے ملتان، میاں چنوں کے قریب جو چیف منسٹر کا آبائی حلقہ تھا لایا گیا اور پنجاب حکومت نے گھر اور ساتھ کچھ زمین کھیتی باڑی کے لئے ان کو دی اور آباد کر دیا گیا۔ جہاں آج بھی وہ آباد ہیں، اس کے بعد ہماری کمیٹی نے بار بار وزیراعظم نواز شریف کی توجہ بقایا ڈھائی لاکھ افراد کو پاکستان لانے کے وعدے کی طرف مبذول کرائی مگر ہر ممکنہ کوشش کے باوجود وہ ٹال مٹول کرتے رہے۔ پھر پی پی پی اقتدار میں آ گئی۔ پی پی پی حکومت ہمیشہ ان پاکستانیوں کو لانے کی مخالف تھی، اس کا کہنا تھا کہ ان ڈھائی لاکھ بہاریوں کو سندھ میں لانے سے آبادی کا تناسب سندھیوں سے بڑھ کر مہاجروں کا ہو جائے گا جبکہ اس وقت صرف پاکستان میں 40لاکھ افغانی، برمی غیرقانونی طورپر آچکے تھے اور 10لاکھ سے زائد افغانی صرف کراچی میں مقیم تھے۔ بہر حال قصہ مختصر دوبارہ پی پی پی کی حکومت ٹوٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت مرکزی اقتدار میں آگئی ۔ کمیٹی نے پھر مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے کی کوشش کی مگر نواز شریف صاحب نے نہ کمیٹی سے ملاقات کی اور نہ اپنا وعدہ پورا کیا جس پر سب نے متفقہ طور پر کمیٹی توڑ دی اور بقایا رقم جو 21لاکھ روپے بچی تھی وہ بھی واپس حکومت پنجاب کو لوٹا دی۔ آج پھر ہارون الرشید ایکٹنگ سیکرٹری جنرل ایس پی جی آر سی (بنگلہ دیش )نے ای میل کی ہے کہ ہم 3لاکھ بہاری آج 50سال گزرنے کے باوجود بنگلہ دیش میںپاکستان واپسی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستانی سروے کے مطابق 1کروڑ سے بھی زائد غیرملکی پاکستان میں غیرقانونی طور پر آباد ہو چکے ہیں قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا، ہمارے اپنے مسلمان بھائی جو اب ڈھائی 3لاکھ ہیں، اگر وزیراعظم پاکستان عمران خان یا صدر پاکستان عارف علوی اس سنگین مسئلے کو حل کرکے ان محصورین کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں لا کر آباد کر دیں تو کھربوں کی کرپشن کے سامنے ان پر چند ارب روپے لگیں گے۔ وہ پاکستان بھی آسکیں گے اور انسانیت کو بھی چین آجائے گا۔ چودھری شجاعت نے بھی ان کو لانے کا وعدہ کیا تھا آج وہ عمران خان کی حکومت کے پارٹنر ہیں لہٰذا عمران خان کو بھی ان کو لانے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔میری حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا ان کو پاکستان لا کرآباد کیا جائے تو ان کی دعائیں ساری عمر ہمارے کام آئیں گی۔ 50سال گزرنے کے باوجود اگر ہم ان کو نہیں لا سکے تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔