آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عید ِقربان گزر گئی لیکن بازارِ سیاست کی بکر منڈی میں مستقبل کے سودوں کے لئے ابھی تک گہما گہمی جاری ہے۔ دُنبے، کجلے، پہاڑی بکرے، بیتل، مکھی چینے، بچھڑے اور ہر نسل کے صحرائی اونٹ تک حسبِ منشا قیمت پر دستیاب ہیں اور عوام کا جمِ غفیر انواع و اقسام کے ان نسلی سیاسی جانوروں کی کبھی چال ڈھال دیکھتا ہے تو کبھی ان کے دوندے، چوگے، چھگے ہونے پر شک کرتا ہے۔ عیدالاضحی کورونا ایس او پیزکے تحت ایسے گزری جیسے ہمارے کجلے، مکھی چینے، پہاڑی بکرے سیاست دان باہمی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں تمام سیاسی روایات کا شیرازہ بکھیرتے، اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑتے، قانون سازی کے نام پر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ عوام تو ہوتے ہی کھیرے (بغیر دانت کے) بکرے ہیں۔ جب چاہیں ان کی گردن پر چھری پھیر دیں، ان کی تو آہ بھی نہیں نکلتی۔ حکومت نے اس بار بھی عوام کی عید کی خوشیاں غارت کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی گردن پر مہنگائی کی چھری پھیرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کوئی انہیں سمجھانے والا نہیں کہ عوام کون سا یہ ملک چھوڑ کر بیرون ملک بھاگنے والے ہیں۔ اگر ان کا خون نچوڑ کر ہی معیشت مستحکم کرنا مقصود ہے تو کچھ دن تو سانس لینے دیں۔ ہمارے کپتان صاحب! مافیا کا گٹھ جوڑ توڑنے کے دعوے تو بڑے کرتے ہیں لیکن مافیا کے ساتھ ہی اتحاد کئے بیٹھے ہیں۔ یہ کیسی ریاستِ مدینہ ہے کہ جہاں ہر کوئی اپنی مرضی کے دام وصول کررہا ہے اور جب کسی کی چوکھی دیہاڑی لگ جاتی ہے تو ریاستِ مدینہ کا انصاف بھی جاگنے لگتا ہے اور انصاف کے نام پر بلند بانگ دعوے بھی کئے جاتے ہیں اور پھر دو چار اپنے ہی مانگے تانگے کے وزیروں، مشیروں سے استعفے بھی لے لئے جاتے ہیں لیکن انہیں قانون، انصاف و احتساب کے کٹہرے میں لانے کی ان میں ہمت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مستعفی ہونے والوں پر کرپشن، اقربا پروری، خلافِ قانون اختیارات کے ناجائز استعمال یا آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات ہیں تو پھر ان دہری، تہری شہریت والوں کو بھاگنے کیوں دیتے ہیں، انہیں انصاف کے تالاب میں غوطے دے کر جو کچھ کھایا پیا ہے سب کچھ اگلوائیں لیکن ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ بےلگام مافیا دن بہ دن پاکستان کو کھائے جارہے ہیں۔ اب تو شوگر مافیا بیرون ملک سے اپنا چوکھا رنگ دکھا رہا ہے اور یہ مافیا اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اس کے سیاسی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو جاتی اور وہ اپنی انتخابی سرمایہ کاری کا ایک ایک پیسہ وصول نہیں کر لیتا۔ اسی مافیا کے چھوٹے پرزے گندم بحران کے بھی ذمے دار ہیں اور وہ حکمرانوں سے اپنی عداوت کا انتقام صرف اور صرف عوام سے لے رہے ہیں۔ عوام اگرچہ انصاف کے نام پر انتقام کی اس سیاست سے عاجز آچکے ہیں اور اس حد تک مایوس ہیں اور چاہتے ہیں کہ صدقے کے ان سیاسی بکروں کی قربانی دے کر اگر مہنگائی، بےروزگاری، غربت سے جان چھوٹتی ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں کہ کپتان جس کے گلے پر بھی احتساب کی یہ کُند چھری پھیرنا چاہتا ہے جلدی پھیرے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون اس چھری تلے آتا ہے کیونکہ ماڈل ٹائون لاہور کی سیاسی بکر منڈی میں گزشتہ دنوں پنجابی، سندھی اور پہاڑی بکروں کے دام بہت اونچے تھے۔ ہر کوئی ان کا بھائو بڑھا رہا تھا لیکن منڈی کے اختتام پر پنجابی بکرے کی ایک ٹکر نے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ قربانی کے ہر جانور نے آنا تو آخر کار چھری تلے ہی ہے، پوری سیاسی منڈی کا عید سے قبل بھائو گرا کر توازن ہی بگاڑ دیا اور کورونا کے خوف سے صرف آن لائن قربانی پر ہی اکتفا کیا جس کے نتائج سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تازہ قانون سازی کے دوران بڑے واضح طور پر نظر آئے کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔ جب چاند رات کو بکرے کو واضح طور پر قصائی کی چھری نظر آنے لگتی ہے تو ہر طرف چیخ پکار سنائی دیتی ہے لیکن عید کے روز جب گردن چھری تلے آتی ہے تو ایک طویل خاموشی چھا جاتی ہے۔ اب کپتان کے کندھوں سے بھی بوجھ اتر گیا۔ اسے بھی اپنی طاقت کا اندازہ ہو گیا کہ اب وہ اپنی سوچ اور نظریے پر ڈٹ کر آگے بڑھے گا، اسے بھی یہ احساس ہو چکا ہے کہ میرا مشکل وقت گزر گیا اب وہ جو چاہے، جس طرح چاہے اس نظام، جمہوریت، معیشت کو چلا سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اسے مکمل تحفظ حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے معاون خصوصی یا مشیر مقرر کرے۔ اب اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں اور نہ ہی وہ پہلے کسی کا دبائو قبول کرتا تھا نہ اب کرے گا۔ اسے اب اپوزیشن کی اے پی سی کا بھی کوئی خوف نہیں۔ وہ سب جانتا ہے کہ بھان متی کا یہ کنبہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا خصوصاً ماڈل ٹائون میں شہباز بلاول بیٹھک کے نتائج تو یہی کہتے ہیں کہ اپوزیشن سو پیاز بھی کھائے گی اور سو جوتے بھی۔ قربانی کے اختتام پرتحقیق یہ بتاتی ہے کہ جانور ذبح کرنے والے کو قصائی کہتے ہیں لیکن درست لفظ ’’قسائی‘‘ ہے جو ’’قساوت‘‘ سنگ دلی سے نکلا ہے یعنی کھال بھی کسائی کی اور ران بھی۔ عوام کی گردن پر چھری پھیرنے کا چوکھا معاوضہ بھی اسی کا حق۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)