آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسکولوں کو کھولنے پر فلوریڈا پر مقدمہ

نیویارک: پیٹر ویلز

فلوریڈا کی سب سے بڑی اساتذہ کی یونین نے آئندہ ماہ اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے ایک مقدمہ دائر کیا ہے،کیونکہ ریاست میں مسلسل چھٹے دن 10 ہزار سے زائد کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پیر کے روز میامی میں دائر مقدمہ کا مقصد فلوریڈا کے ایجوکیشن کمشنر کے ہنگامی آرڈر کو منسوخ کروانا ہے جس میں اسکولوں کو ہفتے میں کم سے کم پانچ دن کھلے رہنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور اگست میں نئے تعلیمی سال کے آغاز سے مکمل خدمات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔

فلوریڈا ایجوکیشن ایسوسی ایشن یونین کے صدر ، فیڈرک انگرام نے اس حکم کو "لاپرواہی" اور "غیر آئینی"قرار دیا ، جس کو گورنر رون ڈی سنٹس کی حمایت حاصل ہے ۔

فلوریڈا میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 10 ہزار 347 نئے کیسز اور 92 اموات رپورٹ ہوئیں۔ ریاست میں وبائی مرض پھیلنے کے آغاز سے اب تک 3 لاکھ 60 ہزار افراد کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آچکا ہے اور 5 ہزار 183 اموات ہوچکی ہیں، اور امریکا میں کورونا وائرس کا یہ نیا مرکز ثابت ہوا ہے۔

وائٹ ہواؤس نے گرمیوں کے اختتام پر اسکولوں کو دوبارہ کلاسیں شروع کرنے پر زور دیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسکولوں کے وفاقی فنڈز روک لیں گے جو کلاسیں لینے کا دوبارہ آغاز نہیں کرتے، تاہم انہیں کانگریس کی منظوری کے بغیر اس طرح کی مالی اعانت روکنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

اسکول دوبارہ کھلنے کی بحث نے امریکا بھر میں طے کردہ نقطہ نظر کا بے ربط نظریہ پیدا کیا ہے۔نیوجرسی کے گورنر فل مرفی نے کہا کہ ریاست کا محکمہ تعلیم جلد ہی رہنمائی جاری کرے گا جس کی مدد سے والدین اپنے بچوں کے لیے دور دراز کی تعلیم کا انتخاب کریں گے اور انہوں نے مزید کہا کہ اس میں بہت سارے فعال حصے ہیں۔

کیلی فورنیا نے گزشتہ جمعہ کو ہدایت نامہ طے کیا تھا جوممکنہ طور پر کورونا وائرس کے مسلسل پھیلاؤ کی وجہ سے ریاست کے بیشتر اسکولوں کوذاتی طور پر سیکھنے کیلئے اسکول آنے سے روک دے گا۔اسکولوں کے دو سب سے بڑے اضلاع لاس اینجلس اور سان ڈیاگو نے کچھ دن پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ طلباء کو کلاس رومز میں واپس جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اگست کے اوائل تک نیویارک میں اسکول دوبارہ کھولنے کے بارے میں فیصلہ متوقع ہے۔

گزشتہ پیر کو ایک ہفتے کے دوران امریکا نے کورونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات میں سب سے کم اضافے کی اطلاع دی ہے،چونکہ متعدد وباء کے پھیلاؤ کی مرکز ریاستوں نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ عروج کے بعد کورونا وائرس کے کیسز میں کمی آئی ہے۔

گزشتہ اتوار کو کوڈ ٹریکنگ پروجیکٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں مزید 57 ہزار 948 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

فلوریڈا میں سب سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا گیا، مسلسل چھ دن 10 ہزار سے زائد کیسزسامنے آئے،اس کے بعد کیلی فورنیا میں 6ہزار 846 نئے کیسز اور ٹیکساس میں 7ہزار404 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ لوزیانا میںایک دن میں ریکارڈ 3 ہزار 186 کیسز کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔

رپورٹنگ میں ہفتے کے آخر کی وجہ سے ہونے والی تاخیر سے گزشتہ پیر کو اعداد وشمار ہفتے کے دیگر دنوں سے کم ہوتے ہیں۔

کووڈ ٹریکنگ پروجیکٹ کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے فنانشل ٹائمز کے حساب کتاب کے مطابق اگرچہ امریکا میں مجموعی طور پر ایک ہفتے میں پہلی باراضافہ 60،000 سے کم رہا ، 16 ریاستوں نے گزشتہ پیر کو ایک دن میں 1،000 سے زیادہ کیسوں میں اضافے کی اطلاع دی ۔قومی سطح پر 365 ہلاکتوں میں فلوریڈا میں زیادہ تعداد رہی۔ٹیکساس میں ہلاکتوں کی تعداد پہلی بار 62 سے بڑھ کر 4ہزار سے تجاوز کرگئی۔

کورونا وائرس کی پہلی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے نیویارک میں گزشتہ پیر کو صرف 519 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جیسا کہ انفیکشن اور اسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔

نیویارک سٹی دوبارہ کھلنے کے چوتھے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے،جس میں چڑیا گھر اور باغات، فلم اور ٹیلی ویژن پروڈکشن اورتماشائیوں کے بغیر پروفیشنل اسپورٹس شامل ہیں۔ ہوٹل کے اندر بیٹھ کر کھانا ابھی بھی زیرغور ہے۔

تاہم نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو نے خاص طور پر نیویارک میں دوبارہ کھولے گئے بارز اور ریستورانوں میں معاشرتی فاصلے کے نفاذ پر عمل نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا،اور تعمیل میں بہتری نہ ہونے کی صورت میں پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی۔

آبادی کے لحاظ سے امریکا کے تیسرے بڑے شہر شکاگو کے حکام نے کہا کہ کورونا کیسز میں حالیہ اضافے کی وجہ سے ریستورانوں، بارز اور جمزپر دوبارہ پابندی عائد کی جائے گی اور نجی نوعیت کے اجتماعات کو محدود کیا جائے گا۔

شکاگو کے میئر لوری لائٹ فوٹ نے کہا کہ اگرچہ ہم اس سال کے شروع کےوبائی مرض کی چوٹی کے قریب نہیں پہنچے،تاہم ہم میں سے کوئی بھی دوبارہ اس مقام پر واپس جانا نہیں چاہے گا، اورہمارے خیال میں ان پابندیوں سے وباء کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

شکاگو کے محکمہ صحت عامہ کے کمشنر ایلیسن اروادی نے پیر کو اعلان کیا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 192 کیس رپورٹ ہوئے،مئی میں شہر میں وباء کے عروج کے دوران 1000 سے زیادہ کی سطح کے مقابلے میں سات دن کا اوسط 233 پر آگیا ہے۔

ڈاکٹر ایلیسن اروادی نے کہا کہ شہر میں جو صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں شکاگو جلد ہی یومیہ 200 کیسز پر واپس آسکتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں کیسوں میں اضافے کا سامنا کرنے والی چند ریاستوں نے گزشتہ پیر کو نئے انفیکشن کی شرح کم ہونے کی اطلاع دی ، اگرچہ کہ ہفتے کے آخر میں رپورٹنگ میں تاخیر کی وجہ سے ہفتے کے آغاز میں اعدادوشمار کم ہوتے ہیں۔

ایریزونا میں 1559 کیسز اور 23 اموات کی اطلاع ملی ہے، یہ گزشتہ پیر کے بعد سب سے کم ہیں جبکہ شمالی کیرولینا میں 30 جون کے بعد 1268 کیسز کے ساتھ یومیہ سب سے کم اضافہ ہوا۔

فنانشل ٹائمز سے مزید