شام کے شہر حلب میں سرکاری افواج اور شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف ) کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہو گیا ہے، ایس ڈی ایف حملوں میں 9 شہری جاں بحق اور 55 زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ایک شامی فوجی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ شامی فوج نے حلب کے شیخ مقصود اور اشرفیہ اضلاع میں ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر بھرپور توپ خانے سے حملے شروع کر دیے ہیں، کارروائیاں ایس ڈی ایف کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایس ڈی ایف نے حلب کے المیدان علاقے کو توپ خانے اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچا۔
شام کی وزارتِ صحت کے مطابق ایس ڈی ایف کے حملوں میں اب تک 9 شہری جاں بحق جبکہ 55 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور بعض کی حالت تشویشناک ہے۔
تاہم ایس ڈی ایف کے میڈیا آفس نے شامی حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری افواج مسلسل تیسرے روز بھی اشرفیہ کے رہائشی علاقوں پر توپ خانے اور ٹینکوں سے گولہ باری کر رہی ہیں، جس سے شہری آبادی شدید خطرے میں ہے۔